Column

پانی بھرنے سے میری جندڑی چھوٹ گئی

پانی بھرنے سے میری جندڑی چھوٹ گئی
تحریر: رفیع صحرائی
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل صوبائی حکمرانی کے موجودہ انجام نے بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس جماعت نے اقتدار کے لیے بڑے بڑے انقلاب برپا کرنے کے دعوے کیے تھے، اس کی حکومت ختم ہونے پر وہ عوامی ردعمل کیوں دکھائی نہیں دیا جس کی توقع اور دعوے کیے جا رہے تھے۔کبھی چالیس لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کے دعوے کیے گئے، مگر صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاج کی شدت اتنی کم دکھائی دی کہ خود پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں کو اپنے سیاسی سفر کا جائزہ لینے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
پی ٹی آئی جب وفاق میں اقتدار میں آئی تو اس کے وعدے بھی غیرمعمولی تھے۔ دو سو ماہرین کی ٹیم، سو دن میں معیشت کی اصلاح، بیرون ملک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، قرضوں سے نجات اور پاکستان کو راکٹ کی رفتار سے ترقی دینے کے دعوے کیے گئے۔ اسد عمر کو معیشت کا ایسا ماہر تصور کیا گیا جس سے غیرمعمولی توقعات وابستہ تھیں۔ بعض وزرا کی طرف سے بیرون ملک سے دو سو ارب ڈالر تک آنے کی خوش خبریاں سنائی گئیں۔ بانی پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دینے تک کا دعویٰ کیا، مگر اقتدار کے عملی تقاضے سامنے آئے تو سعودی عرب سے مالی مدد بھی لینی پڑی اور آئی ایم ایف سے قرض بھی لینا پڑا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کرنا بذاتِ خود جرم نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جب آپ عوام سے یہ وعدہ کریں کہ آپ دوسروں سے قرض مانگنے کے بجائے ملک کو اپنے وسائل پر کھڑا کر دیں گے تو پھر وعدے اور کارکردگی کے درمیان اتنا بڑا فاصلہ کیوں پیدا ہوا؟۔
اس مقام پر سیاسی مبالغہ خود سیاسی نقصان بن جاتا ہے۔ وفاق میں پی ٹی آئی کو تین سال سات ماہ اور اکیس دن حکومت کرنے کا موقع ملا۔ حکومت کے آخری دنوں میں صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ خود اس کے کارکن بھی کارکردگی کا دفاع کرنے کے بجائے مایوسی کا اظہار کرنے لگے تھے۔ کرپشن کے خلاف جہاد کو اپنی سیاست کا مرکزی نکتہ بنانے والی جماعت کو خود کرپشن کے مقدمات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو بھی کرپشن کیس میں سزا سنائی گئی اور بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں۔ عدالتوں کے فیصلوں پر قانونی بحث اپنی جگہ، مگر سیاسی اعتبار سے یہ صورت حال پی ٹی آئی کے احتسابی بیانیے کے لیے ایک بڑا سوال ضرور بن گئی۔تاہم اصل امتحان خیبر پختونخوا تھا، جہاں پی ٹی آئی کو ایک نہیں، مسلسل کئی مواقع ملے۔
2013ء سے صوبے میں اس جماعت کا اقتدار مختلف شکلوں میں جاری رہا۔ اتنے طویل عرصے کے بعد عوام کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ صحت، تعلیم، امن و امان، روزگار، انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتوں کے میدان میں وہ بڑی تبدیلی کہاں ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟صوبے میں دہشت گردی کا مسئلہ بدستور سنگین رہا۔ فوج، پولیس اور عام شہریوں نے جانیں قربان کیں۔ خاندان اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کا سب سے بڑا فرض عوام کے دکھ میں شریک ہونا، شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور امن کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی پیش کرنا ہوتا ہے۔ وفاق سے اختلاف اپنی جگہ، مگر صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری اپنے صوبے کے عوام کے سامنے ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے خیبرپختونخوا کی سیاست کا بڑا حصہ مرکز سے محاذ آرائی کے گرد گھومتا رہا۔ اسلام آباد پر چڑھائی، احتجاجی مارچ، سیاسی بیانات اور گرفتاریوں کے خلاف ردعمل نے صوبائی حکومت کی انتظامی ترجیحات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو کم اور سیاسی تصادم پر گفتگو زیادہ ہونے لگی۔اس سارے منظرنامے میں پی ٹی آئی کی درمیانی اور نچلی سطح کی قیادت بھی مسلسل دبائو کا شکار رہی۔ ایک طرف حکومت اور ریاستی اداروں کا دبائو، دوسری طرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے احکامات اور تیسری طرف سوشل میڈیا کے بے رحم دبا نے منتخب نمائندوں کو مشکل صورت حال میں ڈالے رکھا۔ بعض اوقات ایسے کارکنوں اور رہنماں سے بھی ہزاروں ساتھیوں سمیت بڑے اجتماعات میں شرکت کا مطالبہ کیا جاتا رہا جو خود گرفتاری کے خوف سے چھپتے پھر رہے تھے۔
یہ طرزِ سیاست کسی بھی جماعت کی تنظیمی صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دائمی جنگ بنا دینا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ مذاکرات اگر کامیاب نہ ہوں تو دوبارہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ پارلیمان موجود ہو تو سڑک کو آخری عدالت نہیں بنانا چاہیے۔ صوبائی حکومت ہو تو اسے وفاق سے لڑنے کے ساتھ ساتھ صوبے کے اسکول، اسپتال، سڑکیں، پولیس اور معیشت بھی دیکھنی چاہیے۔اب سوال یہ ہے کہ موجودہ بحران تک نوبت کیسے پہنچی؟۔
صوبائی قیادت کے وفاق کو مسلسل چیلنجز، اسلام آباد کی طرف مارچ، مذاکرات میں عدم پیش رفت اور بالآخر ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے انتہائی اقدامات نے صورت حال کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں منتخب حکومت کی بقا ہی سوال بن گئی۔ اگر واقعی صوبائی حکومت کے خلاف کوئی منصوبہ بنایا گیا تھا تو یہ جمہوریت کے لیے تشویش ناک ہے، لیکن اگر حکومت نے خود اپنے سیاسی فیصلوں سے اپنے لیے مشکلات پیدا کیں تو اسے بھی اس حقیقت سے فرار نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ہمارے ایک بزرگ سردار شاہ کا سنایا ہوا واقعہ یاد آتا ہے۔ پرانے زمانے میں عورتیں دور دراز کنوئوں سے پانی بھر کر لاتیں۔ ایک روز ایک نوبیاہتا لڑکی پانی سے بھرا گھڑا سر پر اٹھائے واپس آ رہی تھی کہ اچانک ٹھوکر لگی اور گھڑا زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔ دوسری عورتوں نے افسوس کیا تو وہ لڑکی مسکرا کر بولی: ’’ اچھا ہوا جو میری گھڑیا پھوٹ گئیپانی بھرنے سے میری جندڑی چھوٹ گئی‘‘۔ آج خیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال دیکھ کر یہ واقعہ بے اختیار یاد آتا ہے۔ کیا معلوم پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کے ایک حصے نے بھی حکومت کے خاتمے کے بعد دل ہی دل میں یہی کہا ہو کہ اچھا ہوا گھڑیا ہی پھوٹ گئی، روز روز کے سیاسی معرکوں، احتجاجوں، دبائو اور محاذ آرائی سے جان تو چھوٹی!
اگر گورنر راج یا ایمرجنسی کے بعد احتجاج محدود رہا ہے اور عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں نکلے تو اسے صرف ’’ ریاستی دبائو‘‘ کہہ کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے مواقع پر اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔ عوام اگر خاموش رہیں تو خاموشی بھی ایک سیاسی پیغام ہوتی ہے۔ گھڑا ٹوٹنے پر وقتی سکون ضرور مل سکتا ہے، مگر سیاست کا سفر گھڑے کے بغیر طے نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کے سامنے اب اصل سوال یہ نہیں کہ گھڑیا کس نے توڑی؟، اصل سوال یہ ہے کہ اگلا گھڑا کون بنائے گا، کس مٹی سے بنائے گا اور اس میں پانی کس کے لیے بھرے گا؟۔

جواب دیں

Back to top button