پٹرول کی قیمتیں، عوام کی پریشانی اور کاروبار کا غیر یقینی مستقبل

حرف جاوید
پٹرول کی قیمتیں، عوام کی پریشانی اور کاروبار کا غیر یقینی مستقبل
تحریر: جاوید اقبال
کبھی آٹا، کبھی بجلی، کبھی گیس اور اب پٹرول۔ عام آدمی کی زندگی میں مہنگائی کوئی خبر نہیں رہی، بلکہ روزانہ کا تجربہ بن چکی ہے۔ تنخواہ وہی، آمدنی وہی، مگر اخراجات میں مسلسل اضافہ۔ مہینے کے آغاز میں جو رقم ضروریات کے لیے کافی دکھائی دیتی ہے، چند دن بعد وہی کم پڑنے لگتی ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی رقم نہیں، بلکہ گھر کے بجٹ، کاروبار اور ملکی معیشت پر پڑنے والا اضافی بوجھ ہے۔15 اگست 2026ء کو پٹرول 325.43 روپے فی لٹر تھا، جبکہ 15ستمبر کو نئی قیمت 380.24روپے فی لٹر ہوگئی۔ یعنی ایک ماہ میں 54.81روپے فی لٹر اضافہ۔ یہ قریباً 16.9فیصد کا بوجھ ہے۔
اب اس اضافے کو ایک عام موٹر سائیکل سوار کی جیب سے دیکھیں۔ اگر کوئی شہری روزانہ ایک لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو 54.81روپے کے اضافے سے اس کا ماہانہ خرچ قریباً 1644روپے بڑھ جاتا ہے۔ ڈیڑھ لٹر روزانہ استعمال کرنے والے کے لیے یہی اضافی بوجھ 2466روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ یہ رقم کسی متوسط گھرانے کے لیے معمولی نہیں۔ اس سے راشن خریدا جاسکتا ہے، بچوں کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں یا بجلی کے بل میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ صرف یہ اضافی رقم بھی نہیں۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر پٹرول پمپ سے نکل کر پورے بازار تک پہنچتا ہے۔ سبزی منڈی سے دکان تک سامان پہنچانے والی گاڑی کا کرایہ بڑھتا ہے، فیکٹری سے مارکیٹ تک تیار مال کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے اور خام مال کی نقل و حرکت پر اضافی خرچ آتا ہے۔ ٹرانسپورٹر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایہ بڑھاتا ہے، دکاندار اپنی قیمتوں پر نظرثانی کرتا ہے اور بالآخر یہ بوجھ صارف کی جیب تک پہنچتا ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں رہتا۔ اس کا تعلق روٹی، سبزی، دودھ، روزگار اور کاروبار کے ہر اس پہیے سے ہے جو ایندھن کے ذریعے حرکت کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کاروباری طبقے میں پٹرول کی قیمت مقرر کرنے کے نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ کاروباری تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ ماہانہ قیمت مقرر کرنے کا نظام بحال کیا جائے، تاکہ صنعت کار، تاجر اور ٹرانسپورٹر کم از کم ایک مقررہ مدت کے لیے اپنے اخراجات کا اندازہ لگا سکیں۔ اس مطالبے کو سمجھنے کے لیے کسی بڑے معاشی ماہر کی ضرورت نہیں۔ ایک صنعت کار جب کسی کمپنی کو سامان کی قیمت بتاتا ہی تو وہ خام مال، بجلی، گیس، مزدور، کرایہ اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی اخراجات کا حساب کرتا ہے۔ اگر پیٹرول کی قیمت چند دن بعد بدل جائے تو اس کی لاگت بھی بدل جاتی ہے۔ جو کوٹیشن آج منافع بخش نظر آ رہی تھی، وہ چند دن بعد نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
فرض کریں ایک کاروباری ادارہ ایک ماہ کے لیے کسی کمپنی کو کوٹیشن دیتا ہے۔ چند دن بعد پیٹرول مہنگا ہوجاتا ہے۔ خام مال کی ترسیل مہنگی، تیار مال کی ترسیل مہنگی اور پیداواری خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اب کاروباری شخص کے پاس دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو قیمت تبدیل کرے، جس سے خریدار ناراض ہوسکتا ہے، یا اضافی لاگت خود برداشت کرے۔ بڑے ادارے شاید کچھ عرصہ یہ بوجھ اٹھا لیں، لیکن چھوٹے کاروباری افراد کے لیے یہ فیصلہ روزگار اور نقصان کے درمیان فرق بن سکتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی کاروبار کے لیے حالات آسان نہیں۔ بجلی اور گیس کے بل، ٹیکس، کرایے، مزدوروں کی اجرت اور خام مال کی قیمتیں کاروباری لاگت بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کاروباری منصوبہ بندی کو مزید مشکل بناتی ہے۔ چھوٹا تاجر ہر روز اپنی قیمتیں تبدیل نہیں کر سکتا، نہ ہی ہر خریدار اضافی رقم ادا کرنے پر تیار ہوتا ہے۔
یہاں حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی ایک حقیقت ہے۔ ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور ملکی مالی ضروریات بھی اہم عوامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام مشکلات کا بوجھ ہر مرتبہ عام آدمی کی جیب پر ہی کیوں ڈالا جائے؟۔ حکومت اگر ماہانہ قیمت مقرر کرنے کے نظام کو بہتر سمجھتی ہے تو اسے شفاف فارمولے کے تحت بحال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ماہانہ نظام کا مطلب یہ نہیں کہ پٹرول ہر حال میں سستا ہوجائے گا۔ عالمی قیمتیں بڑھیں گی تو اس کا اثر بہرحال آئے گا۔ لیکن ایک مقررہ مدت تک قیمت میں استحکام کاروباری طبقے کو بہتر منصوبہ بندی، درست کوٹیشن اور اخراجات کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کی جائیں۔ حکومت کو بتایا چاہیے کہ عالمی منڈی، ڈالر، ٹیکس اور دیگر عوامل نے نئی قیمت مقرر کرنے میں کیا کردار ادا کیا۔ عوام کو صرف نئی قیمت سنانے کے بجائے اس کا حساب بھی سمجھایا جائے۔ شفافیت سے کم از کم یہ اعتماد پیدا ہوسکتا ہے کہ قیمت مقرر کرنے کا عمل واضح اصولوں کے مطابق ہورہا ہے۔
کاروباری تنظیموں سے بھی بامعنی مشاورت کی ضرورت ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس، صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندے روزانہ ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔ جو لوگ کاروبار چلا رہے ہیں، وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ قیمتوں میں تبدیلی کس طرح پیداواری لاگت اور مارکیٹ کے معاملات کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم کاروباری طبقے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کو ہر چیز مہنگی کرنے کا کھلا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ جہاں لاگت کم ہو، وہاں اس کا فائدہ صارف تک پہنچنا چاہیے۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف کاروباری تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صارف پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اسے ہر اضافی خرچ کا بوجھ منتقل کرنا انصاف نہیں۔حکومت کو عوام کے لیے ایسے اقدامات بھی کرنا ہوں گے جن سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر کم ہوسکے۔ شہری پبلک ٹرانسپورٹ بہتر بنائی جائے، ٹرانسپورٹ کرایوں کی نگرانی ہو اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ چھوٹے کاروبار کو غیر ضروری بوجھ سے بچانے کے لیے بھی عملی اقدامات ضروری ہیں۔
آخرکار بات عام آدمی کی طرف آتی ہے۔ وہ صبح موٹر ساءیکل میں پٹرول ڈلواتا ہے، دفتر یا کام پر جاتا ہے، واپسی پر سبزی خریدتا ہے اور گھر کے اخراجات کا حساب لگاتا ہے۔ اس کے لیے پٹرول کی قیمت کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں۔ یہ اس کے گھر کے بجٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ پٹرول پمپ پر ختم نہیں ہوتا۔ یہ بازار، فیکٹری، دکان اور بالآخر عام شہری کے گھر تک پہنچتا ہے۔ اس لیے قیمت مقرر کرنے کا نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں حکومتی مالی ضرورت کے ساتھ عوام اور کاروبار کی مشکلات بھی سامنے ہوں۔ اگر ماہانہ نظام سے کاروباری طبقے کو منصوبہ بندی میں سہولت مل سکتی ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی کم ہوسکتی ہے تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ حالات مشکل ہیں؛ انہیں یہ بھی دکھانا ہوگا کہ حکومت ان مشکلات کا بوجھ کم کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ کیونکہ پٹرول کی قیمت صرف گاڑی کا خرچ نہیں، یہ عام آدمی کے چولہے، کاروبار کے پہیے اور ملکی معیشت کی رفتار سے جڑی ہوئی ہے۔ جب یہ تینوں دبائو میں ہوں تو صرف قیمت کا اعلان کافی نہیں، عوام کو ایسی پالیسی چاہیے جس میں انہیں اپنے مستقبل کا کچھ یقین بھی نظر آئے۔





