CM RizwanColumn

14بچے کا مجرم ہمارا نظام

14بچے y کا مجرم ہمارا نظام

تحریر : سی ایم رضوان

پاکستان کے تمام صوبوں اور مرکز میں قائم تقریباً تمام سرکاری ہسپتالوں اور تمام سرکاری معالجاتی مراکز میں عام انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کا المیہ کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے تب سے لے کر آج تک تمام ادوار کے اس حوالے سے حالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان تمام سرکاری ہسپتالوں میں عام شہریوں اور غریب مریضوں کی جو تذلیل کی جاتی ہے اس سے ہمارا سارے کا سارا نظام مکمل طور پر آگاہ بھی ہے اور اس نظام کے تمام کار پرداز اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان ہسپتالوں میں تعینات عملہ، ڈاکٹرز اور نرسیں انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اور تسلسل کے ساتھ یہ ظالمانہ رویہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان قصاب صفت مسیحائوں کی بداعمالیوں کا نتیجہ اکثر انسانی جانوں کے ضیاع حتیٰ کہ نومولود بچوں کے مرنے یا جل جانے کی صورت میں بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ تو کیا یہ کہنا بجا نہیں کہ ان تمام مظالم کا مجرم ہمارا نظام ہے جو اشرافیہ کو تو پروٹوکول دیتا ہے مگر غریب اور عام پاکستانی کو ذلالت اور موت کے سوا کچھ دینے کے قابل نہیں۔ کیا اس المیہ کے شکار چودہ نومولود بچوں کے والدین خصوصاً مائوں کا ہاتھ اس نظام کے گریبان پر نہیں آنا چاہئے جو چودہ پھولوں کو جلا کر خاکستر کر کے بھی ڈھٹائی کے ساتھ چل رہا ہے۔ کیا اس المیہ کے بعد ہمارے اس نظام کا پہیہ رک نہیں جانا چایئے تھا۔ لیکن۔ یہ تب ہونا جب اس نظام کے کرتا دھرتا ضمیر نامی کسی شے کے حامل ہوتے۔

قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کی تاریخ میں سرکاری ہسپتالوں کی نرسریوں یا اِنکیوبیشن وارڈز میں شارٹ سرکٹ اور ایئر کنڈیشنر کمپریسر پھٹنے کے باعث آتشزدگی کے متعدد چھوٹے بڑے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے دو بڑے سانحات ایسے ہیں جن کی بازگشت عالمی میڈیا پر بھی سنائی دی اور اِن میں مجموعی طور پر کم از کم 25نومولود بچے لقمہ اجل بنے۔ تاہم پاکستان کی تاریخ میں ہسپتال کے اندر نومولود بچوں کے جلنے کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین واقعہ حال ہی میں 26اگست 2026ء کو وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) میں پیش آیا۔ اِس المناک واقعے میں نرسری ( آئی سی یو) میں موجود 15بچوں میں سے 14معصوم نومولود بچے جل کر یا دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے، جبکہ صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا۔ اس واقعے کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اس میں بعض بچوں کی صرف راکھ ہی ان ماوں کو ملی جنہوں نے نو ماہ تک اپنے ان جگر گوشوں کو اپنے بطن میں پالا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس زچہ و بچہ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع اس نرسری میں ایئر کنڈیشنر کا مبینہ طور پر کمپریسر پھٹنے اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی اور وارڈ میں ہائی آکسیجن سپلائی لائنز اور سلنڈرز موجود ہونے کی وجہ سے آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ہولناک شکل اختیار کر لی۔ اِس سنگین مجرمانہ غفلت پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فوری ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا۔ تاہم اس سے قبل جون 2024ء میں سانحہ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال پیش آیا تھا۔ پنجاب کے شہر ساہیوال کے اس سرکاری تدریسی ہسپتال کے چائلڈ وارڈ میں اِس آتشزدگی کے نتیجے میں 11نومولود بچے جھلس کر اور دم گھٹنے کے باعث جاں بحق ہوئے تھے۔ تب بھی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وارڈ میں موجود ائیر کنڈیشنر کے سسٹم میں پیدا ہونے والے شارٹ سرکٹ سے آگ لگی۔ بعد ازاں انکوائری رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ہسپتال کے فائر ایکسٹینگوشر ( آگ بجھانے والے آلات) ایکسپائر ہو چکے تھے جس کی وجہ سے بروقت آگ پر قابو نہ پایا جا سکا۔ تب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور تین سینئر ڈاکٹروں کو حراست میں لینے اور معطل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس نوعیت کے دیگر چھوٹے اور متفرق واقعات بھی اکثر پیش آتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارا شعبہ صحت شاید بنا ہی اس لئے ہے کہ جو انسان ان کی تحویل میں چلا جائے وہ ہی غیر محفوظ ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا دو بڑے سانحات کے علاوہ بھی پاکستان کے مختلف سرکاری ہسپتالوں ( جیسے لاہور کے میو ہسپتال، سروسز ہسپتال اور کراچی کے بعض سرکاری مراکز) کے اِنکیوبیٹرز میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ماضی میں آگ لگنے یا اِنکیوبیٹر کے اوور ہیٹ ( شدید گرم) ہو جانے کے انفرادی واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جہاں ایک یا دو بچوں کے جھلسنے کی خبریں مقامی میڈیا کی حد تک رپورٹ ہوئیں، تاہم اِن کا کوئی باقاعدہ مجموعی سینٹرل ڈیٹا بیس یا یکجا تاریخ سرکاری سطح پر مرتب نہیں کی گئی۔

