
جگائے گا کون؟
عالمی امن کا نبوی مشن اور ہم
تحریر سی ایم رضوان
آج میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک دن کے موقع پر یہ کہنا صد فیصد درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ رحمت للعالمین کی حیثیت سے ہر دور میں عالمی و علاقائی امن و سلامتی کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اپنے مبارک دور میں آپ ٔ نے بحیثیت نبی اخلاقی و روحانی بنیادوں پر اور بحیثیت حکمران آئینی و سفارتی حکمت عملی دونوں پہلوں سے وہ اقدامات کیے جن سے عرب کا جنگ جو معاشرہ امن کا گہوارہ بن گیا۔ آپ ٔ نے اپنے مبارک دور کی حد سے بڑھی ہوئی نسلی، قومی اور طبقاتی تفریق کو ختم کر کے تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دیا۔ یہاں تک کہ خطبہ حجۃ الوداع میں آپ ٔ نے اعلان فرما دیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سب انسان برابر ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عفو و درگزر اور عدم تشدد کے فلسفہ پر مبنی مکہ مکرمہ کی چودہ سالہ زندگی میں شدید ترین مظالم کے باوجود آپؐ نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس کی تعلیم دی اور اپنے پیرو کاروں کو طاقت کے استعمال سے روکا۔ اعلانِ نبوت سے قبل بھی آپؐ مظلوموں کی حمایت اور امن کی بحالی کے لئے ہونے والے معاہدے ’’ حلف الفضول‘‘ میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ بعد میں بھی اس کی تعریف فرمائی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بحیثیت حکمران اور سفارت کار بھی امن کے لئے بے مثال اقدامات فرمائے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ ٔ نے مسلمانوں اور غیر مسلم قبائل ( خصوصاً یہود) کے درمیان ایک تاریخی دستاویز تیار فرمائی، جس نے مدینہ کو کثیرالمذہبی اور کثیرالقومی ریاست کے طور پر وجود دیا۔ اس معاہدے نے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق محفوظ کیے، بقائے باہمی کا اصول قائم کیا اور مدینہ کے اجتماعی دفاع کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی پرامن بقائے باہمی کی انوکھی حکمتِ عملی تھی۔ اس معاہدہ میں ظاہری طور پر مسلمانوں کے لئے سخت شرائط کے باوجود آپ ٔ نے جنگ کو ٹالنے اور پرامن فضا قائم کرنے کے لئے صلح حدیبیہ کا معاہدہ سائن کیا۔ اس معاہدے نے اگلے چند سالوں میں خطے میں جنگ و جدل کا خاتمہ کر کے امن و سلامتی کی راہ ہموار کی۔ خطے سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی سفارت کاری کی بھی نادر مثال قائم فرمائی۔ آپؐ نے قیصرِ روم، کسریٰ فارس اور شاہِ حبشہ سمیت مختلف عالمی حکمرانوں کو خطوط اور سفیر بھیجے۔ ان خطوط اور سفارت کاری کے ذریعے آپ ٔ نے جنگ کی بجائے پرامن دعوت اور باہمی احترام کا راستہ اپنایا۔
فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان کر کے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے رہتی دنیا تک مثال قائم فرما دی۔ تاریخِ عالم میں کسی ریاست کے فاتح کی جانب سے عام معافی کی ایسی مثال نہیں ملتی۔ آپؐ نے مکہ فتح کرتے ہی اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کے لئے بھی، ’’ آج تم پر کوئی گرفت نہیں‘‘، کا اعلان کر کے انتقام کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ اس پر طرہ یہ کہ آپؐ نے حالتِ جنگ میں بھی امن و انسان دوستی کا اصول برقرار رکھا ۔ اپنی افواج کو جنگ کے دوران بچوں، عورتوں، بوڑھوں، غیر جانبدار مذہبی پیشوائوں، کھیتوں، درختوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچانے سے سخت منع فرمایا۔ آپؐ نے ہمیشہ معاہدوں کی سخت پاسداری کی اور کسی فریق کی طرف سے عہد شکنی نہ ہونے تک خود کبھی پہل نہ کی۔ مکالمہ اور مذاکرات ہمیشہ ترجیح رہے۔ اور آپؐ نے جنگ و جدل کی بجائے ہمیشہ بات چیت اور سفارتی مذاکرات کو ترجیح دی۔ مختلف نظریات رکھنے والی اقلیتوں کے حقوق اور ان کی جان و مال کا تحفظ ریاست مدینہ کا اساسی اصول بنایا۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرمؐ کی سنتِ طیبہ آج کی جدید دنیا کے لئے بھی علاقائی تنازعات کو حل کرنے ، اقلیتوں کے تحفظ، اور بین الاقوامی امن قائم کرنے کا بہترین اور عملی ماڈل فراہم کرتی ہے۔ موجودہ دور میں عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا تازہ دورہ تہران خطے میں امن قائم کرنے اور سفارتی ثالثی کو بحال کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یاد رہے کہ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، سنگین معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کے نتیجے میں دنیا میں تیل کے تازہ بحران اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری و تجارتی بے یقینی کی صورتحال کے دوران ہوا ہے۔ جیسا کہ ایران امریکہ جنگ کے پہلے روز سے ہی پاکستان نے خطے میں جنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لئے ایک درمیانی صلح کار اور ثالث کا کردار سنبھالا ہوا ہے۔ مذکورہ دورہ میں بھی پاکستانی وفد نے ایران کے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سمیت دیگر اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد جھڑپوں کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش تھی۔ ملاقاتوں میں مذاکرات کے دوران ’’ اسلام آباد ایم او یو‘‘ کے فریم ورک کے تحت خطے میں پائیدار امن کی بحالی اور پہلے سے طے شدہ نکات پر عمل درآمد کے طریق کار پر بات ہوئی۔ علاوہ ازیں علاقائی و سرحدی سلامتی، پاک ایران باہمی تعلقات، سرحدی انتظام اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد تجارتی سلامتی اور تنازعات کے پرامن حل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں جنگ کو ٹالنے، تمام متنازع مسائل کو سفارتی راستے سے حل کرنے اور پرامن فضا کی بحالی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کی موجودہ حکومت کی مجموعی ریاستی پالیسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خطہ میں امن پسندی اور حکمتِ عملی کی سنت پر کہاں تک عمل پیرا ہے اور کہاں کمی موجود ہے، اس کا جائزہ دو مختلف سطحوں پر لیا جا سکتا ہے۔ موجودہ پاکستانی ریاست جن امور میں سنت نبوی پر عمل کی کوشش نظر آتی ہے ان میں عالمی سفارت کاری اور مکالمے کی ترجیح سر فہرست ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم ٔ نے جنگ سے گریز کے لئے ہمیشہ پہلے سفارت کاری اور امن معاہدوں ( جیسے میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ) کی حکمت عملی اپنائی۔ اس حکمت عملی کی کم ترین درجے کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ حکومت بھی عالمی اور علاقائی سطح پر ہر قسم کے تنازعات ( خصوصاً ہمسایہ ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے مسائل) کو جنگ کی بجائے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتی ہے۔ جیسا کہ سنتِ نبویؐ میں غیر مسلم شہریوں ( ذمیوں ) کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی حکومت بھی بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اور توہینِ مذہب کی آڑ میں ہجوم کے تشدد کو روکنے کے لئے قانونی اور بیانیاتی اقدامات کرتی ہے۔ موجودہ دور کے عالمی امن مشنز میں بھی پاکستان کا کردار قابل ذکر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی افواج کا فعال کردار، دنیا بھر میں تنازع زدہ علاقوں میں امن قائم کرنے کی سنتِ نبویؐ سے ہم آہنگ کوشش ہے۔ ساتھ ہی وہ شعبے بھی قابل ذکر ہیں جہاں سنتِ نبویؐ پر عمل درآمد میں واضح خلا اور چیلنجز ہیں جن میں انصاف کا یکساں نظام خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ ’’ تم سے پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ وہ غریب کو سزا دیتے اور امیر کو چھوڑ دیتے ‘‘۔ پاکستان میں داخلی سطح پر قانون کی یکساں بالادستی اور فوری و ارزاں انصاف کا فقدان سنتِ نبوی کے اساسی اصول کے خلاف ہے۔ سنتِ نبوی کا سب سے بڑا سبق عہد کی پاسداری ( میثاق) ہے۔ پاکستان کے اندر سیاسی و اجتماعی سطح پر اکثر آئین، قانون اور باہمی وعدوں پر حرف بحرف عمل درآمد کرنے میں کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ یاد رہے کہ نبی کریمؐ نے ریاستِ مدینہ میں سب سے پہلے مواخات ( بھائی چارے) اور معاشی مساوات سے معاشرتی امن قائم کیا۔ آج پاکستان میں معاشی عدم مساوات، مہنگائی اور معاشرتی عدم برداشت جیسے مسائل موجود ہیں، جن پر قابو پانے کے لئے سیرتِ طیبہؐ پر مزید گہرائی سے عمل کی ضرورت ہے۔ جہاں پاکستانی حکومت بین الاقوامی اور سفارتی سطح پر امن کے نبوی اصولوں کو اپنے بیانیے کا حصہ بناتی ہے اور مذاکرات کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، وہاں داخلی سطح پر بھی کامل عدل، انصاف اور معاشرتی امن قائم کرنی کے لئے ابھی سنتِ نبویؐ کی پائیدار پیروی میں کافی خامیاں اور گنجائش موجود ہے۔
موجودہ دور کے کسی بھی معاصر سیاسی یا عسکری قائد کے اقدامات کا تقابل براہ راست سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر گز نہیں کیا جا سکتا، البتہ پیروی کی کوشش کہا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں تجزیہ کاروں اور علمائے کرام کے مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں اور دونوں متضاد پہلو قابل ذکر ہیں۔ مثال کے طور پر نبی کریمؐ نے ہمیشہ اپنے ہمسائے قبائل اور ریاستوں کے ساتھ پرامن تعلقات اور سفارتی مذاکرات کو ترجیح دی۔ ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات خطے میں جنگ و جدل کو روکنے اور تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی پاکستانی کوششیں اسی سفارتی سنت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح سیرتِ طیبہؐ کا ایک بنیادی مقصد مسلم معاشروں کے درمیان باہمی تنازعات کا خاتمہ اور امن کا قیام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کو امت کے اتحاد اور علاقائی سلامتی کے نبوی اصول کی پیروی کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، اس تقابل پر اصولی طور پر محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ مقامِ رسالت اور جدید ریاست میں خاصا فرق ہے، چونکہ نبی کریمؐ کا ہر اقدام وحیِ الٰہی، مطلق عدل اور خالص دینی و انسانی مقاصد پر مبنی تھا، جبکہ جدید دور کی سیاسی و عسکری ملاقاتیں اکثر و بیشتر جیو پولیٹیکل ( جغرافیائی و سیاسی) مفادات، قومی سلامتی کے تقاضوں اور دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ہوتی ہیں، اس لئے ان کا تقابل براہ راست سنتِ نبویؐ کے معصوم عن الخطا افعال سے کرنا مناسب نہیں، اور محض سفارتی رفت و آمد کو سنتِ عمل نہیں کہا جا سکتا، جب تک کہ اس کے نتیجے میں مستقل اور حقیقی بین الاقوامی امن، معاشرتی عدل، تمام فریقین کے ساتھ انصاف اور پائیدار امن کے وہ اعلیٰ معیار حاصل نہ ہو جائیں جو ریاستِ مدینہ کا طرہ امتیاز تھے۔ لہٰذا پاکستان کے عسکری سربراہ کا تازہ دورہ ایران یا کسی بھی دیگر ملک کا دورہ دفاعی اور سفارتی سطح پر پرامن بقائے باہمی کے نبوی اصولوں سے مماثلت یا ترغیب تو رکھ سکتا ہے، لیکن اسے عین سنتِ نبویؐ کی پیروی کی زندہ مثال قرار دینے کے بجائے ایک جدید ریاستی و دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا زیادہ متوازن تجزیہ کہلاتا ہے۔







