Abdul Hanan Raja.Column

نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر  

نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر

تحریر : عبد الحنان راجہ

معلوم نہیں کہ چند باخبر تو کچھ دیدہ ور افراد کی گفتگو سے کشید کردہ خیالات ذہن کے نہاں خانوں میں پختہ ہو رہے ہیں کہ مکہ معاہدہ گریٹر اسرائیل و ناجائز ریاست کے خلاف پراکسیز کی بجائے ریاستی سطح پر منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت کسے جانے والے شکنجہ کا نکتہ آغاز ہے ؟، کہ ایران سمیت اسلامی دنیا جان چکی کہ اب تک پراکسیز کے ذریعے لڑی جانے والی لڑائیاں نہ صرف بے گناہ مظلوموں کے بے پناہ قتل عام کا سبب بنیں، بلکہ اس سے برادر مسلم ممالک میں افراتفری پھیلا کر انہیں کمزور کرنی کا گناہ الگ رہا۔ غزہ کو ہی دیکھ لیں جہاں ایک اسرائیلی کے بدلے کم از کم 1100بچوں، عورتوں اور بے گناہوں کے قتل کا تناسب۔ جبکہ لبنان میں مختصر عرصہ میں نہ صرف سینکڑوں کلومیٹر علاقے پر قبضہ ہوا بلکہ سیکڑوں شہادتیں اور املاک کا نقصان اس سے سوا۔ مقابلے میں ابھی تک اسرائیلیوں کی ہلاکتیں 20سے اوپر نہیں۔ صیہونیوں نے مصر کو خائف کر رکھا ہے تو اب شام پر نظریں۔ اسی لیے سلطنت شام کو بچانے اور اسے مضبوط عسکری قوت بنانے کی کوئی کوشش اسے قبول نہیں۔ مگر مکہ معاہدہ کے بعد لگتا یوں ہے کہ ترکیہ ہر صورت شام کو طاقتور بنانا و دیکھنا اور اسرائیلی چیرہ دستیوں سے بچانے کی ٹھانے ہوئے ہے۔ اب تک شام سمیت دیگر خطوں میں پراکسیز کے ذریعے کارروائیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں اور اب مسلم ممالک بالخصوص پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ، ایران کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ مسلم ممالک میں ایسی کوششیں صیہونیت و جارحیت کو بالواسطہ موقع دینے کی صورت تو ہو سکتی ہیں مگر کامیابی کی ضمانت نہیں۔

حقیقت تو یہ بھی کہ ایران امریکہ جنگ سے پہلے کے منظر نامہ میں ایسی کسی کوشش حتی کہ سوچ تک کی گنجائش نہ تھی۔ امریکہ و اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران نے بے پناہ استقامت و جرات کا مظاہرہ کیا، محدود وسائل کے ساتھ نہایت کارآمد جنگ لڑی اور امریکہ کے کمزور مقامات پر موثر جوابی حملے کر کے اسے مذاکرات پر مجبور کیا اور اس کے ساتھ برسوں سے امریکہ و اسرائیلی شیطانی جوڑی کا ناقابل تسخیر ہونے کا زعم بھی توڑ ڈالا۔ قدرت نے ایران کو استقامت کے بدلے اگر اب نئی دنیا بنانے و بسانے کا موقع دیا ہے تو اسے مسلم ممالک کے اتحاد کا نقیب بن کر ان ثمرات کو سمیٹنا چاہیے جو عزیمت و شجاعت کے صلہ میں اس کے منتظر۔

ایسے میں ایران کو گہری صیہونی چالوں کو بھی سمجھنا ہو گا اور اگر حوثی ایران کے کنٹرول میں ہیں تو انہیں دہشت گردانہ کارروائیوں سے روکنا لازم کہ محض ایک قبیلے کی خاطر ایران برادر خلیجی ممالک سے کب تک دشمنی پال اور خطے میں اسرائیلی سازشوں کو پنپتا دیکھتا رہے گا۔ ایران نے جنگ میں بہت کچھ سیکھا ماضی کی دوستیاں منافقت میں بدلتے اور برادر اسلامی ملک سے کمزور سفارتی روابط کے باوجود اس کی عوام اور حکومت کی ڈٹ کر ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کے عملی مظاہر بھی۔ دو تین روز قبل تہران میں ہونے والی سیرت کانفرنس سے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا مسلم ممالک کو عدم جارحیت کے معاہدہ کی تجویز دینا خوش آئند بلکہ یہ مکہ معاہدہ کی روح کی آواز ہی تو ہے۔

