سکونِ زندگی کا مختصر ترین فارمولا
سکونِ زندگی کا مختصر ترین فارمولا
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
زندگی میں سکون کی تلاش ہر انسان کو ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی کو مزید پیچیدہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ الفاظ بڑھتے جاتے ہیں، احساسات بوجھ بن جاتے ہیں، خواہشات کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے اور لوگوں کی رائے ہماری خوشی پر حاوی ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود دل مطمئن نہیں ہوتا۔
سنگ ریزے میں کبھی لکھا تھا’’ سکون کی تلاش میں، میں شب و روز بے سکون رہتا ہوں ‘‘۔ اس سے پتہ چلا کہ انسان بعض دفعہ جس چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے، خود اسی کے مخالف سمت جا رہا ہوتا ہے۔ اس کی کوششیں اسے منزل سے دور کر رہی ہوتی ہیں۔
بقول شاعر:
دائروں کے راہی تھے منزلیں کہاں ملتیں
بے مراد ہیں پائوں گرد راہ سے اٹ کر بھی
سو آگے بڑھنے سے پہلے رک کر سوچ لینا چاہیے کہ آپ کا رستہ منزل کی طرف جاتا بھی ہے یا ۔۔۔۔ کیوں کہ منزل سے زیادہ اہم راستہ ہوا کرتا ہے۔ اب آئیے زندگی کے سکون کا ایک مختصر سے فارمولے پر دھیان دیتے ہیں۔ الفاظ، احساسات، خواہشات اور افراد کو مختصر کر لیجیے۔ بظاہر یہ چار سادہ باتیں ہیں، لیکن ان میں زندگی کی بہت سی الجھنوں کا حل پوشیدہ ہے۔ آئیے ان پر دھیان دیتے ہیں، الفاظ مختصر کیجیے۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر الزام کی تردید کرنا اور ہر شخص کو اپنی نیت سمجھانا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اپنی صفائی میں اتنا کچھ کہہ جاتے ہیں کہ اصل بات ہی کہیں کھو جاتی ہے۔ ایک تلخ جملہ برسوں کا تعلق خراب کر سکتا ہے، جبکہ چند نرم الفاظ کسی اجنبی کو بھی اپنا بنا سکتے ہیں۔ گفتگو کی خوب صورتی الفاظ کی کثرت میں نہیں، ان کے درست انتخاب میں ہے۔ جہاں بولنا ضروری ہو، وہاں حق بات کہیے، جہاں خاموشی بہتر ہو، وہاں اپنی انا کو جواب دینے پر مجبور نہ کیجیے۔ یاد رکھیے، ہر بحث جیتنا ضروری نہیں؛ بعض اوقات خاموشی کے ساتھ اپنا سکون بچا لینا بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ احساسات مختصر کیجیے، اس کا مطلب بے حس ہونا نہیں، بلکہ ہر واقعے کو اپنے دل و دماغ پر سوار نہ ہونے دینا ہے۔ کسی نے سلام کا جواب بے دلی سے دیا، کوئی آپ کی توقع کی مطابق پیش نہیں آیا، کسی نے آپ کی قدر نہیں کی؛ کیا ضروری ہے کہ آپ سارا دن اسی ایک واقعے کو دہراتے رہیں؟ ممکن ہے دوسرا شخص اسے بھول چکا ہو، مگر آپ اسے اپنے ذہن میں زندہ رکھ کر خود کو تکلیف دیتے رہیں۔ دوسروں کے رویے ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے، لیکن ان رویوں کو اپنی پوری زندگی پر حاوی ہونے سے روکنا کسی حد تک ہمارے اختیار میں ہے۔ معاف کر دیجیے، مگر ضروری نہیں کہ ہر شخص کو دوبارہ وہی مقام بھی دے دیا جائے۔ دل میں کینہ رکھے بغیر حدود قائم کی جا سکتی ہیں۔ حساس رہیے، مگر ہر بات کو اپنی بے قدری کا ثبوت نہ سمجھیے۔ خواہشات مختصر کیجیے، انسان کی ترقی خواہش سے جنم لیتی ہے، لیکن بے لگام خواہش اسے کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتی۔ ایک ضرورت پوری ہوتی ہے تو دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ پڑوسی کی نئی گاڑی اپنی گاڑی کو پرانا بنا دیتی ہے، دوست کا بڑا مکان اپنے گھر کو چھوٹا محسوس کرانے لگتا ہے اور کسی دوسرے کی کامیابی اپنی محنت کو بے معنی دکھانے لگتی ہے۔
