ColumnQadir Khan

مکہ معاہدہ: مشرقِ وسطیٰ کی نئی بساط اور پاکستان کا کڑا امتحان

مکہ معاہدہ: مشرقِ وسطیٰ کی نئی بساط اور پاکستان کا کڑا امتحان
قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے صحرائوں نے ہمیشہ خون، تیل اور طاقت کے کھیل دیکھے ہیں۔ لیکن آج، جب یمن کے بنجر پہاڑوں سے اٹھنے والا بارود کا دھواں خلیج کے پرتعیش شہروں کے افق کو دھندلا رہا ہے، تو خطے کی بساط پر مہرے بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ 7اگست 2026ء کو خانہ کعبہ کے سائے میں طے پانے والا ’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا کا باقاعدہ اعلان ہے جہاں امریکہ کی سیکیورٹی چھتری اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں اپنے خول میں سمٹ رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک فن تعمیر میں ایک زبردست اور تیز ترین تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا یہ نیٹو طرز کا دفاعی معاہدہ بظاہر تو ایک عظیم اسلامی بلاک کی نوید ہے، جس کا آرٹیکل 5واضح کرتا ہے کہ ’’ کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا‘‘۔ مگر اس کی جڑوں میں یمن کی وہ تزویراتی دلدل ہے جس نے ریاض کے معاشی خوابوں کو جکڑ رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس معاہدے کی آڑ میں یمن کی اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کا ایندھن بنے گا؟ مکہ معاہدے کا اصل مقصد جارحیت نہیں، بلکہ معاشی بقا، دفاعی خود انحصاری اور ایک مابعد امریکہ ( Post-American) سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل ہے۔
اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے حوثی ملیشیا ( انصار اللہ) کے ارتقا پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 90ء کی دہائی میں یمن کے صوبے صعدہ کے پہاڑوں سے ابھرنے والی یہ زیدی شیعہ تحریک آج ایک ایسی علاقائی قوت بن چکی ہے جس نے بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ یہ تحریک ابتدا میں صدر علی عبداللہ صالح کی کرپشن اور معاشی استحصال کے خلاف ایک ردعمل تھی۔ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس تحریک نے امریکہ اور سعودی مخالف بیانیہ اپنایا، جس کے نتیجے میں صالح حکومت نے ان پر کریک ڈائون کیا۔ حیرت انگیز طور پر، حوثیوں نے چھ خونی جنگیں ( 2004۔2010) لڑ کر نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا بلکہ گوریلا جنگ کے ان حربوں میں بھی مہارت حاصل کر لی جنہوں نے اربوں ڈالر کے مغربی ہتھیاروں سے لیس سعودی افواج کو بھی زچ کر دیا۔ 2011ء کی عرب بہار نے یمن میں طاقت کا جو خلا پیدا کیا، حوثیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ستمبر 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت خلیجی اتحاد نے چند ہفتوں کے خمار میں جس مہم کا آغاز کیا تھا، وہ آج ایک دہائی طویل ڈرائونے خواب میں بدل چکی ہے۔ حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے سعودی عرب کے ویژن 2030کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان یہ جان چکے ہیں کہ کھربوں ڈالر کے نیوم (NEOM)پراجیکٹ، سیاحت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک سرحدوں پر آگ لگی ہو۔ سرمایہ کاری ہمیشہ امن کے سائے میں پنپتی ہے۔ مزید برآں، یمن میں اماراتی پالیسی کا انحراف، جہاں متحدہ عرب امارات نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کے بجائے جنوبی عبوری کونسل (STC) کی پشت پناہی کی ،ریاض کے لیے اس حقیقت کو عیاں کر گیا کہ وہ اپنے قریبی پڑوسیوں پر بھی مکمل انحصار نہیں کر سکتا۔
اس کڑوے سچ کا ادراک اس وقت مزید گہرا ہوا جب واشنگٹن نے خطے سی اپنے قدم پیچھے ہٹانے شروع کیے۔ 2019ء میں بقیق (Abqaiq)میں آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں نے عالمی تیل کی سپلائی کا 5فیصد منقطع کر دیا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کوئی فوجی جوابی کارروائی نہیں کی گئی۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’’ یہ حملہ سعودی عرب پر تھا، ہم پر نہیں‘‘، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک واٹر شیڈ لمحہ تھا۔ 2026ء میں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی اور امریکی و اسرائیلی مفادات دائو پر لگے، تب بھی ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ممالک پر دبا ڈالا کہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھائیں۔ مکہ معاہدے کی تشکیل دراصل اسی امریکی دبا اور بے رخی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اسی پس منظر میں مکہ معاہدہ وجود میں آیا، جو 2025ء کے پاک سعودی اسٹریٹجک معاہدے (SMDA)کی ایک توسیعی اور مضبوط شکل ہے۔ یہ ایک ایسا تکون ہے جس میں سعودی عرب کا سرمایہ، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی( بالخصوص ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر) اور پاکستان کی عسکری قوت اور ڈیٹرنس شامل ہیں۔ اس معاہدے کا اصل ہدف یمن فتح کرنا نہیں، بلکہ سعودی عرب کے اندر دفاعی صنعت کو کھڑا کرنا ہے۔ ترک کمپنی بائیکر اور سعودی ملٹری انڈسٹریز (SAMI) کے درمیان ’ اکنجی‘(Akinci)ڈرونز کی مقامی سطح پر تیاری کا معاہدہ اس کی واضح دلیل ہے، جس کے تحت 2026ء تک ان ڈرونز کی 70فیصد تیاری سعودی سرزمین پر ہوگی۔ اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جو اسلام آباد کے ایوانوں اور عالمی دارالحکومتوں میں گونج رہا ہے۔ کیا ہم ایک بار پھر پرائی آگ میں کودیں گے؟ 2015ء میں پاکستانی پارلیمان نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج 2026ء میں بھی یہ پالیسی اٹل ہے۔
یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ مکہ معاہدے کے آرٹیکل 5جیسی شق کے تحت تو دستخط کنندگان پابند ہیں، اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان، جسے سعودی کیش کی اشد ضرورت ہے، انکار کی پوزیشن میں نہیں۔ یہ خدشات بھی اپنی جگہ درست ہیں کہ اس معاہدے نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، کیونکہ انڈیا اب پاکستان کو ترکیہ کی جدید ٹیکنالوجی اور سعودی سرمائے سے لیس ہوتا دیکھ رہا ہے جس سے آئی میک (IMEC)جیسے بھارتی خواب چکنا چور ہو سکتے ہیں۔ مگر اس معاہدے کی اصل حقیقت اور اس کی حدود اگست 2026ء کے جازان حملے نے کھول کر رکھ دی ہیں۔ مکہ معاہدے پر دستخط کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ محض 48گھنٹے بعد حوثیوں نے جازان کی آرامکو ریفائنری پر حملہ کر دیا۔ کیا سعودی عرب نے معاہدے کی شق کو حرکت میں لا کر پاکستان یا ترکیہ کی فوج طلب کی؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد تینوں کی قیادت یہ بخوبی جانتی ہے کہ یہ معاہدہ ایک نفسیاتی ڈیٹرنس، سفارتی دبائو اور دفاعی صنعت کے فروغ کا فریم ورک ہے، نہ کہ یمن کے گمنام پہاڑوں میں خونی جنگ لڑنے کا پروانہ۔ یہ معاہدہ روایتی ریاستی جارحیت کو تو روک سکتا ہے مگر گرے زون ( Gray۔zone) کی غیر متناسب جنگوں کے لیے نہیں۔
پاکستان کا اصل کردار ایک جنگجو کا نہیں، بلکہ ایک ناگزیر ثالث اور سفارتکار کا ہے، جس نے 2025ء اور 2026ء کے علاقائی بحرانوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر پاکستان یمن میں فریق بنتا ہے تو وہ تہران میں اپنا وہ سفارتی رسوخ کھو دے گا جو اسے ایک منفرد عالمی حیثیت بخشتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بلاشبہ عالمی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب خطے کی طاقتیں اپنی بقا کے لیے واشنگٹن کی طرف دیکھنے کے بجائے خود انحصاری کے راستے پر چل نکلی ہیں۔ تاہم، اس نئے عالمی نظام میں پاکستان نے یہ سبق اچھی طرح سیکھ لیا ہے کہ دوستوں کے دفاع کا مطلب ان کی دلدل میں ڈوبنا نہیں ہوتا۔ ہماری سفارتی غیر جانبداری اور اسٹریٹجک توازن ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

جواب دیں

Back to top button