CM RizwanColumn

نالہ لئی، بشکیک اجلاس، ادھر ڈوبے، ادھر نکلے

جگائے گا کون؟
نالہ لئی، بشکیک اجلاس، ادھر ڈوبے، ادھر نکلے
تحریر: سی ایم رضوان
مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا ایک شہرہ آفاق شعر پاکستانی حکومت کی دو مختلف پہلوئوں سے کمزور اور مضبوط کارکردگی کی دلچسپ عکاسی کرتا ہے کہ ’’ جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں۔۔۔ ادھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے ‘‘۔
یکم ستمبر کو ایک طرف راولپنڈی، اسلام آباد میں غیر معمولی بارشِ کے باعث ناقص انتظامات کی وجہ سے پنڈی شہر زیر آب تھا تو اسی روز دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی کارکردگی پر پذیرائی ہو رہی تھی۔ جہاں تک نالہ لئی میں طغیانی کا تعلق ہے تو یہ ہر سال کا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ نالہ لئی کا آغاز مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتا ہے۔ جب بھی اسلام آباد اور پہاڑی سلسلے میں شدید بارش ہوتی ہے، تو سارا پانی تیزی سے ڈھالان کے ذریعے نیچے راولپنڈی کے نشیبی علاقوں کی طرف بہتا ہے جبکہ سابقہ کئی دہائیوں کی بدانتظامی کی بنا پر نالہ لئی کے دونوں اطراف اور اس سے ملنے والے دیگر قدرتی نالوں پر غیر قانونی آبادیوں اور تعمیرات کی وجہ سے نالے کی چوڑائی اور قدرتی گزرگاہ بہت تنگ ہو چکی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ شہر کا پلاسٹک، ملبہ اور گندگی نالہ لئی میں پھینک دی جاتی ہے، جس سے نالے کے مختلف مقامات پر بندش پیدا ہو جاتی ہے اور پانی کی روانی رک جاتی ہے۔ دوسری طرف جڑواں شہروں میں کنکریٹ کے استعمال کی وجہ سے زمین میں پانی جذب ہونے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے، جس سے بارش کا تمام پانی سڑکوں سے ہوتا ہوا نالے میں آ گرتا ہے۔ ستم بالائے ستم کہ مون سون سے پہلے نالے کی گہرائی نہ ہونا اور نالے کے پیندے میں مٹی اور گار کا جم جانا بھی پانی کے جلدی اوور فلو ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ نالہ لئی کو کشادہ کیا جائے، اس کے دونوں کنارے پکے کیے جائیں اور فلڈ واٹر چینل بنایا جائے۔ نالے کے قدرتی راستے سے تمام غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا کر وہاں حفاظتی بند تعمیر کیے جائیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں اور اسلام آباد کے حدود میں چھوٹے ڈیمز یا واٹر ہولڈنگ پائونڈز بنائے جائیں تاکہ بارش کے پانی کے تیز بہا کو روکا جا سکے اور وہ ایک ساتھ راولپنڈی میں داخل نہ ہو۔ حسن اتفاق کہ ان دنوں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ایک ریٹائرڈ کیپٹن ہیں۔ ان کی سخت توجہ سے نالہ لئی میں کچرا پھینکنے پر سخت قانونی پابندی لگائی جائے اور ارد گرد کی آبادیوں کے لئے کچرا اٹھانے کا جامع نظام بنایا جائے۔ ہر سال مون سون سے قبل ہیوی مشینری کے ذریعے نالے کی مکمل صفائی اور گہرائی کی جائے تاکہ اس میں پانی سنبھالنے کی صلاحیت بڑھے۔ ان اقدامات سے یقیناً ڈوبنے نکلنے کا ماخذ آفاقی ہو سکتا ہے ورنہ اگلے سال بھی ڈوبنے نکلنے کے لئے نالہ لئی ہی میسر اور کافی ہو گا۔
یہ تو تھی پاکستانی حکمرانوں کی انتظامی صلاحیتوں کی نالہ لئی میں ڈوبنے کی روداد لیکن دوسری طرف شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کے 26ویں سربراہی اجلاس منعقدہ ( بشکیک) کرغزستان کے موقع پر پاکستانی حکمرانوں کے ابھر کر نکلنے کا منظر بھی یقیناً قابل فخر ہے۔ جہاں بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودگی میں اپنے صدارتی خطاب میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی سلامتی، پانی کے بحران اور اقتصادی تعاون سمیت کئی اہم امور پر پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وزیرِ اعظم نے پانی کے مسئلے پر سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی مقاصد یا دبائو ڈالنے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پانی کو خطے کی بقا کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی حقیقی صلاحیتوں اور متبادل کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے تنظیم کے 25سال مکمل ہونے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او عالمی امن اور استحکام کے لئے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان اس فورم کا ایک سرگرم اور ذمہ دار رکن ہے اور خطے کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی بحرانوں کے دوران امن قائم کرنے کے لئے ہمیشہ موثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہونے والی سفارتی کوششوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا ذکر کیا، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ اس اجلاس کے اختتام پر پاکستان نے سال 2026۔27ء کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت باقاعدہ طور پر سنبھال لی ہے۔ اگلا سربراہی اجلاس پاکستان کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے تنظیم کی مشترکہ دستاویزات اور مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔
