اسلام آباد: صوبہ یا نیا انتظامی ڈھانچہ؟

اسلام آباد: صوبہ یا نیا انتظامی ڈھانچہ؟
تجمّل حسین ہاشمی
اسلام آباد کو صوبائی یا انتظامی ڈھانچہ دینے کی بحث ایک مرتبہ پھر ملکی حلقوں میں موضوعِ بحث ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے لیے جس نئے نظام پر غور کیا جا رہا ہے، اس کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 27رکنی منتخب اسمبلی قائم کرنے کی تجویز سامنے ہے، جس میں 21ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5اور اقلیت کے لیے ایک نشست رکھی جائے گی۔ اس نظام میں چیف ایگزیکٹو کا تصور بھی موجود ہے، جو وزیراعلیٰ یا میئر کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور بعض دیگر عوامی خدمات منتخب مقامی حکومت کے سپرد کرنے کی تجویز ہے جبکہ امن و امان اور ماسٹر پلان جیسے اہم معاملات وفاق کے پاس رہیں گے۔
یہ سوچ وچار اچانک سامنے نہیں آئی۔ اگست 2025ء میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں اسلام آباد کی گورننس اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے، قانون سازی کی ضروریات اور اختیارات کی تقسیم پر غور کیا گیا۔ کمیٹی میں وفاقی دارالحکومت سے متعلق منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی شامل تھے، جبکہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور انتظامی و قانونی رکاوٹوں پر بھی بریفنگ دی گئی ۔ کیا اسلام آباد کو باقاعدہ صوبہ بنایا جا رہا ہے یا صرف انتظامی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے؟ موجودہ تجاویز کو فی الحال مکمل آئینی صوبہ بنانے کے بجائے وفاقی دارالحکومت میں منتخب اور نسبتاً خودمختار طرزِ حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کہنا زیادہ درست ہوگا۔ البتہ 2026ء میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت بعض سیاسی رہنمائوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اسلام آباد کو باقاعدہ صوبائی حیثیت دینے اور نئے صوبوں کا اعلان بھی سامنے آیا ہے، جس سے یہ بحث انتظامی اصلاحات سے آگے بڑھ کر آئینی حیثیت کے سوال تک پہنچ چکی ہے۔
اگر اسلام آباد کو مستقبل میں باقاعدہ صوبہ بنانے کی بات عملی مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو سب سے اہم سوال آئین میں ترمیم کا ہوگا۔ آئین کا آرٹیکل 258ایسے علاقوں کے انتظام سے متعلق ہے جو کسی صوبے کا حصہ نہیں، اس لیے اسے براہِ راست نیا صوبہ بنانے کی شق سمجھنا درست نہیں۔ اگر کسی موجودہ صوبے کی حدود کو تبدیل کرکے اسلام آباد کے نئے صوبے میں کوئی علاقہ شامل کیا جاتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 239(4)کی پابندی بھی سامنے آئے گی، جس کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی منظوری ضروری ہوگی۔ اس کے علاوہ صوبائی حیثیت کے لیے آئین کے متعلقہ حصوں میں ترمیم کا پارلیمانی عمل بھی ناگزیر ہوگا۔
یہاں ایک اور اہم بات بھی قابلِ غور ہے کہ اسلام آباد کا موجودہ رقبہ قریباً 906مربع کلومیٹر ہے، جبکہ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی آبادی قریباً 23لاکھ 60ہزار ہے۔ اسلام آباد کے حوالے سے ایک بنیادی سوال اس کی جغرافیائی حدود کا بھی ہے۔ اگر اسے صرف موجودہ وفاقی دارالحکومت تک محدود رکھا جاتا ہے تو معاملہ ایک الگ نوعیت کا ہوگا لیکن اگر مستقبل میں اسے وسیع کرکے پنجاب یا خیبرپختونخوا کے کسی حصے کو بھی شامل کرنے کی تجویز سامنے آتی ہے تو معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ راولپنڈی، مری، چکوال یا ہری پور جیسے علاقوں کو اسلام آباد میں شامل کرنے کی کوئی ایسی تجویز موجودہ 27رکنی اسمبلی والے انتظامی مسودے کا حصہ نہیں جسے حتمی فیصلہ سمجھا جائے۔ اگر ایسی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو اس کے لیے متعلقہ صوبوں، عوام اور آئینی اداروں کی منظوری کا سوال بھی پیدا ہوگا۔
