
میں فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو انتخابات سے محض چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر یہ غیر معمولی وضاحت دینا پڑی ہے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو اسرائیلی فوج کے موجودہ سربراہ (چیف آف سٹاف) لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کے عہدے پر برقرار رہنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک حساس سکیورٹی معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ تنازع ایران پر کسی ممکنہ حملے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کارروائی کے بارے میں تھا جس کے متعلق جنرل زمیر کو خدشہ تھا کہ ایران اس کی غلط تشریح کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان اچانک فوجی کشیدگی یا تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔
حالیہ سکیورٹی مشاورتوں میں شریک متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اسے نا قابلِ تلافی سمجھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایال زمیر کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے امکانات کم ہیں۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے جبکہ نیتن یاہو نے خود بھی واضح کیا ہے کہ وہ چیف آف سٹاف کو برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔







