سرحد سے اقوام متحدہ تک پاکستان کا دوٹوک موقف

سرحد سے اقوام متحدہ تک پاکستان کا دوٹوک موقف
پاک، بھارت تعلقات میں سرحدی واقعات اور مسئلہ کشمیر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دے سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں معاملات جنوبی ایشیا کے امن، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز بیڈیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جب کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینے کے موقف کو مسترد کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق 2اکتوبر 2026 ء کو بیڈیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ پاکستان نے اس واقعے پر فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات، ذمے دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور نتائج سے باضابطہ آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، دوطرفہ انتظامات اور سرحدی طریقہ کار کا احترام کرتے ہوئے ایسے واقعات کے اعادے کو روکا جائے۔ یہاں بنیادی سوال صرف دو قیمتی جانوں کے ضیاع کا نہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کے تحفظ کا بھی ہے۔ بین الاقوامی سرحد کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے اہم ہوتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہاں آباد شہریوں کی زندگی، روزگار اور معمولات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اگر کسی سرحدی واقعے میں شہری جان سے جاتے ہیں تو اس کی غیر جانب دارانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات ضروری ہوجاتی ہیں، تاکہ حقائق سامنے آسکیں، ذمے داری کا تعین ہو اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے موثر طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔پاکستان کا احتجاج اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ نے صرف احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا بلکہ تحقیقات، جواب دہی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے مطالبات بھی سامنے رکھے ہیں۔ یہ سفارتی طریقہ کار اس لیے اہم ہے کہ حساس سرحدی واقعات جذباتی ردعمل کے بجائے دستاویزی شواہد، واضح رابطوں اور طے شدہ اصولوں کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اسی پس منظر میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا حالیہ مقف بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے بھارتی نمائندے کے موقف کے جواب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو محض بھارت کا داخلی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر متنازع مسئلہ ہے اور اس کا حتمی حل کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کا موقف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بھارت اسے اپنا داخلی اور علاقائی معاملہ قرار دیتا ہے جب کہ پاکستان اسے ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع سمجھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے فورمز پر دونوں ممالک کے نمائندے متعدد مواقع پر ایک دوسرے کے موقف کا جواب دیتے رہے ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں پائیدار پیش رفت کے لیے جذباتی نعروں سے زیادہ سفارتی مکالمے، بین الاقوامی اصولوں اور قابلِ قبول سیاسی راستے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہونا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو صرف روایتی بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انسانی حقوق، شہری تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے ساتھ مربوط انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اسی طرح بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات کا جواب بھی قابلِ تصدیق شواہد اور سفارتی فورمز پر ٹھوس موقف کے ذریعے دینا زیادہ موثر راستہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں حالیہ موقف کے دوران بھی مکالمے، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق پُرامن حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سرحدی واقعہ اور کشمیر کا مسئلہ ایک اور حقیقت بھی سامنے لاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطے کے موثر ذرائع کا موجود رہنا خطے کے مفاد میں ہے۔ سرحدی سطح پر کسی واقعے کے بعد فوری رابطہ، حقائق کی تصدیق، مقامی کمانڈروں کے درمیان رابطہ اور سفارتی سطح پر وضاحتیں کشیدگی کو بڑھنے سے روک سکتی ہیں۔ جب دو جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو ذمے دارانہ طرزِ عمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر واضح اور مستقل سفارتی موقف برقرار رکھے۔ ساتھ ہی عالمی برادری کے سامنے ہر معاملہ مستند دستاویزات، شواہد اور قابلِ اعتماد معلومات کے ساتھ پیش کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں بھی پاکستان کی آواز اسی وقت زیادہ موثر ہوسکتی ہے جب اسے انسانی حقوق، شہری آزادیوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے وسیع تر تناظر میں مسلسل اجاگر کیا جائے۔ جنوبی ایشیا کو تصادم سے زیادہ استحکام کی ضرورت ہے۔ سرحد پر ایک شہری کی جان بھی معمولی واقعہ نہیں اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک دیرینہ تنازع بھی محض رسمی تقریر کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اختلافات کو ایسے راستے پر رکھا جائے جہاں الزام تراشی کے بجائے ثبوت، اشتعال کے بجائے تحمل اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح حاصل ہو۔ پاکستان نے بیڈیاں سیکٹر کے واقعے پر احتجاج اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے معاملے پر اپنا موقف پیش کرکے اپنے سفارتی موقف کو واضح کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مقف مسلسل، مدلل اور دستاویزی انداز میں عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے۔ امن کا راستہ اصولوں سے دستبرداری نہیں بلکہ اصولوں کو سفارت کاری، مکالمے اور ذمے دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے آگے بڑھانے سے نکلتا ہے۔ یہی راستہ سرحدی شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے زیادہ بامعنی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
امن دشمنوں پر کاری ضرب
پاکستان کی سرزمین پر امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ حالیہ کارروائیوں میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 11دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جنوبی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد مارے گئے، ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے جب کہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ بلوچستان کے گورندر اور ماشکیل کے علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی میں مزید 6دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ماشکیل میں چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کو بروقت کارروائی کرکے نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ جدید دور کی دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ بروقت معلومات، موثر نگرانی، پیشہ ورانہ تربیت اور مربوط حکمت عملی سے کیا جاتا ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں کامیابی اس امر کی اہمیت واضح کرتی ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی معلوماتی صلاحیتیں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کُن کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار انتہائی دشوار اور خطرناک علاقوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کی اصل کامیابی صرف دہشت گردوں کی ہلاکت نہیں بلکہ شہری زندگی، کاروبار، تعلیم اور روزمرہ معمولات کو محفوظ بنانا ہے۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے، عوام اور مقامی انتظامیہ بھی باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف قانون اور ریاستی اختیار کی عمل داری برقرار رکھی جائے۔ حالیہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ پاکستان میں امن کے قیام کی کوششیں جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی ادارے اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہیں گے۔





