Column

خوشحال دیہات یا بلدیاتی اختیار؟

خوشحال دیہات یا بلدیاتی اختیار؟
تحریر: رفیع صحرائی
پنجاب حکومت نے دیہات کو ترقی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کرنے کے لیے ’’ خوشحال دیہات ایکٹ 2026‘‘ متعارف کرانے اور ابتدائی طور پر 120دیہات کو ماڈل ویلجز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ منتخب دیہات میں سیوریج، نکاسی آب اور پختہ گلیوں سمیت بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ہر گاں میں آٹھ رکنی ویلیج کمیٹی قائم ہوگی جس میں چار عوامی اور چار سرکاری نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کمیٹی کا سربراہ اور ڈپٹی کمشنر نگرانی کریں گے۔
بلاشبہ پنجاب کے دیہات کو بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی ایک خوش آئند اقدام ہے۔ پاکستان کی اصل معاشی اور سماجی زندگی کا بڑا حصہ آج بھی دیہی علاقوں سے وابستہ ہے۔ وہاں پکی سڑک، صاف پانی، نکاسی آب، سیوریج، صحت، تعلیم، صفائی اور بہتر رہائشی ماحول کسی عیاشی کا نام نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہیں۔ اگر حکومت واقعی شہروں اور دیہات کے درمیان سہولتوں کا فرق کم کرنا چاہتی ہے تو اسے ضرور سراہا جانا چاہیے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کی یہ ترقیاتی کام آخر کس ادارے کی ذمہ داری ہیں؟
سیوریج، نکاسی آب، گلیوں کی تعمیر، صفائی، مقامی ترقی اور شہری و دیہی سہولتوں کی فراہمی بنیادی طور پر بلدیاتی نظام کے دائرہ کار سے متعلق امور ہیں۔ پھر اگر انہی کاموں کے لیے ایک الگ ویلیج کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر کرے اور نگرانی ڈپٹی کمشنر کے پاس ہو، تو کیا یہ سوال نہیں اٹھے گا کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندے اور بلدیاتی ادارے آخر کہاں کھڑے ہوں گے؟
یہ سوال حکومت پر الزام نہیں بلکہ نظامِ حکومت کی سمت کے بارے میں ایک سنجیدہ سوال ہے۔
دنیا بھر میں اچھی حکمرانی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جو مسئلہ مقامی سطح پر حل ہوسکتا ہو، اسے مقامی حکومت کے ذریعے حل کیا جائے۔ عوام اپنے علاقے کے نمائندوں کو اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ان کے گلی محلے، سیوریج، صفائی، پانی اور دیگر بنیادی مسائل حل کریں۔ اگر ان اختیارات کو کسی متوازی کمیٹی، سرکاری افسر یا سیاسی نگران کے ذریعے استعمال کیا جائے تو پھر عوامی نمائندگی کا عملی مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟ اگر یونین کونسلز کے کرنے والے کام ایک سلیکٹڈ کمیٹی نے کرنے ہیں تو پھر دیہات میں یونین کونسلز کے وجود کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔
پنجاب حکومت کے موجودہ منصوبے میں ارکانِ پنجاب اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو بھی اپنے اپنے دیہات کے ترقیاتی منصوبوں کا ’’ نگہبان‘‘ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہاں بھی ایک سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ایک ہی گاں میں بلدیاتی نمائندہ بھی موجود ہو، ویلیج کمیٹی بھی ہو، رکن اسمبلی بھی ترقیاتی منصوبے کا نگران ہو اور انتظامیہ بھی اس کی نگرانی کر رہی ہو تو ذمہ داری کا حتمی مرکز کون ہوگا؟
اختیار کئی ہاتھوں میں تقسیم ہو جائے تو بسا اوقات جواب دہی کسی کے پاس نہیں رہتی۔
