Column

ہوائے نفسانی: خواہش، میلان اور کشش ممنوع

ہوائے نفسانی: خواہش، میلان اور کشش ممنوع
شہر خواب
صفدر علی حیدری۔۔۔
الفاظ کبھی صرف الفاظ نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے ایک پوری تاریخ، تہذیبی تجربہ، نفسیاتی کیفیت اور کبھی ایک پورا فکری نظام چھپا ہوتا ہے۔
’’ ہویٰ‘‘ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے۔ ہم اسے عموماً خواہشِ نفس، بے جا خواہش یا گمراہ کن میلان کے معنوں میں پڑھتے ہیں، جس کی بڑی وجہ قرآن مجید کا اس لفظ کے ساتھ برتائو ہے۔ لیکن اگر ہم صرف یہ کہیں کہ ہویٰ کا مطلب منفی خواہش ہے تو شاید اس کی پوری معنوی وسعت محدود ہو جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہویٰ فی نفسہ، منفی ہے یا سیاق اسے منفی بناتا ہے؟
قرآن مجید میں مادہ ھ و ي، مختلف صورتوں میں آیا ہے۔ کہیں اس کا تعلق گرنے سے ہے، کہیں ہلاک ہونے سے، کہیں مائل ہونے سے اور کہیں خواہش سے۔ اس تنوع سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی تصور صرف ’’ بری خواہش‘‘ نہیں، بلکہ کسی سمت جھکنے، گرنے یا مائل ہونے کا بھی ہے۔
حضرت ابراہیم دعا کرتے ہیں: ’’ پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے‘‘۔
یہاں تَھْوِي میں دل کا کسی طرف جھکنا اور مائل ہونا ہے۔ یہ کوئی مذموم خواہش نہیں۔ اس سے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے۔
ہویٰ کا ہر استعمال منفی نہیں۔ لفظ کا اخلاقی رنگ سیاق سے متعین ہوتا ہے۔
پھر ہویٰ منفی کیوں بن جاتا ہے؟
قرآن اس کا جواب خواہش کے وجود میں نہیں، خواہش کی پیروی میں دیتا ہے۔
’’ خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل سے ہٹ جائو‘‘۔
اور فرمایا: ’’ خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی‘‘ ۔
یہاں اصل خطرناک لفظ ’’ تَتَّبِع‘‘ ہے۔ انسان کے اندر خواہش پیدا ہونا انسانی حقیقت ہے، اسے اپنا رہنما بنا لینا خطرناک ہے۔
انسان کا خواہش کے بغیر گزارا ممکن نہیں ۔ اسے کھانے، محبت، عزت، کامیابی، قربت، علم، اولاد اور زندگی کی حفاظت کی خواہش ہوتی ہے۔ اگر ہر خواہش کو منفی ہویٰ قرار دے دیا جائے تو انسانی فطرت ہی مذموم ٹھہرے گی۔قرآن کا مسئلہ خواہش کے وجود سے نہیں بلکہ خواہش کے اقتدار سے ہے۔ جب خواہش ایک انسانی کیفیت رہتی ہے تو وہ فطری میلان ہے، لیکن جب وہ انسان کی حاکم بن جائے تو ہویٰ کی مذموم صورت اختیار کر لیتی ہے۔
’’ کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘۔
یہاں خواہش صرف خواہش نہیں رہی، وہ معبود بن گئی۔ یعنی انسان حق کے مطابق خواہش کو نہیں ڈھالتا بلکہ خواہش کے مطابق حق کو ڈھالنے لگتا ہے۔
یہیں ’’ ہوائے نفسانی‘‘ کا مفہوم سامنے آتا ہے۔
اسے محض ’’ خواہشِ نفس‘‘ کہہ دینا ترجمہ تو ہے، مگر پوری کیفیت نہیں ۔ ہوائے نفسانی نفس کا وہ میلان ہے جو اپنی مطلوب چیز کی طرف اس قدر جھک جائے کہ حق و باطل، جائز و ناجائز اور درست و غلط کے درمیان فرق پسِ پشت چلا جائے۔
اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے، خواہش+شدتِ میلان +نفس کی پیروی =ہوائے نفسانی۔
ہر خواہش ہوائے نفسانی نہیں۔ بے قابو خواہش اس کے زیادہ قریب ہے ۔ ہر محبت مذموم نہیں ۔ ایسی محبت جو حدود توڑنے لگے، ہوائے نفسانی بن سکتی ہے۔ ہر کشش گناہ نہیں۔ وہ کشش جس کے سامنے انسان اپنی اخلاقی ذمہ داری ہار جائے، مذموم صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اسی لیے ’’ہویٰ‘‘ کو لازماً ’’ بڑھی ہوئی خواہش‘‘ کہنے سے بہتر تعبیر یہ ہے کہ ہویٰ بنیادی طور پر میلان اور خواہش کا نام ہے، لیکن جب یہ میلان حق و ہدایت کے مقابلے میں غالب آ جائے تو مذموم ہو جاتا ہے۔ یہاں ’’ غالب آ جانا‘‘ فیصلہ کن نکتہ ہے۔
اب اسی تصور کو عشقِ ممنوع پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔
