
اسرائیل کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران کا دورہ اس لیے کیا ہے تاکہ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ جاری جنگ کو رقم دے کر بند کرایا جاسکے۔
اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہایوم’ میں خلیجی خطے کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ریاض، ایران کی وساطت سے حوثی باغیوں کو ایک ارب ڈالر کی رقم منتقل کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی وزیر دفاع یہ رقم ہرکیولیس ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے میں اپنے ساتھ لائے تھے، تاہم کسی بھی سعودی اہلکار نے اس رقم کی منتقلی یا فراہمی کے دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔
تہران میں ہونے والے ان اہم سفارتی مذاکرات میں ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی، دونوں ممالک مکہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی اور پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر حکام نے کی۔
ایرانی حکام نے اس موقع پر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، کیونکہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث خطے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں سے تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے دورۂ ایران سے متعلق ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس کے رکن ممالک کے نمائندوں کا یہ دورہ جاری بحران میں تناؤ کو کم کرنے، سفارتی حل کو فروغ دینے اور قطر و پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا حصہ ہے۔
اگرچہ سعودی حکام نے رقم منتقل کرنے کے دعوے کی تصدیق سے گریز کیا ہے، تاہم، رپورٹ کے مطابق ایک سعودی ذمہ دار نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ تنازع کی بڑی وجہ تین سال قبل طے پانے والے ان تفہیمی معاہدوں پر عمل درآمد ہے، جن کے تحت سعودی عرب نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور شہری ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد فراہم کرنا تھی، جس کے بدلے حوثیوں کو حملے روکنا تھے۔







