ColumnImtiaz Aasi

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور رانا ثناء اللہ کا دعویٰ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
گو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو ابھی کافی روز باقی ہیں، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا دعویٰ ہے پی ٹی آئی کا مارچ ٹکے ٹوکری ہو جائے گا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن کے پی کے میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لئے ورکرز کی ریہرسل سے کچھ بعید نہیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لئے بہت سنجیدہ ہے۔ ہم رانا ثناء اللہ جو ایک زیرک سیاست دان ہیں اور جیل یاترا کا بھی انہیں تجربہ ہے ان کے اس دعویٰ کو یکسر مسترد بھی نہیں کر سکتے، مگر اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی ورکرز کی پکڑ دھکڑ اس بات کا بین ثبوت ہے لانگ مارچ سے حکمران خائف ضرور ہیں۔ ماضی قریب میں پی ٹی آئی ورکرز کی قربانیوں سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا بانی پی ٹی آئی کے جانثاروں میں ابھی دم خم ضرور ہے، ورنہ جس طرح فوجی اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے پی ٹی آئی رہنمائوں اور ورکرز کو سزائیں سنائی گئیں، کے بعد پی ٹی آئی سڑکوں پر آنے سے گریز کر سکتی تھی، جبکہ اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنما لانگ مارچ کے لئے پر امید ہیں۔ اس ناچیز نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور میں بہت قریب سے دیکھا اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں اور ورکرز کو کوڑے کھاتے اور جیلوں میں جاتے دیکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے بعد اگر کسی جماعت، اس کے رہنمائوں اور ورکرز نے عدالتوں سے سزا یاب ہونے کے باوجود پارٹی سے کنارا کشی نہیں کی تو یہ اعزاز پی ٹی آئی کو حاصل ہے۔ حکومت کی ناقص کارکردگی اور عوام کو مسائل کے گرداب میں پھنسانے کا سہرا شہباز حکومت کے سر ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اس وقت عوام مہنگائی کے ہاتھوں بلبلا رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ تو جماعت اسلامی کو کریڈٹ جاتا ہے جو عوام کی مشکلات کے حل کے لئے سڑکوں پر نکل آئی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت پٹرول کی قیمتوں میں سو روپے کی کمی پر آمادہ ہوئی ہے، ورنہ تو آئے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا وتیرہ تھا۔ کہتے ہیں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، آج جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی عوام کے مسائل کے حل کے لئے سر جوڑے ہیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں باہم مل کر سڑکوں پر نکل آئیں تو یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا حکومت کا دھڑم تختہ ہو جائے۔ جب یہ کالم لکھا جا رہا تھا تو کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور پہنچ کر لانگ مارچ کے لئے اپنی جماعت کے ورکرز کو تیاری کرنے کو کہنا تھا۔ مجھے نہیں لگتا پنجاب حکومت وزیراعلیٰ آفریدی کو کسی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت دے گی۔ جیسے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے غریب عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا ویسے ہی بانی پی ٹی آءی نے قید وبند میں رہتے ہوئے ملک کے عوام کی ہمدردیاں سمیٹ لی ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان حد درجہ مضبوط اعصاب کا مالک ہے، قید و بند سے گھبرانے والا نہیں ہے۔ اس کے ناقدین کچھ بھی کہہ لیں علیحدہ بات ہے مگر ہماری اطلاعات کے مطابق وہ بالکل گھبراہٹ کا شکار نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ پر عزم ہے۔ بانی کے مقابلے میں میاں نواز شریف ہوتے تو کب کے ملک چھوڑ چکے ہوتے۔ بسا اوقات یہ ناچیز یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے بانی پی ٹی آئی نے عوام کو کون سی دعا دی ہے جو ملک کے بوڑھے جوان اور بچے سبھی اس کے گرویدہ ہیں۔ دراصل ملک کے عوام مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو کئی بار آزما چکے ہیں مستقبل قریب میں انہیں دونوں جماعتوں سے کسی اچھے کی امید عبث ہے۔ ہم رانا ثناء اللہ کے بیان پر بات کر رہے تھے پنجاب کی مختلف جیلوں میں پی ٹی آئی ورکرز کو نظر بند کر دیا گیا ہے جو اس امر کا عکاس ہے حکومت پی ٹی آئی کے مارچ کو بہرصورت ناکام بنا چاہتی ہے۔ اس حقیقت سے بھی صرف نظر ممکن نہیں جب بھی کسی معتوب سیاسی جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی حکومت کا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پیپلز کے بانی کی پھانسی کے بعد بعض حلقوں کو امید تھی پیپلز پارٹی ختم ہو گئی ہے مگر اس کے تمام اندازے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں اور لیاقت باغ کے میدان میں انہوں نے تاریخی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے اسی مقام پر جلسہ عام کے بعد بعض نادیدہ قوتوں نے انہیں شہید کر دیا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی بھٹو دور کی طرح تو نہیں رہی تاہم آج بھی چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک ضرور ہے۔ پنجاب جہاں شہید بھٹو نے پارٹی کی بنیاد رکھی تھی اور پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا جیسے آج کل مسلم لیگ نون نے پنجاب کو اپنی جماعت کا گڑھ سمجھ رکھا ہے حالانکہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون کو پنجاب کا گڑھ سمجھنے والوں کو اچھی طرح سمجھ آگئی تھی پنجاب اب مسلم لیگ نون کا گڑھ نہیں رہا ہے بلکہ پی ٹی آئی نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کی ہونہار بیٹی محترمہ مریم نواز اپنی جماعت کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں، مگر غریب عوام مسلم لیگ نون سے ناامید ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کچھ بھی کہیں پی ٹی آئی کے ورکرز کی مختلف شہروں میں گرفتاریاں اور نظر بندی اس بات کا واضح ثبوت ہے شہباز حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوف زدہ ہے۔ دوسری طرف لانگ مارچ پی ٹی آئی کے لئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے، اگر وہ لانگ مارچ میں کامیاب ہوتی ہے تو حکمران منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، اور لانگ مارچ ناکام ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button