مفادات کی زنجیروں میں جکڑے رشتے

مفادات کی زنجیروں میں جکڑے رشتے
تحریر: عابد ضمیر ہاشمی
ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ یہ ہے کہ انسانی تعلقات میں خلوص کی جگہ مفاد، محبت کی جگہ ضرورت اور وفاداری کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے۔ بظاہر مسکراتے چہرے، محبت بھرے لہجے اور اپنائیت کے دعوے اپنی جگہ، لیکن ان سب کے پیچھے چھپی غرض کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی انسان کے حالات بدلتے ہیں۔ جب تک وہ کسی کے کام آتا رہے، اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے؛ جونہی اس کی افادیت ختم ہوتی ہے، اس کے گرد جمع ہونے والے لوگوں کا ہجوم بھی آہستہ آہستہ چھٹنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو تعلقات کی حقیقت اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کے کردار کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ سوال آج ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک سنجیدہ تبصرے کی حیثیت رکھتا ہے کہ آخر کب کون کسی کا ہوتا ہے؟ کیا تعلقات محض ضرورتوں کے تابع ہو چکے ہیں؟ کیا محبت اور خلوص بھی کسی فائدے کے حصول کا ذریعہ بن گئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اپنے معاشرتی رویوں، اخلاقی اقدار اور انسانی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
مشکل وقت؛ رشتوں کی اصل کسوٹی انسان کی زندگی میں خوش حالی اور بدحالی، کامیابی اور ناکامی، عروج اور زوال ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کوئی بھی شخص ہمیشہ ایک جیسی حالت میں نہیں رہتا۔ آج جس کے پاس وسائل ہیں، کل اسے مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے، آج جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے، کل خود کسی کی توجہ، ہمدردی اور تعاون کا منتظر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مشکل وقت کو انسانی تعلقات کی اصل کسوٹی قرار دیا جاتا ہے۔ خوش حالی میں ساتھ دینے والے بہت مل جاتے ہیں، لیکن زوال میں ہاتھ تھامنے والے کم ہوتے ہیں۔ کامیابی کے جشن میں شریک ہونا آسان ہے، مگر ناکامی کے اندھیروں میں کسی کے ساتھ کھڑے رہنا حقیقی خلوص کا تقاضا کرتا ہے۔ افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ بعض لوگ کسی کی کامیابی میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں، لیکن اس کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے یا اسے سہارا دینے سے گریز کرتے ہیں۔ جب تک کسی سے فائدہ حاصل ہونے کی امید باقی ہو، اس کے لیے وقت بھی نکل آتا ہے اور الفاظ بھی؛ لیکن جب ضرورت ختم ہو جائے تو برسوں کے تعلق کو چند لمحوں میں فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف متاثرہ شخص کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیتا ہے۔ جب انسان بار بار بے لوث تعلقات کے نام پر مفادات کا تجربہ کرتا ہے تو اس کے لیے آئندہ کسی پر اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اپنوں کی بے اعتنائی کا دکھاجنبی کی بے رخی انسان برداشت کر لیتا ہے، کیونکہ اس سے توقعات محدود ہوتی ہیں، مگر جب کوئی اپنا منہ پھیر لے تو اس کا دکھ کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے لیے انسان اپنی مصروفیات ترک کرتا ہے، اپنی ضروریات موخر کرتا ہے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر آسانیاں پیدا کرتا ہے، اگر وہی لوگ اس کی ضرورت کے وقت لاتعلق ہو جائیں تو یہ تجربہ محض مایوسی نہیں، انسانی اعتماد کے لیے ایک گہرا دھچکا بن جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی انسان کو مالی مدد سے زیادہ ایک تسلی بخش جملے، چند لمحوں کی توجہ اور احساسِ شرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے، اس کی پریشانی کو سمجھے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اپنی مشکل میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن جب ایسے وقت میں بھی بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑے تو انسان بظاہر خاموش رہتا ہے، مگر اندر ہی اندر کئی سوالات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔
اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ کہنا درست نہیں کہ دنیا میں تمام تعلقات مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی کی حیثیت نہیں، اس کی انسانیت دیکھتے ہیں؛ جو مشکل وقت میں احسان جتانے کے بجائے سہارا دیتے ہیں؛ جو کامیابی میں خوش ہوتے ہیں اور ناکامی میں حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ ان کے لیے تعلق کسی فائدے کا معاہدہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہوتا ہے۔ ایسے افراد کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ مادیت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باوجود انسان کے اندر احساس، ہمدردی اور بے لوث محبت کی شمع بجھی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی قدر کریں، ان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائیں اور اپنی عملی زندگی میں بھی ان اقدار کو اپنائیں جن کی دوسروں سے توقع رکھتے ہیں۔ انسان کی اصل عظمت اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے لیے اس کی افادیت میں پوشیدہ ہے۔ جہاں کسی انسان کو اس کی مالی حیثیت کی بنیاد پر عزت نہ دی جائے، جہاں کمزور ہونا بے وقعت ہونے کے مترادف نہ ہو اور جہاں تعلقات کو ذاتی مفادات کے بجائے انسانی اقدار کی بنیاد پر قائم رکھا جائے۔ انفرادی سطح پر بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی حدود متعین کریں، ہر شخص کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنی عزتِ نفس قربان نہ کریں اور تعلقات میں باہمی احترام کو بنیادی اہمیت دیں۔ تاہم چند لوگوں کے منفی رویوں کی وجہ سے پوری انسانیت سے بدگمان ہو جانا بھی درست نہیں۔ دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے مستقل رویوں سے پہچانیں، جذبات میں آ کر فیصلے نہ کریں اور اپنے دل میں خلوص کے لیے جگہ برقرار رکھیں۔
آخری بات کب کون کسی کا ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید زندگی کے تجربات دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ اس وقت تک رہتے ہیں جب تک ہمارے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ موجود ہو، جبکہ کچھ لوگ ہماری بے بسی میں بھی ہمارا ہاتھ تھامے رکھتے ہیں۔ پہلے رویے سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور دوسرے رویے کی قدر کرنی چاہیے۔ انسان کی زندگی کا اصل حسن اس میں نہیں کہ کتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کے قریب ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے لوگ اس کی ذات پر اعتماد کرتے ہیں، اس کے کردار کی قدر کرتے ہیں اور اس کی موجودگی کو کسی غرض کے بغیر اہم سمجھتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی بے وفائی سے سبق تو سیکھنا چاہیے، لیکن خود بے وفا نہیں بننا چاہیے۔ مفاد پرستی کے ماحول میں خلوص اختیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔





