وہ معصوم بہت روئے ہوں گے۔۔۔۔۔

وہ معصوم بہت روئے ہوں گے۔۔۔۔۔
روشن لعل
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) اسلام آباد میں ہونیوالی 14نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت پر بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے۔پمز کے دلخراش سانحہ کو دیکھنے کے کئی زاویے ہیں۔ اس سانحہ پر تبصرہ کرنے والے ہر مبصر نے اپنی سوچ کے مطابق اسے کسی خاص زاویے سے دیکھتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سانحے کو دیکھنے کا ایک زاویہ ، یہ بھی ہے کہ جو معصوم بچے جھلس کر ہلاک ہوئے، جھلسنے کے دوران ان پر کیا بیتی ہوگی۔ ہر نوزائیدہ بچہ پہلی سانس لینے کے ساتھ ہی رونا شروع کر دیتا ہے۔ کسی نوزائیدہ بچے کا پیدا ہوتے ہی رونا شروع کر دینا اس کے زندہ ہونے کا ثبوت ہوتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کے پیدائش کے فوراً بعد رونے کی وجہ کوئی تکلیف نہیں بلکہ ان کی حساسیت ہوتی ہے۔ ماں کی کوکھ سے باہر کی فضا کے تبدیل شدہ درجہ حرارت کو محسوس کرنے کا اظہار وہ اپنی رونے کی جبلت استعمال کر کے کرتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی حساسیت کا یہ عالم ہے کہ انہیں صرف بھوک ہی نہیں لگتی، وہ بور بھی ہوتے ہیں، انہیں تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی ہے، انہیں غصہ بھی آتا ہے اور وہ درد بھی محسوس کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کی دریافتوں کے مطابق، رو کر اپنے احساسات کا اظہار کرنے والے نوزائیدہ بچے، اپنا ہر احساس ایک مختلف سائونڈ میں رو تے ہوئے کرتے ہیں۔ کسی وجہ سے درد محسوس ہونے پر وہ دل دہلادینے والی آواز میں رونا شروع کر دیتے ہیں۔ جہاں تک درد کی بات ہے تو ، کوئی ضرب لگنا، کسی وجہ سے زخم آجانا یا پھر آگ سے جلنا ، درد محسوس ہونے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان وجوہات میں سے آگ میں جلنے سے محسوس ہونے والی درد ، دیگر دردوں کی نسبت سب سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ نوزائیدہ بچے درد کا احساس ظاہر کرنے کے لیے ، انتہائی اونچی اور تیز آواز میں چیختے ہوئے روتے ہیں، لمبی اور تیز چیخ کے بعد وہ اس طرح لمبا سائنس لیتے ہیں جیسے ان کا سانس ڈوبنے لگا ہو، اس کے بعد وہ پھر چیخ کے ساتھ روتے ہوئے اس وقت تک ایسا کرتے رہتے ہیں جب تک ان کے درد کی وجہ ختم نہیں کر دی جاتی۔ جو نومولود ، پمز کی نرسری میں جھلس کر ہلاک ہوئے ، ان معصوموں کو آخری سانس لینے سے پہلے ،اپنے جلتے ہوئے جسموں میں وہ درد محسوس کرنا پڑا جو کسی بھی دوسری وجہ ہونے والے درد سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ معصوم اپنے جسم جلنے کا درد محسوس کرتے ہوئے کس قدر چیخ چیخ کر روئے ہونگے۔ بدنصیب ماں باپ کے معصوم نومولود بچے گنی چنی سانسیں لینے کے بعد اس دنیا کا شدید ترین درد محسوس کر کے رخصت ہو گئے۔ کیا یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ ان کا دنیا میں آنے کا مقصد ہی صرف یہ درد محسوس کرنا تھا۔ جو معصوم اپنی مختصر ترین زندگی میں شدید ترین درد سہہ کر دنیا سے رخصت ہوئے، ان کے گھر والوں کے علاوہ شاید یہاں پمز سے متعلقہ لوگوں اور حکمران اشرافیہ کی اکثریت کو ان کے درد کا احساس اب تک نہیں ہوسکا۔ جس پمز ہسپتال کو چلانے والے وزیر صحت نے وہاں بچوں کے آگ سے جھلسنے کے بعد یہ توجیہ پیش کی کہ ماضی کی نسبت اسلام آباد میں کئی گنا اضافے کی وجہ سے ان کے زیر انتظام ہسپتال مریضوں کو ضرورت کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہیں، اس وزیر کے متعلق یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ وہ ان حالات سے کس قدر بے خبر ہیں جن حالات میں بچوں کی نرسری میں آگ لگی۔ اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام آباد کی آباد ی میں گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اس اضافے کا پمز کی نرسری میں لگنے والی حالیہ آگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ پمز میں ماں اور بچوں کے لیے چلڈرن ہسپتال اور میٹرنل چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے نام سے دو الگ الگ یونٹ موجود ہیں۔ ان دونوں یونٹوں میں نومولود بچوں کے لیے 38 بیڈ مختص کیے گئے ہیں۔ ان 38 بستروں میں سے 24 بیڈ چلڈرن ہسپتال اور 14میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں موجود ہیں۔ پمز میں آگے لگنے کا واقعہ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں پیش آیا ۔ چائلڈ اینڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں جب آگ لگی ،اس وقت وہاں 16بچے موجود تھے۔ اگر 14بیڈ کی گنجائش والے سینٹر میں 16بچوں کو رکھا گیا ہو تو وہاںگنجائش سے صرف دو زیادہ بچوں کی وجہ سے یہ عذر تسلیم نہیں کیاجاسکتا کہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پمزپر اتنا دبائو ہے کہ وہاں بچوں اور مریضوں کو ضروری طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں 14بچوں کی ہلاکت کا جو واقعہ ہوا اس کی وجہ آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ بدترین انسانی غفلتیں ، غلطیاں، لاپرواہیاں اور کوتاہیاں ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں ایئر کنڈیشن پلانٹ کا کمپریسرپھٹنے سے ہونے والے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگنے والی آگ ، وہاں موجود آکسیجن گیس کے سبب آناً فاناً بھڑک کر چودہ بچوں کی زندگیاں نگل گئی۔ ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی آکسیجن کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں لیکن وہاں ایئر کنڈیشن پلانٹ کے کمپریسر کا پھٹنا اور شارکٹ سرکٹ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پمز ہسپتال میں ایسی انسانی غلطیوں کا ارتکاب کیا جارہا تھا جو غلطیاں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا سبب بنیں۔ کہیں بھی اگر اے سی کا کمپریسر پھٹنے سے آگ لگے تو اس کی وجہ یا تو کمپریسر کا اوور لوڈ ہونا یا اس کے سرکٹ بریکر کی مناسب دیکھ بھال نہ کیا جانا ہوتی ہے۔ سرکٹ بریکر کا کام وولٹیج کم یا زیادہ ہونے پر بجلی کی فراہمی معطل کرنا ہوتا ہے۔ ایئر کنڈیشن کا کمپریسر یا تووولٹیج کم زیادہ ہونے پر سرکٹ بریکر کے بجلی معطل نہ کرنے کی وجہ سے پھٹتا ہے یا سروس کے دوران اس کی گیس میں ہوا کی آمیزش ہو جائے تو پھر بھی اس کے پھٹنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب ایئر کنڈیشن جیسی مشینوں کی دیکھ بھال کرنے والی انتظامیہ طے شدہ ایس او پیز کو بری طرح نظر انداز کر رہی ہو۔
انٹر نیٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پمز میں بچوں کی نرسری سے آراستہ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ یونٹ کی تعمیر جاپان انٹر نیشنل کوآپریشن ایجنسی کی فنڈنگ سے اکتوبر 2021ء سے شروع ہو کر اپریل 2023ء میں مکمل ہوئی۔ میٹرنل اینڈ چاہلڈ ہیلتھ کا سینٹر میں جو ائیر کنڈیشن پلانٹ لگائے گئے پاکستان کے طے شدہ معیار کے مطابق ان کی عمر 12سے 15سال تک ہونی چاہیے مگر ہمارے لوگوں کی بدترین غلطیوں کی وجہ سے یہ پلانٹ اپنی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی پھٹ گیا۔ پمز میں معصوم نوازائیدہ بچوں کی ہلاکتوں کی خبر پوری دنیا کے ساتھ جاپان میں بھی نشر ہوئی ہو گی۔ یہ خبر دیکھ کر جاپان والے سوچتے ہونگے کہ انہوں نے ہمارے جن بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے ہمیں امداد دی ہم نے ان معصوم بچوں کی دردناک موت کا سامان پیدا کر دیا۔