اسلام آباد میں موجودہ انتظامی نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شہریوں کو مختلف نوعیت کی خدمات کے لیے مختلف وفاقی، شہری اور ترقیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ منتخب حکومت اور واضح انتظامی اختیار کی عدم موجودگی میں جواب دہی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر صحت، تعلیم، ماحولیات، سماجی بہبود، سیاحت، ڈیجیٹل گورننس اور دیگر شہری خدمات ایک منتخب انتظامی ڈھانچے کے ذریعے چلائی جائیں اور اس حکومت کو اسمبلی کے سامنے جواب دہ بنایا جائے تو شہریوں کے لیے فیصلہ سازی اور احتساب کا نظام نسبتاً واضح ہوسکتا ہے۔ لیکن صرف اسمبلی بنا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل سوال مالی اختیارات، ادارہ جاتی خودمختاری اور وفاقی حکومت و مقامی منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کا ہے۔ اگر اسلام آباد کی منتخب حکومت کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو اور ہر بڑے معاملے کے لیے وفاقی اداروں کی طرف دیکھنا پڑے تو 27رکنی اسمبلی بھی محض ایک سیاسی نمائش بن کر رہ جائے گی۔ اگر اسلام آباد کو مکمل صوبائی حیثیت دینے کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف انتظامی معاملات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آئینی، سیاسی اور مالی سطح پر بھی ہوں گے۔ پارلیمان میں نمائندگی، سینیٹ کی نشستیں، مالی وسائل کی تقسیم اور وفاقی و صوبائی اختیارات کی نئی ترتیب جیسے سوالات بھی سامنے آئیں گے۔ اس لیے یہ فیصلہ محض ایک انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع سیاسی اور آئینی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے اور اس کی انتظامی ضروریات عام شہروں سے مختلف ہیں۔ ایک طرف یہاں وفاقی حکومت، پارلیمان، سفارت خانے اور قومی ادارے موجود ہیں، تو دوسری طرف لاکھوں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں تعلیم، صحت، صفائی، ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور بلدیاتی خدمات کی ضرورت ہے۔ اس لیے ایسا نظام ضروری ہے جس میں دارالحکومت کی قومی اہمیت بھی برقرار رہے اور شہریوں کو منتخب حکومت کے ذریعے موثر نمائندگی بھی ملے۔
بات آخرکار ایک ہی نکتے پر آکر ٹھہرتی ہے کہ اسلام آباد کو انتظامی نظام دینا ہے یا مکمل صوبہ بنانا ہے، اس کا فیصلہ سیاسی ضرورت کے بجائے آئینی تقاضوں، انتظامی ضرورت اور عوامی نمائندگی کو سامنے رکھ کر کرنا پڑے گا۔ اگر 27رکنی منتخب اسمبلی کا تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک نیا انتظامی ماڈل بن سکتا ہے، لیکن اگر مقصد باقاعدہ صوبہ بنانا ہے تو حکومت کو قوم کے سامنے واضح آئینی روڈ میپ رکھنا ہوگا۔ اسلام آباد کے مستقبل کا فیصلہ آئین، پارلیمان اور عوامی نمائندگی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ مزید برآں، نئے صوبوں کے حوالے سے اعلانات پر پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ نے کھلم کھلا مخالفت کی ہے، دوسری طرف ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ( ن) نئے صوبوں کی حمایت میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اینکر عبدالمالک کے مطابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر پورا نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ بھی کچھ کھینچ تان کے بعد عمران خان کی رضامندی کے ساتھ آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ماہ کے آخر تک ساری تصویر واضح ہو جائے گی۔





