Column

رات، چراغ، ہوا اور میں‘‘ ۔ مرزا سکندر بیگ کا شعری سفر

’’ رات، چراغ، ہوا اور میں‘‘ ۔ مرزا سکندر بیگ کا شعری سفر

رفیع صحرائی

بعض شعری مجموعے پڑھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کے اوراق الٹتے ہوئے قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی شاعر کی کتاب نہیں بلکہ اس کے باطن کی کھڑکیاں کھول رہا ہو۔ مرزا سکندر بیگ کا تیسرا شعری مجموعہ ’’ رات، چراغ، ہوا اور میں‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے۔ اس کا عنوان ہی ایک مکمل شعری منظر نامہ تشکیل دیتا ہے:

دیر تلک ہم ساتھ رہے

رات، چراغ، ہوا اور میں

رات، چراغ، ہوا اور ’’ میں‘‘ یہاں محض چار الفاظ نہیں بلکہ انسانی وجود کی چار کیفیتیں ہیں۔ رات تنہائی اور جبرِ حالات ہے، چراغ امید اور مزاحمت، ہوا گردشِ زمانہ اور ’’ میں‘‘ ان سب کے درمیان کھڑا ہوا انسان۔ یہی چار استعارے پوری کتاب کی فکری فضا کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتے ہیں۔

سکندر بیگ کے ہاں رات محض اندھیرا نہیں بلکہ باطن سے ملاقات کا وقت ہے، چراغ محض روشنی نہیں بلکہ ناامیدی کے مقابل انسانی عزم ہے اور ہوا صرف موسم کی حرکت نہیں بلکہ وقت کے مسلسل بدلتے ہوئے رویوں کا استعارہ بن جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز بھی اسی داخلی اور روحانی فضا سے ہوتا ہے:

خالی ہاتھ دعا اور میں

پاک کلامِ خدا اور میں

یہاں شاعر کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ محض عاشق، رنجیدہ انسان یا معاشرتی مسائل کا ناظر نہیں بلکہ اپنی روحانی روایت سے جڑا ہوا شخص بھی ہے۔ حمدیہ اشعار میں خدا کی رحمت اور اس کی شفقت کا احساس نہایت سادہ مگر موثر پیرائے میں جلوہ گر ہے:

ایک خدا کتنی مائوں جیسا ہے

اس کی رحمت کا سایہ بندوں پر

جلتے صحرا میں چھائوں جیسا ہے

اسی طرح نعتیہ اشعار میں عشقِ رسولؐ اور سنت سے وابستگی اظہار پاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کے فکری وجود میں جدید زندگی کے سوالات کے ساتھ مذہبی اور تہذیبی روایت بھی پوری قوت سے موجود ہے۔

سکندر بیگ کی شاعری کا ایک اہم وصف سادگی میں معنویت ہے۔ وہ مشکل اور ثقیل الفاظ کے انبار سے شعر کی عظمت ثابت کرنے کے بجائے روزمرہ زبان میں بڑے سوال اٹھاتے ہیں:

بولتا ہے سکوت کمرے میں

گفتگو بھی کمال ہے بھائی

’’ سکوت‘‘ کو ’’ گفتگو‘‘ میں بدل دینا شاعر کے فنی شعور کی عمدہ مثال ہے۔ مزید یہ کہ ’’ بھائی‘‘ جیسے عام بول چال کے لفظ کا استعمال شعر کو رسمی ادبی فضا سے نکال کر قاری کی روزمرہ زندگی کے قریب لے آتا ہے۔ یہی بے تکلفی ان کے اسلوب کی نمایاں شناخت ہے۔

ان کی شاعری میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ ذاتی بے قراری اجتماعی اضطراب میں بدل جاتی ہے اور محبوب کی جدائی کے ساتھ شہر، معاشرے اور زمانے کا دکھ بھی شاعر کے دل میں اترتا ہے:

جو کسی اور نے گزاری ہے

ہاں وہی زندگی ہماری ہے

بعد تیرے دلِ پریشاں میں

بے قراری ہی بے قراری ہے

لیکن اسی غزل کی دنیا میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے:

کون دے گا اماں پرندوں کو

شہر کا شہر جب شکاری ہے

یہاں غمِ جاناں وسیع ہو کر غمِ مخلوق اور غمِ زمانہ بن جاتا ہے۔ پرندے محض پرندے نہیں رہتے بلکہ بے آسرا انسانوں، معصوم خواہشوں اور سکڑتی ہوئی فطری دنیا کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسی احساس کی ایک خوب صورت صورت گری یوں بھی ہوئی ہے:

بھول گئی ہیں چڑیاں رستہ آنگن کا

ایسا کرتے ہیں کچھ پیڑ اگاتے ہیں

یہ شعر شاعر کے فطرت سے رشتے اور اس کے مثبت شعور کا مظہر ہے۔ احتجاج کے ساتھ تعمیر کی خواہش بھی موجود ہے؛ شکاری کو نکالنے کے ساتھ پیڑ لگانے کی تجویز بھی ہے۔

