ColumnQadir Khan

نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن

قادر خان یوسف زئی

سیاست کے سینے میں راز دفن ہوتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں ایسے فیصلے پکتے ہیں جن کی آنچ سے عالمی منظر نامہ پگھل کر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آج کل بحیرہ احمر کی لہروں اور یمن کے تپتے صحرائوں پر بھی ایک ایسی ہی بے چینی رقصاں ہے، جہاں جنگ کے شعلے عالمی تجارتی شاہراہوں کو چھو رہے ہیں۔ بظاہر تو واشنگٹن کی ٹرمپ انتظامیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کر کے ایک محتاط حکمت عملی کا تاثر دیا ہے، لیکن پردے کے پیچھے کی کہانی اتنی سادہ نہیں۔ کیا یہ محض خطے کے اتحادیوں کو بااختیار بنانے کا معاملہ ہے یا پھر شطرنج کی اس بساط پر ایک نیا ’’ گریٹ گیم‘‘ کھیلا جا رہا ہے، جس میں پیادے تو کوئی اور ہیں مگر چالیں کہیں اور سے چلی جا رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو سفارتی راہداریوں میں سرگوشیوں کی صورت گونج رہا ہے، کیونکہ الفاظ اور اقدامات کا تضاد ایک ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جس میں ابہام کے رنگ گہرے ہیں۔

درحقیقت، امریکہ کا حوثیوں پر براہِ راست حملہ نہ کرنے کا فیصلہ محض فوجی مداخلت سے گریز نہیں، بلکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک کثیر الجہتی اور ’’ کم خرچ، بالا نشین‘‘ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسی پراکسی جنگ کا نیا باب ہے جس میں امریکہ خود میدان میں اترنے کے3 بجائے اپنے اتحادیوں کو عسکری، انٹیلی جنس اور تکنیکی مدد فراہم کر کے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ایک طرف تو امریکی جانوں اور وسائل کو بچانا ہے اور دوسری طرف کلیدی اتحادیوں کو اس جنگ میں الجھا کر خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں برقرار رکھنا ہے۔ واشنگٹن کی امن پسندی کا عالم یہ ہے کہ وہ خود ٹریگر نہیں دباتا، بس اتحادیوں کی بندوق میں گولیاں بھرنے اور ہدف دکھانے کا ثواب کماتا ہے۔

اس پیچیدہ کھیل میں حالیہ دنوں جو سب سے حیران کن تبدیلی رونما ہوئی ہے، وہ یمن کے محاذ پر حوثیوں کی بڑے پیمانے پر عسکری کامیابیاں ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس اور جدید ترین ٹارگٹنگ سافٹ ویئر کی فراہمی کے باوجود، حوثی ملیشیا نے نہ صرف اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے بلکہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ کیا ہے۔ حوثیوں کی اس پیش قدمی نے ثابت کر دیا ہے کہ محض فضائی برتری اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر زمین پر لڑی جانے والی گوریلا جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ اس غیر متوقع کامیابی نے خطے کی طاقت کے توازن میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے، جس نے امریکی حکمت عملی کے کھوکھلے پن کو عیاں کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب جیسے اتحادیوں کو ایک گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسی تشویش اور زمینی حقائق کی تبدیلی کے تناظر میں سفارتی راہداریوں میں ایک نیا بیانیہ جنم لے رہا ہے، جسے بعض حلقے ممکنہ ’’ مکہ معاہدے‘‘ کی بازگشت قرار دے رہے ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور پاکستان کے درمیان اس سفارتی تکون کے خدوخال ابھی پوری طرح نمایاں تو نہیں، لیکن اس کے ممکنہ نتائج خطے کی سیاست کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا ردعمل اس پوری صورتحال میں انتہائی محتاط اور دو دھاری تلوار پر چلنے کے مترادف ہے۔ ریاض اب یہ جان چکا ہے کہ امریکی چھتری اسے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، لہٰذا وہ ایک طرف فوجی دبائو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف قطر جیسی موثر سفارتی قوت کے ذریعے مذاکرات اور مفاہمت کے راستے بھی کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ قطر کا کردار اس میں ایک ایسے پل کا ہو گا جو متحارب فریقوں کو ایک میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کی شمولیت ریاض کو ایک نفسیاتی اور عسکری طمانیت فراہم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

لیکن اس پوری بساط پر سب سے کڑا امتحان پاکستان کا ہے۔ کسی بھی ممکنہ مکہ معاہدے یا علاقائی صف بندی میں اسلام آباد کا کردار ایک انتہائی نازک سفارتی رقص کی مانند ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہے، جو پاکستان کا دیرینہ اور آزمودہ معاشی و تزویراتی اتحادی ہے، جس کے ساتھ ہمارے گہرے مذہبی، ثقافتی اور دفاعی روابط ہیں۔ دوسری طرف ایران ہے، جو ہمارا اہم ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کے اندرونی امن اور تزویراتی مفادات کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان یہ قطعی طور پر افورڈ نہیں کر سکتا کہ وہ یمن تنازع میں کوئی ایسا فریق بنے جسے تہران اپنے خلاف ایک براہِ راست عسکری یا سفارتی اقدام سمجھے۔ یہ ’’ نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن‘‘ والی کیفیت ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ وہ کٹھن مرحلہ ہے جہاں ایک غلط بیان یا ایک عجلت پسندانہ قدم دہائیوں کی سفارتی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔

خارجہ محاذ کے ساتھ ساتھ، اس صورتحال میں پاکستان کے لیے عسکری چیلنجز بھی کم سنگین نہیں۔ پاکستانی افواج پہلے ہی ملک کی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے عفریت اور مشرقی سرحدوں پر روایتی حریف کے دبا کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کے کسی تنازع میں عسکری طور پر الجھنا، خواہ وہ محض مشاورت یا تربیت کی حد تک ہی کیوں نہ ہو، ایک انتہائی پرخطر کھیل ہے۔ فوج کی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ پراکسی جنگوں کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان سعودی عرب کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے، تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ یہ ضمانت یمن میں حوثیوں کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کا حصہ نہ سمجھی جائے۔ توازن کا یہ کھیل صرف سفارتکاروں کی میٹھی باتوں سے نہیں کھیلا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے عسکری حکمت عملی میں وہ لچک اور گہرائی درکار ہے جو بیک وقت ریاض کو تنہا محسوس نہ ہونے دے اور تہران کو بھی عدم تحفظ کا شکار نہ کرے۔

البتہ، تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی اور خطے کے ممالک کا آپس میں مل بیٹھنا پچھلی دہائیوں کی غلطیوں سے سیکھنے کا نتیجہ ہے۔ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کے بعد، اگر امریکہ براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا ہے تو یہ ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کی عالمی تجارتی گزرگاہوں کا تحفظ صرف امریکہ کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مفاد ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے پیدا کردہ عدم استحکام کو روکنے کے لیے اگر سعودی عرب، قطر اور پاکستان مل کر کوئی لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں، تو یہ خطے میں استحکام لانے کی ایک مقامی اور تعمیری کوشش سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ محض امریکی پراکسی کا حصہ۔ ان تمام دلائل کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ خطے کو بیرونی طاقتوں کی آٹ سورس کی گئی جنگوں سے کبھی امن نہیں مل سکتا۔ جب بڑی طاقتیں چھوٹی قوموں کی سرزمین کو اپنی شطرنج کی بساط بنا لیتی ہیں تو وہاں امن کی فاختائیں نہیں، بلکہ موت کے گدھ منڈلاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button