Column
مذاکرات کی میز، احتجاج کی سڑک اور سیاسی ڈیڈ لاک

مذاکرات کی میز، احتجاج کی سڑک اور سیاسی ڈیڈ لاک
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مذاکرات کی میز اور احتجاج کی سڑکیں ایک دوسرے کے سامنے دکھائی دے رہی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت سے ایک موقع پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید دونوں فریق کسی تحریری معاہدے تک پہنچ گئے ہیں، لیکن حتمی مرحلے میں اختلافات دوبارہ سامنے آگئے اور مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق مذاکراتی عمل میں مسودے پر کئی مرتبہ تبدیلی کی گئی، بعض معاملات پر اتفاق بھی ہوا، مگر لانگ مارچ، بانی تحریک انصاف سے ملاقات اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف تعاون جیسے معاملات پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا۔
اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مذاکرات صرف حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ایک سادہ سیاسی گفتگو نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ خیبرپختونخوا کی حکومت، اپوزیشن کی مختلف جماعتیں اور ملک میں امن و امان کا مسئلہ بھی جڑا ہوا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ کسی بھی سیاسی معاہدے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات میں صوبائی حکومت کا تعاون یقینی ہونا چاہیے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سیاسی معاملات، بانی تحریک انصاف کے حقوق اور ملاقاتوں کو بھی مذاکرات کا اہم حصہ بنایا گیا۔
مذاکرات کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دئیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ فریقین نے مسودے پر دستخط کر دئیے تھے، تاہم بعد میں محمود خان اچکزئی کے موقف اور دیگر اختلافات کے باعث حتمی اعلان نہ ہوسکا۔ یہی تضاد بتاتا ہے کہ مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پیش رفت کے باوجود سیاسی قیادت کے تمام حلقوں میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔
محمود خان اچکزئی کا مطالبہ سامنے آیا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ یا لانگ مارچ کے بارے میں اعلان نہیں ہونا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بانی تحریک انصاف سے ملاقات ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کا فیصلہ کیا جاسکے۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کے سامنے سات نکاتی مسودہ بھی رکھا جس میں سیاسی مذاکرات جاری رکھنے، حکومت اور اپوزیشن قیادت کے درمیان ملاقاتوں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی، انسانی اور طبی حقوق اور دہشت گردی سمیت دیگر معاملات پر بات کی گئی۔ ان کا موقف تھا کہ ان مطالبات میں کوئی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنی طویل گفتگو کے بعد بھی معاہدہ نہ ہوسکا تو مسئلہ کہاں تھا؟ اس کا ایک جواب لانگ مارچ کی شرط میں ملتا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ مذاکرات کے ساتھ احتجاجی مارچ ختم یا موخر کیا جائے، جبکہ اپوزیشن کے اندر بعض رہنماں کا موقف تھا کہ پہلے بانی تحریک انصاف سے مشاورت ضروری ہے۔ یوں مذاکرات کی میز پر موجود نمائندوں اور وسیع تر سیاسی قیادت کے درمیان فیصلہ سازی کی رفتار ایک جیسی نہیں رہی۔
دوسرا بڑا مسئلہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تھا۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اپنے تحفظات ظاہر کیے اور موقف اختیار کیا کہ بعض نکات پر مزید وضاحت اور اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔
یہ معاملہ محض سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ قومی سلامتی سے بھی متعلق ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا مسئلہ نہیں۔ اگر وفاق اور صوبہ ایک دوسرے سے تعاون کے بجائے سیاسی اختلافات میں الجھ جائیں تو اس کا اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد اور عوام کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی تعاون سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔
اسی طرح بانی تحریک انصاف سے ملاقات کا معاملہ بھی مذاکرات میں اہم رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی فیصلوں سے پہلے ان سے مشاورت ضروری ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ ملاقاتیں اور دیگر معاملات قانون اور جیل ضوابط کے مطابق ہوں گے۔ یوں ایک ہی مسئلے کو دونوں جانب سے مختلف زاویوں سے دیکھا گیا۔
اس صورتحال میں کسی ایک شخصیت کو مذاکرات کی ناکامی کا مکمل ذمہ دار قرار دینا شاید درست تصویر پیش نہ کرے۔ دستیاب رپورٹس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ حکومتی حلقوں نے خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون کو مسئلہ قرار دیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سیاسی اور قانونی مطالبات کو حل نہ ہونے پر اعتراض کیا گیا۔ اس لیے اصل تصویر یہ ہے کہ مذاکرات میں کئی مسائل ایک دوسرے سے جڑ گئے اور آخری مرحلے میں کوئی ایسا مشترکہ فارمولا نہیں بن سکا جسے تمام متعلقہ فریق قبول کر لیتے۔
پاکستان جیسے ملک میں سیاسی مذاکرات کا دروازہ بند ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔ حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اپوزیشن کے سیاسی مطالبات کو صرف احتجاج سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اپوزیشن کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ریاستی معاملات، خصوصاً دہشت گردی اور امن و امان، سیاسی مذاکرات کی قیمت پر طے نہیں ہوسکتے۔ دونوں طرف سے لچک اور اعتماد سازی ہی کسی پائیدار حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
آج صورتحال مزید حساس ہے کیونکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کے آغاز کا اعلان سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مارچ کا پہلا مرحلہ لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اب اصل امتحان حکومت اور اپوزیشن دونوں کا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی سڑکوں پر منتقل ہوتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری، کاروبار اور ملکی سیاسی ماحول کو ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلاف اپنی جگہ موجود رہتے ہوئے بھی مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہ کیا جائے۔
سیاست میں کوئی مذاکرات ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتے۔ آج جو فریق ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے کو تیار نہیں، وہ کل کسی نئے فارمولے کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔
(باقی صفحہ5پر ملاحظہ کیجئے )
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ دونوں جانب سے ایسے مطالبات سامنے نہ رکھے جائیں جنہیں دوسرا فریق ابتدا ہی میں ناقابل قبول سمجھتا ہو۔
گیارہ گھنٹے کی بات چیت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانا کافی نہیں ہوتا، اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب مذاکرات میں شامل تمام فریق اپنے اپنے سیاسی حلقوں کو ایک فیصلے پر ساتھ لے کر چل سکیں۔ اگر ایک مسودہ کئی بار تبدیل ہونے کے باوجود آخری لمحے میں دوبارہ اختلاف کا شکار ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف الفاظ کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے۔
پاکستان کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ سیاسی استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی اختلافات کے حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کے دروازے کھلے رہیں، اپوزیشن مذاکرات سے مکمل طور پر دستبردار نہ ہو اور خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبائی حکومتیں قومی سلامتی کے معاملات میں وفاق کے ساتھ تعاون کریں تو شاید آج کا ڈیڈ لاک کل ایک نئے مذاکراتی راستے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
مذاکرات کی میز ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت دوبارہ اسی میز پر بیٹھ کر ایسے نکات تلاش کر سکتی ہے جو احتجاج کے بجائے بات چیت، کشیدگی کے بجائے اعتماد اور سیاسی اختلاف کے بجائے قومی مفاد کو آگے بڑھائیں۔ یہی آنے والے دنوں کا سب سے اہم سوال ہے۔
غلام مصطفیٰ جمالی





