Column

اتحادِ امت، دشمن کی شکست

اداریہ۔۔۔

اتحادِ امت، دشمن کی شکست

قومی سیرت کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم دنیا کو باہمی اتحاد، اخوت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ دشمن نے خطے کے مسلمان ممالک کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم مسلمانوں میں انتشار کی اس سازش کو ناکام بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان تاریخی تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون کی مضبوط بنیاد رکھتے ہیں۔ سیرتِ رسول ٔ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد، برداشت اور اخوت کو فروغ دیں۔ حضور اکرم ٔ نے مدینہ منورہ میں ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں مختلف قبائل، طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک اجتماعی نظم کا حصہ بنے۔ اس معاشرے کی بنیاد طاقت یا جبر نہیں بلکہ عدل، معاہدے، باہمی احترام اور ذمے داری پر قائم تھی۔ آج اگر مسلم دنیا کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے بہت سے مسائل کی جڑ باہمی عدم اعتماد اور تقسیم میں دکھائی دیتی ہے۔ مختلف مسلم ممالک سیاسی، معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے الگ الگ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے درمیان مشترکہ مفادات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ امن، تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی، دفاع اور معاشی ترقی ایسے شعبے ہیں جہاں باہمی تعاون پوری مسلم دنیا کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ تعلقات تاریخی، مذہبی اور برادرانہ بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف مشکل ادوار میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلقات کو محض سفارتی تعلقات کے محدود دائرے میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان برادرانہ روابط کو معاشی تعاون، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی رابطوں کے مزید وسیع مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی قیادت پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ ایسے جذبات دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے لیے گہری محبت اور احترام رکھتے ہیں۔ ترکیے کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی اسی طرح تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی قربت پائی جاتی ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں امن، استحکام اور معاشی شراکت داری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اتحاد کا تصور صرف ریاستوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ سیرتِ رسولؐ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قوم کی اصل طاقت اس کے افراد کے باہمی تعلق، کردار اور اجتماعی ذمے داری میں ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں نفرت، تعصب، عدم برداشت اور مفاد پرستی بڑھ جائے تو محض سیاسی اتحاد دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پاکستانی قوم کے متحد ہونے کا حوالہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مشکل وقت میں قومیں اپنے اختلافات بُھلاکر ایک مقصد کے لیے متحد ہوسکتی ہیں۔ یہی قومی اتحاد مستقل بنیادوں پر قائم ہوجائے تو ملک کی معاشی، سیاسی اور سماجی قوت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ آج پاکستان کو بھی ایسے ہی اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، مگر سیاسی اختلاف کو قومی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے کے باوجود آئین، ریاست، قومی مفاد اور عوامی فلاح پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ سیرتِ طیبہؐ ہمیں اختلاف کے باوجود اخلاق، انصاف اور تحمل کا راستہ دکھاتی ہے۔ قومی سیرت کانفرنس میں نئی نسل کو قوم کی امید قرار دینا بھی نہایت اہم نکتہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس نسل کو ہم تعلیم، تحقیق، کردار، ہنر اور قومی ذمے داری کا شعور دیں گے، وہی آنے والے پاکستان کی سمت متعین کرے گی۔ نوجوانوں کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ معیاری تعلیم، روزگار، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مثبت مواقع سے بااختیار بنانا ہوگا۔ انہیں یہ احساس دینا ہوگا کہ وطن کی تعمیر صرف حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ سیرتِ مصطفیٰ ؐکا پیغام دراصل ایک مکمل اخلاقی و معاشرتی انقلاب کا پیغام ہے ۔ سچائی، دیانت، عدل، رحم، علم، مشاورت، وعدے کی پاسداری اور کمزوروں کے حقوق کا تحفظ، یہ وہ اصول ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنالیں تو بہت سے قومی مسائل خود بخود کم ہوسکتے ہیں۔ آج مسلم دنیا کو ایسی قیادت اور ایسی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے جو اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ مقاصد تلاش کرے۔ دشمن قوتیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب قومیں اپنے اندرونی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کر لیتی ہیں۔ اس لیے اتحاد کا بہترین جواب صرف تقریر نہیں بلکہ عملی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدامات ہیں۔ قومی سیرت کانفرنس کا پیغام اسی لیے محض ایک تقریب کا پیغام نہیں ہونا چاہیے۔ اسے قومی زندگی میں کردار سازی، اتحاد اور اخوت کی تحریک میں تبدیل ہونا چاہیے۔ پاکستان اگر اپنی نوجوان نسل کو سیرتِ نبویؐ کے اخلاقی اصولوں، جدید تعلیم اور قومی ذمے داری کے شعور سے آراستہ کر دے تو آنے والا وقت اس ملک کے لیے نئی امیدیں لے کر آسکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرتِ مصطفیٰ ؐ کو صرف تقریروں اور محافل تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے کردار، سیاست، تجارت، تعلیم، عدالت اور معاشرتی رویوں میں جگہ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر مضبوط اور عالمی سطح پر باوقار بنا سکتا ہے۔ اتحاد صرف دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ امن کے زمانے میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا نام بھی ہے۔ یہی سیرتِ رسولؐ کا روشن سبق ہے اور یہی پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کے مستقبل کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