تشویش ناک امر یہ کہ جب مسلم ممالک اتحاد کے بندھن میں بندھنے لگے ہیں تو یمن کے حوثیوں کی کارروائیاں کیونکر اور کس کے اشارہ پر؟۔ یہ سوال ہر مسلم ملک چاہے وہ ایران ہو یا کوئی اور کے لیے پریشان کن ہونا چاہئے۔ جبکہ خلیجی ممالک سمیت ایران بھی جانتا ہے کہ اسرائیل کو مکہ معاہدہ ہضم ہو رہا ہے اور نہ وہ اسے مضبوط، کامیاب اور وسیع ہوتا دیکھ سکتا ہے کہ یہ اس کے خواب کی راہ میں سد سکندری۔ اور نہ قاتل نیتن یاہو ایران امریکہ معاہدہ کے حق میں۔ اب یمن کے حوثی اسرائیل کے ہاتھوں کھلونا ہیں یا معاملہ کچھ اور مسلم قیادتوں کو اس پر سوچنا اور ایسے تنازعات کہ جو مسلم ممالک کو کمزور کرنے کا سبب بنیں حکمت سے روکنا ہو گا۔

بادی النظر میں ایران کی سیاسی قیادت مسلم اتحاد پر آمادہ نظر آتی ہے جبکہ مکہ معاہدہ کے تینوں فریق بھی حالات ساز گار ہوتے ہی ایران کی شمولیت کے خواہاں، مگر پاسداران کی رائے کیا ہے ؟، یہ ہنوز جواب طلب۔ غور طلب یہ بھی کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی معاہدہ کو ریاض ڈیکلریشن یا طائف پیکٹ کی بجائے مکہ معاہدہ کا نام دینا کیا اس طرف اشارہ نہیں! کہ مسلم دنیا بالخصوص پاکستان عرب و عجم کی تقسیم ختم کرنے کے لیے متحرک۔ یقینا پاکستان کا کردار ناقابل فراموش کہ عثمانی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے والی مملکت سعودی عرب کو ترکیہ کے ساتھ بندھن میں باندھنا کوئی آسان نہ تھا کہ قبائلی نسلی تعصب کی جڑیں نہ صرف گہری ہوتی ہیں بلکہ ان کی شدت بھی سیاسی و ریاستی سطح پر مخالفت سے کہیں زیادہ۔ مگر پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین اس خلیج کو ختم کر کے عرب و عجم کی تفریق کے خاتمہ کی بنیاد رکھ دی اب کویت کے ساتھ دفاعی شعبہ جات میں وسیع النبیاد معاہدہ کہ جس کی تفصیلات ابھی باقی خوش آئند اور یہ پاکستان کی سفارتی و عسکری صلاحیتوں پر بھروسہ و اعتماد جو آگے چل کر پاکستان کو بے پناہ اقتصادی فوائد پہنچا سکتا ہے۔

ادھر معروف اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اب امریکہ میں یہ سوچ پروان چڑھنے لگی ہے کہ خلیج میں ہونے والے عسکری نقصانات کے ازالہ پر دوبارہ اربوں ڈالر لگانا بے سود، کہ اب عرب ممالک کا امریکی چھتری تلے خود کو محفوظ و مامون تصور کرنے کا بھرم ایران جنگ نے توڑ دیا اور خلیجی ممالک کو یہ موقع بھی فراہم کر دیا کہ وہ امریکی دفاع پر اپنا انحصار بتدریج ختم کریں۔

مسلم اتحاد میں ایران کی شمولیت اس عزم کا اعادہ ہو گی ایران پراکسیز ختم اور پڑوسی مسلم ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کی تجدید چاہتا پے اور خطہ سے امریکی نفوذ کے خاتمہ کے ساتھ امہ کی سطح پر اسرائیل کے جارحانہ عزائم کی مستقل ناکہ بندی۔ امریکہ ایران جنگ نے عربوں کو وہ موقع فراہم کر دیا کہ جس کی آرزو مدتوں سے پنپ رہی تھی کہ سازگار حالات میں عرب امریکی ناراضی کو مول لے سکتے تھے اور نہ سہ ملکی اتحاد پروان چڑھ سکتا تھا۔ اس وقت کہ جب امریکہ کی طاقت کا بھرم ٹوٹ اور امریکہ کے دیرینہ اور مضبوط حلیف یورپی ممالک بھی امریکہ کو دبے و کھلے بندوں ایران کے خلاف ساتھی بننے سے انکاری اور امریکہ و اسرائیل کا جنوبی ایشیا میں بھارتی بالادستی کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا۔ ایسے میں پاکستان اس خطہ میں نہ صرف مڈل پاور بن کر ابھرا بلکہ سفارتی محاذ پر اس کی محیر العقول کامیابیاں اس کے روشن مستقبل کی ضامن، جبکہ پاکستان اقبالؒ کے اس خواب،’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی‘‘ کے لیے متحرک و فعال۔ ایسے میں اگر مغربی و چنگیزی جمہوریت کی بجائے اہل پاکستان کو باکردار، دیانت دار و اہل قیادت میسر آ جائے اور عوام پاکستان سیاسی عصبیت و شخصی نرگسیت سے چھٹکارا پا سکیں تو بقول صوفی برکت علی لدھیانوی دنیا کے فیصلوں کا پاکستان میں ہونا بعید از قیاس نہ ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button