یوں انسان اپنی زندگی دوسروں کے پیمانے سے ناپنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ہر شخص کے حالات، ذمہ داریاں اور وسائل مختلف ہوتے ہیں۔ قناعت کا مطلب ترقی چھوڑ دینا نہیں، بلکہ ترقی کی کوشش کرتے ہوئے موجود نعمتوں کی قدر کرنا ہے۔ بہتر گھر بنائیے، مگر موجودہ گھر میں رشتوں کی حرارت کو نظرانداز نہ کیجیے۔ زیادہ کمائیے، مگر اس سفر میں اپنی صحت اور اپنوں کے لیے وقت قربان نہ کر دیجیے۔ کبھی خود سے پوچھیے: جس چیز کے لیے میں اپنا سکون دائو پر لگا رہا ہوں، کیا اس کے بغیر میری زندگی واقعی نامکمل ہے؟ شاید یہ ایک سوال کئی غیر ضروری خواہشوں کی شدت کم کر دے۔ افراد مختصر کیجیے، اس کا مطلب رشتے توڑنا یا تنہائی اختیار کرنا نہیں، بلکہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں غیر ضروری اختیار نہ دینا ہے۔ ہم سب کو خوش رکھنے، ہر ایک سے اچھے رویے کی توقع کرنے اور ہر رشتے کو بچانے کی کوشش میں اکثر خود کو بھول جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص آپ کو نہیں سمجھ سکتا، ہر شخص آپ کی کامیابی پر خوش نہیں ہو سکتا اور ہر شخص آپ کے اعتماد کے قابل نہیں ہوتا۔ سب کے ساتھ اچھا برتائو کیجیے، مگر ہر کسی کو اپنا رازدار نہ بنائیے۔ تعلقات کی اہمیت ان کی تعداد سے نہیں، ان کے معیار سے طے ہوتی ہے۔ چند مخلص لوگ سیکڑوں رسمی تعلقات سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پہچانیے جو اختلاف کے باوجود آپ کی عزت کریں، آپ کی کمزوری کو ہتھیار نہ بنائیں اور مشکل وقت میں محض تسلی کے الفاظ نہیں، عملی ساتھ بھی دیں۔
زندگی میں سکون اس وقت بھی لوٹنے لگتا ہے جب ہم لوگوں سے نفرت کرنے کے بجائے ان سے اپنی توقعات متوازن کر لیتے ہیں۔ ہر شخص کو بدلنا ہماری ذمہ داری نہیں، بعض اوقات اپنی حدود متعین کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔ ان چاروں اصولوں کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر اختیار حاصل کرے۔ اپنی زبان، اپنے ردعمل، اپنی خواہشات اور اپنے تعلقات کے انتخاب پر۔ زندگی میں بہت کچھ ہمارے اختیار سے باہر ہے، مگر ہر بات کا جواب دینا، ہر محرومی پر ماتم کرنا اور ہر شخص کی منظوری حاصل کرنا ہماری مجبوری نہیں۔ سکون کا مطلب مسائل سے خالی زندگی نہیں، بلکہ مسائل کے درمیان خود کو سنبھالنے کا ہنر ہے۔ دین بھی ہمیں صبر، شکر، اعتدال اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے، ترجمہ: ’’ سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ ( الرعد: 28)۔
دل کا اطمینان محض دنیاوی الجھنیں کم کرنے سے نہیں، اپنے رب سے تعلق، اپنے ضمیر کی پاکیزگی اور اپنے رویوں کی درستی سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ ذرا اپنے دن کا جائزہ لیجیے۔ کتنے الفاظ ایسے تھے جنہیں کہے بغیر بھی کام چل سکتا تھا؟ کتنی باتیں ایسی تھیں جنہیں دل پر لینے کی ضرورت نہیں تھی؟ کتنی خواہشیں محض دوسروں کی دیکھا دیکھی پیدا ہوئی تھیں؟ اور کتنے لوگوں کی رائے کو آپ نے اپنی خوشی سے زیادہ اہمیت دے رکھی تھی؟۔
ممکن ہے ان سوالوں کے جواب آپ کو اپنی بے سکونی کی اصل وجوہ تک پہنچا دیں۔ زندگی میں سکون ہمیشہ کچھ مزید حاصل کرنے سے نہیں آتا؛ کبھی غیر ضروری بوجھ اتار دینے سے بھی آتا ہے۔ الفاظ کم ہوں تو گفتگو میں وزن بڑھتا ہے، احساسات متوازن ہوں تو دل مضبوط ہوتا ہے، خواہشات محدود ہوں تو شکر پیدا ہوتا ہے اور تعلقات کا انتخاب درست ہو تو زندگی آسان ہونے لگتی ہے۔ کم بولیے، کم الجھیے، خواہشوں کو حدود میں رکھیے اور لوگوں کو ان کی اصل حیثیت کے مطابق جگہ دیجیے۔ شاید سکونِ زندگی کا یہی مختصر ترین فارمولا ہے۔