جہاں تک اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 معصوم نومولود بچوں کے زندہ جل کر جاں بحق ہونے کے اس المیہ کا ذکر ہے تو سچی بات تو یہ کہ اس سانحہ نے پوری قوم کے باضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ سرکاری شعبہ صحت کے زوال اور مجرمانہ انتظامی غفلت کا المناک شاخسانہ ہے۔ تاہم واقعے کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر کے اجلاس سے باہر نکال دیا۔ جبکہ بعد ازاں عوامی اور پارلیمانی دبا کے باوجود پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی معطلی یا ان کے خلاف کسی انکوائری کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ پمز انتظامیہ اور وفاقی تحقیقاتی ٹیم نے نرسری کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز، ڈیوٹی روسٹر، بائیو میٹرک اٹینڈنس اور فائر بریگیڈ رپورٹس تحویل میں لے لی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثے کے وقت کتنا عملہ موجود تھا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں قائم اس اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں شدید غفلت کا پردہ فاش ہوا ہے۔ سب سے بڑا سوالیہ نشان اس نرسری یونٹ کے قفل بند دروازے اور عملے کی غیر موجودگی ہے۔ یہ بھی حیران کن بات ہے کہ حادثے کے وقت نرسری کا ہنگامی اور مرکزی دروازہ باہر سے لاک تھا اور کوئی متعلقہ ڈیوٹی عملہ یا نرس موقع پر موجود نہیں تھی۔ اس تالا بندی کا جواز ہسپتال انتظامیہ نے یہ دیا ہے کہ بچے چوری ہونے سے بچانے کے لئے دروازہ بند تھا، جس پر عوامی حلقوں اور تحقیقاتی حکام کی جانب شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس المیہ کا ایک اور بدنصیبی پر مبنی پہلو یہ ہے کہ ریسکیو میں یکسر رکاوٹ پیش آئی۔ ریسکیو ٹیموں اور آگ بجھانی والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تکنیکی عملہ غائب تھا، آگ بجھانے کے آلات ناکارہ تھے اور آکسیجن سپلائی لائنوں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا تھا۔ یہاں تک کہ ریسکیو ٹیموں کو نرسری میں داخل ہونے کے لئے دیواریں توڑنا پڑیں مگر تب تک یہ پھول جل چکے تھے۔ پمز کے متعلقہ عملے کی تربیت کا فقدان بھی اس حوالے سے انتہائی شرمناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق پمز کے عملے کو ایمرجنسی میں کارروائی کرنے کی کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

