Column

افغانستان کی پاکستان مخالف دوغلی پالیسی

اداریہ۔۔۔۔
افغانستان کی پاکستان مخالف دوغلی پالیسی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات محض جغرافیائی قربت، مذہبی رشتوں یا مشترکہ تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ممالک کا امن، استحکام اور معاشی مستقبل بھی ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کی، مشکل حالات میں ان کی مدد کی اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ افغان طالبان حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو محض الزام تراشی یا تردید کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر بجاطور پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے کابل انتظامیہ اپنی ذمے داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کہاں ہیں؟ اگر افغان طالبان حکومت کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی تو اسے اس دعوے کو قابلِ تصدیق اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا۔ محض بیانات، انکار اور جوابی الزامات سے سرحد پار حملوں کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے خدشات کو بے بنیاد قرار دینا بھی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ سمیت مختلف بین الاقوامی جائزوں میں افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں اور افغان طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات کے حوالے سے دعوے اور جائزے سامنے آئے ہیں۔ ان رپورٹس میں بیان کردہ معلومات پاکستان کے ان خدشات کی اہمیت واضح کرتی ہیں جنہیں افغان طالبان حکومت مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ ایسے میں ذمے دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا ہے کہ کابل ان سوالات کا سنجیدہ جواب دے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ پاکستان کے لیے تحریک طالبان پاکستان محض ایک سیاسی اختلاف کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی مسلح تنظیم کا خطرہ ہے جس کے حملوں میں پاکستانی شہری، سیکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان جانیں گنوا چکے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں شہریوں اور اہلکاروں کی قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے امن کو کسی گروہ کی سرحد پار کارروائیوں کے ذریعے دوبارہ خطرے میں نہیں پڑنے دیا جاسکتا۔ افغان طالبان حکومت اگر واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے معاملے میں واضح، دوٹوک اور قابلِ عمل پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان کی تشویش صرف بیانات تک محدود نہیں۔ پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوششیں، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں افغان شہریوں یا دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات اور غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی جیسے معاملات سنجیدہ تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان امور پر سوالات اٹھانا پاکستان کا حق ہے۔ کسی بھی خودمختار ریاست کی پہلی ذمے داری اپنے شہریوں کی جان و مال اور اپنی سرحدوں کا تحفظ ہے۔ پاکستان بھی اسی اصول کے تحت اقدامات کرتا ہے۔ ان اقدامات کو افغان عوام کے خلاف دشمنی قرار دینا درست نہیں، کیونکہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف دہشت گردی کا خطرہ ہے، نہ کہ افغانستان کے عام شہری۔ اسی طرح پاکستان پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ افغانوں کو طالبان یا ان کے حامی گروہوں کے خلاف مسلح کر رہا ہے، اگر شواہد کے بغیر پیش کیا جائے تو یہ محض الزام تراشی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے درست نشان دہی کی ہے کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کو افغان شہریوں کی بھرتی یا مسلح گروہوں کی سرپرستی سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔ ایسے دعووں کی بنیاد اگر کوئی قابلِ اعتماد ثبوت ہے تو اسے سامنے لایا جائے، بصورت دیگر ان کی تکرار صرف اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کا سبب بنے گی۔ پاکستان کو اپنے دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے کسی بیرونی کردار کی فرضی کہانیوں کے ذریعے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ افغان طالبان حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے ساتھ ذمے داری آتی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے اگر کوئی تنظیم پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے، تربیت حاصل کرتی ہے یا سرحد پار کارروائیاں کرتی ہے تو کابل انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ اسے روکے۔ دہشت گردی کے معاملے میں خاموشی، چشم پوشی یا مثر کارروائی سے گریز خطے کے امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کا امتحان اس کے دعووں سے نہیں، بلکہ اس کے عملی اقدامات سے ہوتا ہے۔ طالبان حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ افغانستان کسی بھی ایسی تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا جو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف تشدد کو فروغ دے۔پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کا بنیادی اصول بھی یہی ہونا چاہیے کہ دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے رہیں، لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ پاکستان ذمے دارانہ بات چیت، باہمی احترام اور قابلِ تصدیق یقین دہانیوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب دونوں جانب سے بنیادی ذمے داریاں پوری کی جائیں۔ افغان طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ پیمائش اقدامات کرنا ہوں گے اور اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔ دونوں معاشروں کو دہشت گردی، غربت، بے روزگاری اور عدم استحکام سے نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کا مطالبہ کسی ملک کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ اپنی سرزمین اور شہریوں کو محفوظ بنانا ہے۔ افغان طالبان حکومت کو الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر زمینی حقائق کا سامنا کرنا چاہیے۔ اگر کابل واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائی، محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور سرحدی دراندازی روکنے کے اقدامات سے اپنا موقف ثابت کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ قومی ذمے داری ہے، اس ذمے داری کی ادائیگی پاکستان جاری رکھے گا۔
شذرہ۔۔۔۔
پولیو سے پاک پاکستان
پولیو محض ایک بیماری نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مستقبل، بچوں کی صحت اور قومی ترقی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ عالمی یوم انسداد پولیو کے موقع پر دنیا بھر میں اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ ہر بچے کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔ پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے آگاہی سرگرمیوں، واکس اور شعور بیدار کرنے کی مہمات کا انعقاد اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ پاکستان نے پولیو کے خاتمی کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، روٹری انٹرنیشنل اور دیگر ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسداد پولیو مہمات کو مزید مثر، منظم اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ ہر بچے تک ویکسین پہنچانا، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرنا اور والدین کے خدشات دور کرنا اس جدوجہد کے بنیادی تقاضے ہیں۔ پولیو ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں اور افواہیں اس قومی مہم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بعض والدین مختلف خدشات کے باعث اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے ویکسین نہایت اہم ہے۔ علما، اساتذہ، سماجی رہنماں اور ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ مستند معلومات عام کریں اور والدین کو اعتماد میں لیں۔ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون اور بچوں کو ہر مہم کے دوران ویکسین پلانا ہر خاندان کی ذمے داری ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنائے، ویکسین کی دستیابی برقرار رکھے اور دور دراز علاقوں سمیت ہر بستی تک رسائی ممکن بنائے۔ صفائی ستھرائی، محفوظ پانی اور صحت کی بنیادی سہولتوں میں بہتری بھی بچوں کی مجموعی صحت کے لیے ضروری ہے۔ عالمی یوم انسداد پولیو محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ قومی عہد کی تجدید کا موقع ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پولیو سے پاک پاکستان ہی صحت مند، مضبوط اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر حکومت، والدین اور معاشرہ یکجا ہو جائیں تو ہر بچے کو معذوری سے بچانے اور پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button