پاک، سعودی گھیرائو ، امت لڑائو، اسرائیل بچائو

پاک، سعودی گھیرائو ، امت لڑائو، اسرائیل بچائو
عبدالحنان راجہ
سال 2012ء میں ہنری کسنجر کی اگلے 10سالوں میں اسرائیلی ریاست کے خاتمہ کی پیش گوئی اگرچہ پوری نہ ہو پائی، ہاں البتہ اسرائیل اپنے اختتام کی طرف تیزی سے بڑھا ضرور۔ اور شام میں ترکیہ کے ساتھ پنگا اس کے اختتامی سفر کی کہانی ہو سکتا ہے۔ اب آتے ہیں سعودی، حوثی چپقلش کی طرف، تو غالبا 12جولائی کی رات سعودی عرب کو خفیہ معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر کے جنازہ میں شرکت کے بعد واپس آنے والے طیارے میں ایسے افراد اور ہتھیار موجود کہ جو سعودی عرب کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں، بدقسمتی یہ رہی کہ سعودی حکومت ٹریپ میں آ گئی اور کائونٹر تصدیق کی بجائے دفاعی حلیف پر اعتبار کرتے ہوئے صنعا ایئر پورٹ پر حملہ کر کے 2015 ء سے حوثیوں کے ساتھ خاموش مفاہمت کا بند توڑ دیا۔ اس راز سے اب پردہ اٹھا اور اسے کچھ عالمی جریدوں نے رپورٹ بھی کیا، جبکہ یہ اطلاعات بھی کہ پاکستان نے اسی وقت سعودی عرب کو اس غلطی کی سنگینی اور مضمرات سے آگاہ کر دیا تھا۔ اب کانگریس کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں اور اسے واشنگٹن پوسٹ نے شائع کیا کہ مستقبل میں سعودی عرب ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، کا مقصد بھی سبھی کو سمجھ آنا شروع ہو گیا ہو گا۔ پہلے غلط خفیہ معلومات اور اب کانگریس کو جعلی رپورٹ وہ بھی مستقبل بعید کی۔ مسئلہ وہی ابراہام اکارڈ ! صنعا بارے رپورٹ ٹریپ تھی جس میں آ کر سعودی عرب یمن کے درمیان جنگ کا وہ بے مقصد دروازہ کھل گیا کہ جس نی مکہ معاہدہ کو قیام کے مراحل میں ہی امتحان میں ڈال دیا۔ یمنی عوام کی بدقسمتی کہ معدنی ذخائر سے مالا مال سرزمین کے باسی غربت، جہالت اور خانہ جنگی کا شکار، مگر یاد رکھئے کہ جہاں بھی متشدد خیالات کی حامل حکومت ہو یا قبائلی عصبیت کا راج وہ خطہ باوجود وسائل کے بھی پس ماندہ ہی رہتا ہے۔
ایٹمی پروگرام کی صورت میں پاکستان کا گناہ تو پہلے ہی بڑا تھا جسے اب تک مغرب سمیت امریکہ، بھارت اور اسرائیل بھولنے کو تیار نہیں اور اس کی قیمت گزشتہ کئی دہائیوں سے منظم دہشت گردی اور اب پھر اس میں شدت دشمنوں کے عزائم ظاہر کر رہی پے۔ اور پھر پاکستان کو مکہ معاہدہ کا محرک ہونے کی سزا تو الگ سے بنتی ہے۔ بدقسمتی کے ملک کے اندر کچھ ذہنی مریض و سیاسی حریص اس سے بے نیاز اپنے کھیل تماشوں میں مصروف۔ اب سعودی عرب کو ابراہام اکارڈ اور ایران کے خلاف جنگ میں اپنی سرزمین سے انکار نے امریکی و صیہونی دجالوں کو مشتعل کیا اور پھر مکہ اکارڈ کو جسے گریٹر اسرائیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا گناہ سمجھا جا رہا ہے کی سزا براہ راست اسرائیل یا کافر دشمن کی بجائے مسلم دنیا سے ہی دینے کا فیصلہ کیا گیا اور حوثیوں سے زیادہ کون اس کے لیے کارآمد ؟! کہ طویل سرحد اور پھر دہائیوں پرانی قبائلی عصبیت۔ ادھر یمن کے حوثیوں نے بھی چارہ نگلنے میں دیر نہ کی۔ جبکہ امریکہ ایران جنگ کے دوران سعودی عرب کے ذمہ دارانہ و مصالحانہ کردار کے باوجود ایران نے درپردہ حوثیوں کی حمایت کر کے جنگ کے شعلوں کو ہوا دی۔ گو کہ ایران سرپرستی کی نفی کرتا ہے مگر دنیا اسے ماننے کو تیار نہیں اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ برادر ملک ہونے کے ناطے ایران اول دن ہی اپنے اثر و رسوخ سے حوثیوں کے ذریعے اسرائیلی و امریکی چالوں کو ناکام کرنے کی کوشش کرتا مگر !!!! اب شاید بڑھتے عالمی دبائو کے پیش نظر ہی سہی ایران کی مصالحانہ کردار کی پیشکش خوش آئند اس ضمن میں اقوام متحدہ کی عمارت میں ایرانی و سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ اس بے مقصد جنگ میں مزید الجھے بغیر نکلنا یقینا ان ممالک کے صبر، ضبط اور تدبر کا امتحان، اور فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی کی کوششیں اسی سلسلہ کی کڑی مگر اس سارے معاملہ میں امارات کا کردار منفی رہا کہ وہ حوثیوں کو بھاری ہتھیار فراہم کر کے خطے میں نفرت و تعصب کو ہوا دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ عرب ممالک میں اس وقت سعودی عرب ہی مستحکم قوت جبکہ اس سے قبل لیبیا، عراق، شام جیسے طاقتور ممالک کو انہی ریشہ دوانیوں کے ذریعے گھٹنوں کے بل لایا جا چکا ہے یہی وجہ کہ عرب اسپرنگ کے نام پر اٹھنے والے جوش کے بعد آج تک ان ممالک میں مستحکم حکومت نہ بن سکی۔ اب بھلا بھارت اور اسرائیل کا کون سا بارڈر افغانستان سے ملتا ہے اور دونوں ممالک کو بھلا افغان عوام سے کیا ہمدردی؟۔ مگر یہی وہ زہر ہے جسے پاکستان کے اندر بھی افغان دہشت گردوں کے حامی کبھی ان کا دفاع اور کبھی سیکورٹی فورسز و عوام پر دیشت گردی کے حملوں پر خاموش رہ کر پروان چڑھا رہے ہیں اور یہ اگر منتخب صوبائی حکومت کرے تو اس کے اثرات اور نقصانات دوچند۔
میری دانست میں مکہ معاہدہ کی پائیداری، مستقبل کے اہداف کے حصول اور مسلم دنیا کے مضبوط دفاعی اتحاد کے لیے افغان دہشت گردوں اور حوثی باغیوں سے براہ راست جنگ سے گریز کرنا ہی حکمت یا پھر انہیں انہی کی زبان ( پراکسیز) میں ہی جواب دینا بہتر۔