تاہم واقعے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں معمول کا ایجنڈا معطل کر کے بحث کروائی گئی۔ پی ٹی آئی اور اپوزیشن اراکین ( اسد قیصر، بیرسٹر گوہر، علی ظفر) نے وطن عزیز کے صحت کے نظام کو تباہ حال قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا اور واقعے پر جوڈیشل کمیشن یا پارلیمانی کمیٹی بنانے پر زور دیا۔ سینیٹ میں بھی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان اور پرویز رشید نے اعتراف کیا کہ ہم ہر روز المیے پر رو کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور ملک کے ایلیٹ طبقے کو سرکاری ہسپتالوں کے ہولناک حال کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس المیہ پر بعض حکومتی وزراء کا ضمیر بھی ملامت کر گیا اور انہوں نے کھلے بندوں اعترافِ کیا کہ یہ سانحہ ہمارے نظام کی تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یعنی حکومتی ایوانوں میں بھی بعض وزراء نے اپنا دفاع کرنے کی بجائے نظام کے ناکارہ ہونے کا اعتراف کیا۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خود کو اس واقعے کا ذمہ دار مانتا ہوں اور احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں۔ اس المیے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، پورا سسٹم گل سڑ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور آکسیجن پائپ لائنوں کی وجہ سے بچوں کو سنبھالنے کا موقع نہ ملا۔ خواجہ آصف اور مصدق ملک کے تاثرات بھی کچھ اسی طرح کے تھے۔ دفاع کے وزیر خواجہ آصف اور دیگر وزراء نے اعتراف کیا کہ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو دی جانے والی مالی امداد (50لاکھ روپے فی بچہ) ان کی معصوم جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور یہ ریاستی غفلت کا شرمناک نمونہ ہے۔

حقیقت یہی ہے جو کہ بار بار بیان کرنا پڑتی ہے کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں سے سلوک جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ وی آئی پیز کے لئے تو پروٹوکول ہے مگر عام شہریوں کے نو مولود بچوں کے لئے وینٹی لیٹر، آکسیجن اور آگ سے بچائو تک کا کوئی انتظام نہیں۔ اب بھی اگر چند اعلیٰ افسروں کا محکمے بدل کر یا صرف چند چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر فائلیں بند کر دی گئیں تو آئندہ پھر ایسا ہی سانحہ رونما ہو گا۔ ہمارے سسٹم کو آخر کار یہ گارنٹی دینا ہی پڑے گی کہ آئندہ ایسا المیہ رونما نہیں ہو گا۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ اس کڑوے سچ کا ثبوت ہے کہ ہمارے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام اور ان کے بچوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی۔ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں، جہاں اربوں روپے کے بجٹ منظور ہوتے ہیں، فائر الارم اور آگ بجھانے کے بنیادی آلات کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں انسانوں اور مریضوں کو کوئی اہمیتِ نہیں دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردشِ کرنے والی اکثر ویڈیوز پمز ہسپتال نرسری آتشزدگی کے دلخراش واقعے کی مکمل تفصیلات، عینی شاہدین کے بیانات اور انکوائری کمیٹی کے اٹھائے گئے اہم سوالات کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ہمارا نظام ہی ہمارا مجرم ہے حالانکہ اس نظام کو ہمارا، ہمارے بچوں کا اور پمز میں جل جانے والے چودہ معصوموں کا محافظ ہونا چاہیے تھا جو کہ راکھ کی صورت میں ان کی ماں کو واپسی ملے۔ افسوس کہ ہمارا نظام ہی ہمارا مجرم ہے۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button