اس سے قبل پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد نے متعدد عالمی اور علاقائی سربراہانِ مملکت کے ساتھ انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔ دوطرفہ تعلقات، سرحدی سکیورٹی، معاشی و تجارتی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ میزبان ملک کے صدر سے باہمی تعلقات، دوطرفہ تجارت، توانائی اور علاقائی رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس کے سائیڈ لائنز اور ایس سی او پلس اجلاس کے دوران چین، روس، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماں کے ساتھ بھی غیر رسمی و تزویراتی تبادلہ خیال ہوا۔ حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تزویراتی ’’ مکہ دفاعی معاہدے ‘‘ کے حوالے سے ایس سی او اجلاس اور اس سے متوازی سفارتی سرگرمیوں میں اہم باتیں سامنے آئیں کہ بقول علامہ اقبالؒ ’’ جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں‘‘، کے مصداق مکہ معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ اس نئے دفاعی بلاک کا جنرل سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، اور پاکستان ابتدائی 3سال کے لئے اس دفاعی اتحاد کی قیادت کرے گا۔ ترکیہ اور پاکستان کے حکام نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ ایک تزویراتی و دفاعی توازن اور باہمی تحفظ کا فریم ورک ہے، جو کسی بھی مخصوص ملک ( بشمول ایران) کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی، دفاعی خود انحصاری کو مضبوط بنانے کے لئے ہے۔ ایس سی او اجلاس میں ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران، امریکہ، اسرائیل کشیدگی سب سے اہم موضوع رہا۔ پاکستان نے اس بحران میں اپنی سرکاری عدم وابستگی کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ پاکستانی قیادت نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں مزید جنگ کے حق میں نہیں ہے اور وہ فریقین کے درمیان تصادم روکنے اور پائیدار امن کے لئے اپنا مخلصانہ سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس دورے میں ہونے والی تعمیری بات چیت نے دونوں ممالک کے اعتماد کو مزید بحال کیا ہے اور خطے میں تنا کم کرنے میں مدد دی ہے۔ پاکستانی اور ایرانی دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران، امریکہ اور خلیجی خطے کے تمام تنازعات کو جنگ کے بجائے ڈپلومیسی، مذاکرات اور تحمل کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے ایک بار پھر جنگ بندی اور بحیرہ عرب و آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لئے اپنے سفارتی فارمولے پر تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی صدارت (2026۔ 2027ئ) کی منتقلی کے بعد، پاکستان نے اپنی ایک سالہ صدارت کے دوران خطے کی معاشی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کے لئے اہم ترجیحات اور اہداف مقرر کیے ہیں۔ جن میں علاقائی مواصلات اور راہداریوں کا فروغ ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور راہداریوں کا استعمال آسان بنایا جائے گا۔ پاکستان اپنی گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں کی تجارت کے لئے بطور گیٹ وے پیش کرے گا۔ دوسری ترجیح ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے لائن ہو گی۔ اس اہم ریلوے لائن اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جلد تکمیل اور تجارتی راستوں کو فعال بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ سی پیک کے زراعت، صنعتی زونز، توانائی اور انفراسٹرکچر کے پائلٹ پروجیکٹس کو دیگر ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی پر کام ہو گا۔ باہمی تجارت کی سہولیات بھی بڑی ترجیح ہوں گی۔ رکن ممالک کے درمیان معاشی رکاوٹیں دور کرنے اور قومی کرنسیوں میں تجارت کی ترغیب دینے پر زور دیا جائے گا۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور حدود پار جرائم کے خاتمے کے لئے ایس سی او کے سکیورٹی فریم ورک کے تحت تمام رکن ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس اور عملی تعاون بڑھایا جائے گا۔ خطے کی پائیدار ترقی کے لئے افغانستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کی کوششوں کی حمایت بھی جاری رکھی جائے گی۔ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نپٹنے کے لئے کلائمیٹ فنڈنگ اور گرین انرجی پراجیکٹس پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے گا۔ ثقافتی رواداری کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ پاکستان 2027ء میں ’ ایس سی او کلچر منسٹرز میٹنگ‘ اور دیگر روایتی میلوں کی میزبانی کے ذریعے سیاحت، آثار قدیمہ اور یوتھ ایکسچینج پروگراموں کے فروغ کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان 2027ء میں اسلام آباد میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جہاں ان اہداف پر ہوئی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button