اس خدشے کو اس لیے بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ پنجاب میں بلدیاتی اختیارات اور بیوروکریسی کے کردار پر پہلے ہی بحث ہوتی رہی ہے۔ 2025ء کے بلدیاتی قانون کے حوالے سے بھی یہ اعتراض سامنے آیا تھا کہ انتظامی ڈھانچے میں ڈپٹی کمشنر کا کردار منتخب بلدیاتی نمائندوں پر غالب آ سکتا ہے۔ لہٰذا ’’ خوشحال دیہات‘‘ کا منصوبہ اگر واقعی کامیاب بنانا ہے تو اسے بلدیاتی نظام کا متبادل نہیں بلکہ اس کا معاون بنانا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ ویلیج کمیٹیوں میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں کا کردار محض مشاورتی نہ ہو بلکہ انہیں واضح قانونی اور انتظامی اختیار دیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نگرانی اور انتظامی معاونت کریں، مگر مقامی ترقیاتی ترجیحات کا تعین عوام کے منتخب نمائندوں اور مقامی آبادی کی مشاورت سے ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسی وابستگی کو ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ اگر کسی علاقے کا رکن اسمبلی حکومت میں شامل جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو اس کا گاں زیادہ ترقی کا حق دار نہیں، اور اگر کوئی بلدیاتی نمائندہ مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے علاقے کے عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ترقی کا معیار ووٹ نہیں بلکہ ضرورت ہونی چاہیے۔
خوشحال دیہات پروگرام میں صرف پختہ گلیوں اور سیوریج کو کامیابی کا پیمانہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ خوشحال گائوں وہ ہوگا جہاں صاف پانی، معیاری اسکول، بنیادی صحت، زرعی سہولتیں، جدید منڈی تک رسائی، انٹرنیٹ، روزگار کے مواقع، صاف ماحول، بہتر سڑکیں اور مثر مقامی حکومت موجود ہو۔ دیہات کو صرف خوبصورت نہیں بلکہ معاشی طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔
پنجاب حکومت پہلے ہی ماڈل ویلج پروگرام کے دائرہ کار کو ہزاروں دیہات تک وسعت دینے کی منصوبہ بندی کر چکی ہے، اس لیے یہ محض 120دیہات کا تجربہ نہیں بلکہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر نافذ ہونے والی پالیسی بن سکتی ہے۔ اس لیے ابھی سے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ خوشحال دیہات کس کے ذریعے خوشحال ہوں گے۔ بیوروکریسی کے ذریعے، سیاسی نمائندوں کے ذریعے یا عوام کے منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے؟۔
بہتر جواب یہ ہے کہ تینوں اپنا اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کریں، مگر اختیار اور جواب دہی کا مرکز مقامی حکومت ہو۔ ورنہ خدشہ رہے گا کہ دیہات تو ماڈل بن جائیں گے، گلیاں بھی پکی ہوجائیں گی، نالیاں بھی بن جائیں گی، مگر عوام کے ووٹ سے وجود میں آنے والے بلدیاتی ادارے خود اختیارات کے منتظر رہ جائیں گے۔
ترقیاتی منصوبے صرف اینٹ، سیمنٹ اور ٹائلز کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جس میں اختیار بھی نچلی سطح تک منتقل ہو، فیصلہ سازی بھی مقامی ہو اور جواب دہی بھی عوام کے سامنے ہو۔
خوشحال دیہات کا خواب ضرور دیکھیں، مگر اس خواب کی بنیاد مضبوط بلدیاتی جمہوریت پر رکھیں۔ کیونکہ اگر دیہات کے مسائل حل کرنے کے نام پر مقامی حکومت ہی کمزور ہوگئی تو کل یہی سوال زیادہ شدت سے سامنے آئے گا کہ آخر عوام کو ووٹ دینے کا اختیار تو دیا گیا، مگر ان کے منتخب نمائندوں کو اختیار کیوں نہیں دیا گیا اور جہاں اختیار اور نمائندگی میں فاصلہ پیدا ہو جائے، وہاں ترقی کے ساتھ ساتھ ٹکرا کا امکان بھی پیدا ہوجاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button