شذرہ۔۔۔

روزگار کا خوف، تشویشناک امر

پاکستان میں معاشی صورت حال کے حوالے سے سامنے آنے والا تازہ اپسوس سروے محض چند اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عام پاکستانی کے بدلتے ہوئے احساسات اور بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی کی تصویر ہے۔ سروے کے مطابق 95 فیصد پاکستانی موجودہ ملکی حالات کے باعث بے روزگاری کے خوف میں مبتلا ہیں جب کہ صرف 5فیصد شہریوں کو اپنے روزگار کے محفوظ ہونے کا یقین ہے۔ یہ تناسب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ معاشی دبائو اب صرف آمدن تک محدود نہیں رہا بلکہ لوگوں کے مستقبل کے اعتماد کو بھی متاثر کررہا ہے۔ سروے میں 63فیصد شہریوں کا یہ کہنا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی یا کسی جاننے والے کی ملازمت ختم ہوئی، روزگار کے بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ 99فیصد پاکستانی روزمرہ استعمال کی اشیا کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ جب بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجائیں تو متوسط طبقہ بھی تیزی سے مالی دبا کا شکار ہونے لگتا ہے اور کم آمدن والے طبقے کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ گھر یا گاڑی جیسی بڑی خریداری کے حوالے سے 99فیصد شہریوں کا عدم اعتماد اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ عوام نے مستقبل کے بڑے فیصلوں کو فی الحال موخر کردیا ہے۔ معیشت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری اپنے مستقبل کے بارے میں پُراعتماد ہوں، سرمایہ کاری کریں، کاروبار شروع کریں اور اپنی آمدن کو بہتر بنانے کے منصوبے بنائیں۔ خوف اور بے یقینی کی فضا میں یہ تمام سرگرمیاں محدود ہوجاتی ہیں۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ 96فیصد پاکستانیوں نے مستقبل کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کی سکت نہ ہونے کا اظہار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑی آبادی نہ صرف آج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے بلکہ کل کے بارے میں بھی فکرمند ہے۔ حکومت کے لیے یہ سروے ایک واضح پالیسی سگنل ہے۔ محض معاشی اشاریوں میں بہتری کافی نہیں، اس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں بھی نظر آنے چاہئیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، مہنگائی کو قابو میں رکھنا، نوجوانوں کو ہنر فراہم کرنا اور صنعتی و زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی اصل معاشی کامیابی اس وقت ہوگی جب عام آدمی کو یہ یقین حاصل ہوگا کہ اس کی نوکری محفوظ ہے، اس کی آمدن اس کے اخراجات کا مقابلہ کر سکتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کچھ بچا بھی سکتا ہے۔ معیشت کا اصل پیمانہ اعداد و شمار نہیں، عوام کا اعتماد ہے اور یہ اعتماد بحال کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button