عشق خود مذموم نہیں۔ محبت انسان کی فطرت ہے، اور دل کا کسی کی طرف مائل ہونا انسانی حقیقت ہے۔ قرآن میں تَھْوِي ِلَیِمْ دلوں کے مائل ہونے ہی کا تصور پیش کرتا ہے۔
لیکن جب یہی کشش ایسی سمت اختیار کرے جسے انسان جانتا ہو کہ وہ اخلاقی یا شرعی حدود سے باہر ہے، اور پھر بھی وہ اس کے آگے خود کو سپرد کر دے، تو ہویٰ کا منفی پہلو سامنے آتا ہے۔
یہاں عشق اور ہویٰ کے درمیان باریک فرق پیدا ہوتا ہے۔ عشق دل کا جذبہ ہے، ہویٰ اس جذبے کے سامنے نفس کا جھک جانا بھی ہو سکتا ہے، اور ہوائے نفسانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہش کو رہنما بنا لے۔
چنانچہ عشقِ ممنوع کی اصل خرابی شاید محبت کے پیدا ہونے میں نہیں بلکہ محبت کے نام پر حدود کی شکست میں ہے۔
ہوائے نفسانی کا سب سے خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو ہمیشہ برا کام کرنے پر مجبور نہیں کرتی۔ کبھی یہ اسے اپنے آپ کو درست ثابت کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ انسان پہلے خواہش کرتا ہے، پھر اس کے حق میں دلیل تلاش کرتا ہے، پھر اپنے فیصلے کے لیے فلسفہ بناتا ہے، ضمیر کو خاموش کرتا ہے اور آخرکار اپنی خواہش کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ یہی مقام ہے جہاں’’ اتَّخَذَ ِلَٰھَھُ ھَوَاھُ‘‘ انتہائی گہرا ہو جاتا ہے۔
خواہش معبود اس لیے نہیں بنتی کہ انسان اس کے سامنے سجدہ کرنے لگتا ہے؛ وہ اس وقت معبود بنتی ہے جب انسان کا فیصلہ خواہش کے تابع ہو جائے۔
یہاں ایک علمی احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی لفظ کو اس کے اکثر استعمال کی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے منفی قرار دینا لسانی طور پر درست نہیں۔
قرآن خود ہمیں اس کی مثال دیتا ہے: ایک طرف’’ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوَیٰ‘‘ ہے، اور دوسری طرف ’’ تَھْوِي ِلَیھِمْ‘‘۔ ایک مقام پر نفس کو ہویٰ سے روکنا ہے، دوسرے مقام پر دلوں کے کسی طرف مائل ہونے کا تصور ہی۔
لہٰذا زیادہ محتاط بات یہ ہے کہ ہویٰ بذاتِ خود لازماً منفی لفظ نہیں، لیکن قرآن کے اخلاقی سیاق میں اس کا غالب استعمال مذموم نفسانی خواہش، حق سے انحراف اور خواہش کی پیروی کے لیے ہے۔
شاید اس پورے مسئلے کا سب سے جامع خلاصہ یہی ہے: انسان کا خواہش مند ہونا مسئلہ نہیں؛ خواہش کا انسان پر حکمران ہو جانا مسئلہ ہے۔
خواہش انسان کے اندر فطرت ہے۔ میلان انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ محبت بھی اسی انسانی باطن سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب نفس کی خواہش عقل، اخلاق، حق اور ہدایت کے مقابلے میں اپنی بالادستی قائم کر لے تو وہ ہوائے نفسانی بن جاتی ہے۔
اسی لیے قرآن خواہش کے وجود کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا؛ وہ خواہش کی پیروی سے روکتا ہے۔ یہی فرق انسان کو ایک ذمہ دار اخلاقی وجود بناتا ہے۔
سو ’’ ہویٰ‘‘ کو صرف ’’ خواہشِ نفس‘‘ کے خانے میں بند کر دینا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔
اس میں میلان بھی ہے، کشش بھی، جھکائو بھی اور خواہش بھی۔ دل کسی طرف مائل ہوتا ہے، میلان خواہش بنتا ہے، خواہش شدت اختیار کرتی ہے، اور جب انسان اس کھنچائو کے سامنے حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ہویٰ، ہوائے نفسانی بن جاتی ہے۔
اس لیے قرآن کی روشنی میں شاید ہوائے نفسانی کی سب سے جامع تعریف یہ ہے: ’’ وہ غالب خواہش جس کی پیروی انسان کو حق سے ہٹا دے‘‘۔
انسان کے اندر خواہش نہ ہو تو زندگی بے رنگ ہو جائے، مگر خواہش انسان کی مالک بن جائے تو زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔
فرق خواہش کے ہونے اور خواہش کے حاکم ہونے میں ہے۔ اور یہی فرق ہویٰ اور ہوائے نفسانی کے درمیان بھی ہے۔

جواب دیں

Back to top button