مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسلام آباد کا رخ کریں گے، حافظ نعیم الرحمن

**لاہور (فرخ وڑائچ)** امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کرکے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا، اس لیے اب عوام کو بھی اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر اپنے حقوق کے لیے سوچنا اور آواز اٹھانا ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کو مختلف اور عوامی انداز میں جاری رکھا جا رہا ہے، جہاں اسٹریٹ تھیٹر، کراٹے شو اور کرکٹ میچ بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ ایک اچھی بات ہے، تاہم جماعت اسلامی کسی ایک سیاسی لیڈر کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے میدان میں نکلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی اور سماجی حلقے فئیر آف مسنگ آؤٹ (FOMO) کا شکار ہیں، اسی وجہ سے وہ جماعت اسلامی کے مؤقف کا ساتھ دینے کے بجائے حکومتی بیانیے کی حمایت کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم اصل میں ریفائنریز کے قیام اور ترقی کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی، تاہم حکومت نے اسے محض آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنگ کے دوران مقامی سطح پر حاصل ہونے والا تیل بھی درآمدی ایندھن کی قیمتوں پر فروخت کیا گیا، جبکہ ایسے حالات میں حکومت کو لیوی اور ٹیکس کم یا ختم کرنے چاہیے تھے، مگر اس کے برعکس انہیں مزید بڑھا دیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور میں ایک ہزار سی سی گاڑیوں پر پابندی لگائی گئی تھی، اگر اس وقت ایسے اقدامات کیے جا سکتے تھے تو آج بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ابتدا میں جماعت اسلامی کے احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیتی اور اسے آسان سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں کوئی بنیادی فرق نہیں، تینوں جماعتیں ایک ہی سیاسی نظام کا حصہ ہیں، جبکہ اپوزیشن کا ایک حصہ بھی کمپرومائزڈ نظر آتا ہے۔
انہوں نے تحریک انصاف کی اتحادی اپوزیشن جماعتوں سے سوال کیا کہ مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ کے معاملے پر وہ پی ٹی آئی کو کیا جواب دیں گی؟ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ کیا متحدہ اپوزیشن پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے اپنے فیصلے پر قوم سے معافی مانگے گی؟
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی فارم 47 کی حکومت سے مذاکرات اس لیے کر رہی ہے کیونکہ جب کوئی جہاز ہائی جیک ہو جائے تو مذاکرات ہائی جیکر سے ہی کرنا پڑتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسلام آباد کا رخ کرے گی۔*







