Column

میں زہرِ ہلاہل کبھی کہہ نہ سکا قند

میں زہرِ ہلاہل کبھی کہہ نہ سکا قند
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
کبھی کبھی ایک جملہ پورے عہد کی گواہی بن جاتا ہے۔ کبھی ایک آواز سیاست سے بلند ہو کر انسان تک پہنچتی ہے اور کبھی برسوں کے اختلافات آنکھوں میں آئے چند آنسوئوں کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جاوید میاں داد کا عمران خان کے بارے میں حالیہ بیان بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔
میاں داد نے عمران خان کے بارے میں کہا: ’’ میں عمران خان کو جانتا ہوں۔ وہ ایماندار آدمی ہے۔ وہ کھانے پینے والا آدمی نہیں ہے، ورنہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔ کیا ہو جائے گا اگر اسے چھوڑ دیا جائے؟ کیا وہ پاکستان کو کھا جائے گا؟‘‘۔ پھر ان کا لہجہ بدل گیا: ’’ وہ بھی کسی کا بیٹا ہے۔ میرے دل میں بہت چلتا ہے، یہ بیچارہ کیا کر رہا ہوگا۔ اگر اسے خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو پورا پاکستان روئے گا۔ میری دعا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ جلد باہر آ جائے‘‘۔ بس یہی وہ جملے ہیں جنہوں نے اس کالم کو جنم دیا۔ کیونکہ یہاں کوئی سیاسی تجزیہ نہیں ہو رہا تھا۔ کوئی صف بندی نہیں تھی۔ کوئی پرانا حساب نہیں کھولا جا رہا تھا۔ یہاں ایک ایسے شخص کی آواز تھی جس نے عمران خان کے ساتھ کھیلا، جیتا، ہارا، اختلاف کیا، شکوے کیے، مگر مشکل وقت میں اسے سیاسی شناخت سے پہلے ایک انسان کے طور پر دیکھا۔ یہاں ایک دوست بول رہا تھا۔ دنیا کے متعدد سابق بین الاقوامی کپتان عمران خان کے لیے آواز اٹھا چکے ہیں۔ عمران خان کے صاحبزادوں سلیمان اور قاسم کا انٹرویو بھی پاکستان میں ایک بڑی بحث کا سبب بنا۔ کرکٹ کی دنیا کے بڑے نام بولے، بیٹوں نے اپنے باپ کے لیے آواز اٹھائی، مگر ان تمام آوازوں کے درمیان میاں داد کے آنسوں میں ایک الگ شدت تھی۔ کیونکہ وہ عمران خان کو شہ سرخیوں سے نہیں جانتے۔ وہ اسے میدان سے جانتے ہیں، ڈریسنگ روم سے جانتے ہیں، کائونٹی کرکٹ کے دنوں سے جانتے ہیں۔ انہوں نے اسے کامیابی میں دیکھا، شکست میں دیکھا اور اختلاف میں بھی دیکھا۔ جاوید میاں داد اور عمران خان پاکستانی کرکٹ کے دو ایسے نام ہیں جنہیں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر یاد کرنا مشکل ہے۔ دونوں نے پاکستان کے لیے کھیلا، فتوحات دیں، تاریخ بنائی اور ایک دوسرے کے ساتھی رہے۔ اختلافات بھی ہوئے۔ میاں داد کے عمران خان سے شکوے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ کا واقعہ بھی ان کے دل میں رہا، جب وہ ایک بڑے انفرادی ریکارڈ کے قریب تھے اور عمران خان نے ٹیم کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے اننگز ڈکلیئر کر دی۔ میاں داد کا دکھ اپنی جگہ درست تھا۔ کپتان کا فیصلہ اپنی جگہ ٹیم کے مفاد میں ہو سکتا تھا۔ کپتان کو کبھی فرد اور ٹیم میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہی کھیل ہے۔ یہی زندگی ہے۔ اختلاف ہوتا ہے، دل دکھتے ہیں، شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔
1992ء کا ورلڈ کپ یاد کیجیے۔ پاکستان عالمی چیمپئن بن چکا تھا۔ عمران خان کپتان تھے۔ فتح کے اس تاریخی لمحے میں میاں داد بھی موجود تھے۔ پھر ایک منظر پاکستانی قوم کے حافظے میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا: میاں داد اپنے کپتان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ وہی دو لوگ تھے جن کے درمیان اختلافات تھے۔ مگر اس لمحے اختلاف کہیں نہیں تھا۔ صرف پاکستان تھا۔ میدان میں مقابلہ تھا، مگر مقصد پاکستان تھا۔ شاید ہم آج یہی بات بھول گئے ہیں۔ ہم اختلاف کو دشمنی بنا دیتے ہیں۔ کوئی ہم سے متفق نہ ہو تو مخالف، سوال کرے تو دشمن۔ سیاسی شناخت اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ انسان کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ میاں داد کا بیان اسی بھولی ہوئی انسانیت کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے عمران خان کے ہر فیصلے کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے اپنے اختلافات سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اپنی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر کہا: ’’ میں عمران خان کو جانتا ہوں۔ وہ ایماندار آدمی ہے‘‘۔ یہ جملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ کسی اجنبی کی رائے نہیں، ایک پرانے ساتھی کی گواہی ہے۔ پھر انہوں نے پوچھا: ’’ کیا ہو جائے گا اگر اسے چھوڑ دیا جائے؟ کیا وہ پاکستان کو کھا جائے گا؟‘‘۔ بظاہر سادہ سوال۔ مگر اس کے پیچھے ایک بڑا سوال چھپا ہے: کیا اختلاف کسی انسان کی انسانیت چھین لیتا ہے؟ ، میاں داد کا جواب تھا: نہیں۔ اسی لیے اگلا جملہ دل کو چیر جاتا ہے: ’’ وہ بھی کسی کا بیٹا ہے‘‘۔ بس۔ نہ کوئی سیاسی دلیل، نہ کوئی لمبی تقریر۔ صرف ایک انسان دوسرے انسان کو یاد کر رہا ہے۔ ہم کسی شخص کو جماعت، عہدے اور نظریے میں دیکھتے دیکھتے بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی کسی کا بیٹا ہوتا ہے، کسی کا بھائی، کسی گھر کی امید۔ میاں داد کو عمران خان کا یہی انسانی چہرہ یاد رہا۔’’ یہ بیچارہ کیا کر رہا ہوگا‘‘۔ یہاں سیاست خاموش ہو جاتی ہے۔ یہاں ایک دوست بولتا ہے۔ اور پھر وہ جملہ آتا ہے جس نے اس بیان کو معمول کے انٹرویو سے اٹھا کر انسانی احساس کی بلند سطح تک پہنچا دیا: ’’ اگر اسے خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو پورا پاکستان روئے گا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے میاں داد آبدیدہ ہو گئے۔ایک عظیم کرکٹر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ایک پرانے ساتھی کی آواز میں لرزش تھی۔ اور ایک پاکستانی اپنے دوسرے پاکستانی کے لیے فکر مند تھا۔ دنیا کے کپتانوں کی اپیل اپنی جگہ اہم ہے۔ بیٹوں کی فریاد اپنی جگہ دل ہلا دینے والی ہے۔ مگر میاں داد کے آنسوئوں میں ایک پوری رفاقت کی تاریخ تھی۔ دنیا نے عمران خان کو سابق کپتان کے طور پر یاد کیا، بیٹوں نے باپ کے طور پر پکارا، مگر میاں داد نے اسے ساتھی اور انسان کے طور پر یاد کیا۔ شاید اسی لیے یہ آواز اتنی دور تک گئی۔ اور شاید اسی لیے اس بیان کے بعد میاں داد کا اخلاقی قد بھی پہلے سے بلند دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان اور میاں داد دونوں پاکستان کے ہیرو ہیں، مگر بڑے انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ اس نے اپنے عہد میں کیا حاصل کیا؛ یہ بھی ہے کہ دوسرے کے مشکل وقت میں اس کے دل میں کیا باقی رہا۔ میاں داد کے دل میں شکوے کے باوجود درد باقی تھا ۔ اور درد، شاید انسانیت کی آخری علامت ہے۔ عمران خان اور جاوید میاں داد دونوں پاکستان کے بڑے کرکٹ ہیرو ہیں۔ دونوں نے اس ملک کو خوشی، فخر اور فتح کے بے شمار لمحے دئیے۔ مگر میاں داد کے اس ایک بیان نے ایک اور سوال کھڑا کر دیا ہے: عظمت صرف میدان میں کارنامہ انجام دینے کا نام ہے یا مشکل وقت میں اپنے اختلاف سے بلند ہو کر دوسرے انسان کے لیے کھڑے ہونے کا بھی؟۔ میاں داد نے اس سوال کا جواب تقریر سے نہیں دیا۔ اپنے آنسوئوں سے دیا۔ کرکٹ کے میدان میں میاں داد نے ہزاروں رنز بنائے، یادگار اننگز کھیلیں، ریکارڈ قائم کیے۔ مگر بعض اننگز اسکور بورڈ پر درج نہیں ہوتیں۔ کبھی انسان کی سب سے بڑی اننگز اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے اختلاف سے اوپر اٹھ کر دوسرے انسان کے لیے بولتا ہے۔
میاں داد نے شاید ایسی ہی ایک اننگز کھیلی ہے۔ اور اس اننگز کا اسکور کسی ریکارڈ بک میں نہیں، لوگوں کے دلوں میں لکھا جائے گا۔ شاید اسی لیے غالب کا یہ شعر آج میاں داد کے بیان کے ساتھ عجیب مناسبت رکھتا ہے:
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
تلخیِ حقائق کو کہاں تک چھپاتا
سچ کبھی کبھی کڑوا ہوتا ہے۔ مگر جب سچ دل سے نکلے، آنکھوں میں آنسو لے آئے اور کسی دوسرے انسان کے لیے درد بن جائے تو پھر وہ محض سچ نہیں رہتا۔ وہ گواہی بن جاتا ہے۔ اور میاں داد نے اپنے آنسوئوں سے شاید یہی گواہی دی ہے: اختلاف اپنی جگہ، انسانیت اپنی جگہ۔

جواب دیں

Back to top button