سکندر بیگ کے ہاں محبت بھی محض رومانوی واردات نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی قدر ہے۔ وہ محبت کے نام پر ہونے والی مصنوعی معاشرتی تجارت کو بھی پہچانتے ہیں:

لوگ کرتے ہیں جو دنیا میں محبت آج کل

یہ تجارت ہے سراسر، یہ محبت تو نہیں

یہاں شاعر کا لہجہ محض عاشقانہ نہیں بلکہ اپنے عہد کے رویوں پر ایک خاموش تبصرہ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شاعری جبرِ دوراں اور غمِ جاناں کو ایک ہی شعری دھارے میں سمو لیتی ہے۔

ان کے شعری مزاج میں اسلاف اور تہذیبی روایت سے وابستگی بھی نمایاں ہے۔ شاعر اپنے ماضی کو محض یاد نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی شناخت کا حصہ سمجھتا ہے:

میراث گنوا دیں جو اجداد کی ہاتھوں سے

دنیا میں انہیں شانِ اسلاف نہیں ملتا

یہ شعر تہذیبی حافظے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ سکندر بیگ کے نزدیک ترقی کا مطلب اپنی جڑوں سے انکار نہیں، بلکہ اپنی میراث کو محفوظ رکھتے ہوئے زمانی کے ساتھ چلنا ہے۔ یہی احساس ان کی شاعری کو اپنے عہد سے ہم آہنگ بھی کرتا ہے اور اسے روایت سے مربوط بھی رکھتا ہے۔

ان کے ہاں سیاسی و معاشرتی جبر کے خلاف مزاحمت بھی دکھائی دیتی ہے:

یزیدوں کی کبھی بیعت نہیں کرنی

نکل کر شہر سے مقتل سجانا ہے

یہاں کربلا کا تاریخی اور مذہبی استعارہ عہدِ حاضر کے جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے۔ اسی طرح بارود، اجڑے ہوئے اشجار، بے گھر پرندے، عورتوں پر ہونے والے مظالم اور اجتماعی بے حسی ان کے شعری شعور کو محض ذاتی واردات تک محدود نہیں رہتے۔

شرم آتی نہیں بے ضمیرو تمہیں

عورتوں کو گھروں سے اٹھاتے ہوئے

تاہم سکندر بیگ کی شاعری کا ایک اور اہم پہلو کائناتی حیرت اور مابعدالطبیعیاتی جستجو بھی ہے:

آخری آسمان سے آگے

کون ہے لامکان سے آگے

اور بھی کائنات ہے کوئی

آدمی کے گمان سے آگے

یہاں شاعر کا ذہن معلوم سے نامعلوم کی طرف سفر کرتا ہے۔ ’’ گمان سے آگے‘‘ اور ’’ لامکان سے آگے‘‘ کی ترکیبیں اس کے فکری افق کو وسعت دیتی ہیں اور اردو کی صوفیانہ روایت سے ایک معنوی رشتہ قائم کرتی ہیں۔

فنی اعتبار سے ان کی شاعری میں روانی، ترنم، صوتی مناسبت، سادہ لفظیات، مکالماتی لہجہ، تضاد، استعارہ اور علامت کا خوب صورت امتزاج ملتا ہے۔ غزل، نظم، قطعہ اور رباعی، تمام اصناف میں ان کا بنیادی وصف یہی ہے کہ شعر قاری سے براہِ راست ہم کلام ہوتا ہے۔ ان کے ہاں

’’ میں‘‘ محض شاعر کا ذاتی وجود نہیں رہتا بلکہ وہ اجتماعی انسان کا استعارہ بن جاتا ہے۔

یوں ’’ رات، چراغ، ہوا اور میں‘‘ کو صرف اشعار کا مجموعہ کہنا اس کی معنوی وسعت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ تنہائی سے امید تک، محبت سے احتجاج تک، ماضی کی میراث سے حال کے المیے تک اور انسانی گمان سے کائناتی اسرار تک ایک مسلسل شعری سفر ہے۔ رات کتنی ہی گہری ہو، چراغ جلتا رہتا ہے؛ ہوا کتنی ہی تیز ہو، انسان اپنے اندر روشنی کا امکان محفوظ رکھتا ہے۔ یہی سکندر بیگ کی شاعری کا اصل حُسن ہے کہ وہ زندگی کے دکھ سے آنکھ بھی نہیں چراتی اور دکھ کو آخری حقیقت بھی نہیں مانتی۔ ان کے ہاں شعر دل کا ’’ ابال‘‘ بھی ہے، زمانے کا نوحہ بھی، محبت کی کسک بھی اور امید کا چراغ بھی۔ شاید اسی لیے اس کتاب کا سب سے خوب صورت تعارف یہی ہے کہ رات، چراغ، ہوا اور ’’ میں‘‘ دیر تلک ساتھ رہے اور اس ساتھ سے ایک ایسی شاعری وجود میں آئی جس میں فرد بھی ہے، معاشرہ بھی، روایت بھی اور مستقبل کی امید بھی۔

جواب دیں

Back to top button