
جگائے گا کون؟
نہ نئے صوبے، نہ پرانا خان ہو گا۔
تحریر: سی ایم رضوان
گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے درخواست کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت کے بعد فوری نوعیت کے فیصلے سنا دیئے گئے ہیں۔ درخواست میں عمران خان کی جانب سے اپنے ذاتی معالجین یا مستند طبی ماہرین کے زیرِ نگرانی اور کسی بہترین معالجاتی ادارے میں آنکھوں و دیگر طبی معائنوں کے لئے استدعا کی گئی تھی۔ عمران خان کے وکلا اور معالجین نے جیل حکام کے سامنے آنکھوں کے انفیکشن، طبی مسائل، دانتوں کی تکلیف اور تفصیلی چیک اپ کی ضرورت کا موقف پیش کیا تھا۔ سماعت کے دوران جیل انتظامیہ اور سرکاری وکلا کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ پمز یا لیڈی ریڈنگ شاہی ہسپتال کے ماہرین اور سرکاری میڈیکل بورڈ کے ذریعے جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ عمران خان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ جامع معائنے اور مخصوص اینٹی بائیوٹک یا جدید تکنیکی آلات ( خصوصاً آنکھوں اور آنکولوجی، سپیشلائزڈ کیئر) کی دستیابی کے لئے ہسپتال منتقلی ضروری ہے۔ جس پر عدالت نے عمران خان کی آنکھوں کے تفصیلی معائنہ اور علاج کے لئے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال ( راولپنڈی) یا پمز کے بہترین ماہرین سے فوری رابطہ اور منتقلی کا حکم دیا۔ عدالتی آرڈر میں جیل سپرنٹنڈنٹ اور مقامی پولیس کو ہدایت کی گئی کہ انتقالِ ہسپتال کے دوران سخت سکیورٹی ایس او پیز برقرار رکھی جائیں۔ عدالت نے عمران خان کے ذاتی معالج ( ڈاکٹر عاصم یوسف یا متعلقہ نامزد معالج) کو بھی طبی معائنے اور معالجاتی عمل کے وقت موجود رہنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی بانی سے ملنے اور علاج سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی اجازت دی لیکن کسی کو بھی علاج اور میڈیکل رپورٹس کے حوالے سے سیاست کرنے کی سختی سے ممانعت کر دی۔
اس حکم سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ڈیل کے حوالے حکومت اور پی ٹی آئی وی لاگرز اور سوشل میڈیا وارئیرز کا پروپیگنڈہ دم توڑ گیا ہے جس کے بہانے وہ مختلف افواہیں پھیلا رہے تھے۔ البتہ موجودہ پاکستانی سیاسی، صحافتی، انتظامی ماحول اور حکمرانوں کو نئے صوبوں بنانے کے حوالے سے وقت گزاری کے وسیع مواقع ابھی بھی میسر ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ نہ ہی ان کی خان سے ڈیل ہوئی ہے اور نہ کبھی ان کی خان سے ڈیل ہونی ہے، یہ محض وقت گزاری کے لئے نان ایشوز کو ایشو بنا کر عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ غیر متوقع طور پر خان کی رہائی ( اگر ہوئی تو) اس کے بعد خان کی ترجیح بھی جذبات پر مبنی جارحانہ بیانیے کے بجائے پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے اور وقتی طور پر سخت موقف کو نرم کرنے پر ہو گی۔ ماضی کی سخت مزاجی اور ہر محاذ پر بیک وقت جنگ لڑنے کے تجربے کے بعد، نیا بیانیہ اور حکمت عملی اداروں کے ساتھ کسی حد تک ’’ پاور شیئرنگ‘‘ یا افہام و تفہیم کے ارد گرد گھومے گی، تاکہ سیاسی عمل کو دوبارہ بحال کیا جا سکے لیکن یہ تب ہو گا جب ’’ سرکار‘‘ کو منظور ہو گا۔ ابھی تو کسی سر، پیر اور ثبوت، تصدیق کے بغیر ہی اندر کی لا یعنی خبروں کا سلسلہ جاری ہے اور بانی پی ٹی آئی کے متعلق ابھی تو یہ بیانیہ ہی ترتیب پایا ہے کہ ڈٹ کے ہوا ہے بیمار قیدی نمبر آٹھ سو چار۔ چونکہ ابھی تو صرف قیدی کی جیل کے اندر ناسازی طبع اور چند سہولیات کی عدم یا کم فراہمی کی شکایت کی حامل ایک درخواست پر عدالت نے فوری ہسپتال کی منتقلی کا حکم دیا ہے وہ بھی اگلیا سماعت تک لیکن یار لوگوں نے اس معاملے کو لے کر زمین و آسمان کے قلابے ملانا شروع کر دیئے ہیں کہ لو جی ڈیل ہو گئی، اب خان باہر آئے گا اور سب کو مزہ چکھائے گا۔ حالانکہ عقل کا فیصلہ تو یہ ہے اگر ڈیل کر کے آیا تو وہ پرانا نہیں نیا خان ہو گا جبکہ عوامی یا سیاسی انقلاب کے ساتھ اس کے باہر آنے کے مواقع اگلی پوری صدی تک نظر نہیں آتے۔ باقی جو لوگ بانی کو اب بھی مظلوم یا بے گناہ قیدی سمجھتے ہیں ان کو یہ نوٹ کر لینا چاہئے کہ وہ ایک مجرم اور سزا یافتہ قیدی ہیں اور عدالتوں سے گلو خلاصی کے بعد ہی انہیں رہائی ملے گی۔ ان کے خلاف محض مخالفت برائے مخالفت یا جھوٹے مقدمات درج نہیں ہوئے بلکہ درست مقدمات کی درست سماعتوں کے بعد ان کو جو سزائیں ملی ہیں وہی بھگت رہے ہیں البتہ ان کے اپنے دورِ حکومت (2018ء تا 2022ئ) کے دوران ان کے سیاسی مخالفین، میڈیا اور آزاد آوازوں کے خلاف جھوٹے اور سراسر بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں قید رکھا گیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کے دور میں محض کارروائی کے طور پر ”احتساب” کو حکومت کا بنیادی بیانیہ بنایا گیا، تاہم وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ یہ عمل سیاسی انتقام اور دبا تھا اور نیب جیسے ادارے کا سیاسی استعمال کر کے اپوزیشن اور مخالفین و ناقدین کی گرفتاریاں کی گئیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماں شہباز شریف اور نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات، آشیانہ ہاسنگ سکیم اور رام کے ملز کیسز میں گرفتار کیا گیا اور طویل عرصے تک قید رکھا گیا۔ آصف علی زرداری شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کی بہن کو جعلی بینک کھاتوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا، ستم یہ کہ فریال تالپور کو چاند رات کو اسپتال سے جبکہ وہ زیر علاج تھیں تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا گیا۔ مریم نواز کو چودھری شوگر ملز کیس میں اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے دوران گرفتار کیا گیا، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ( رانا ثناء اللہ پر منشیات کا سنگین مقدمہ درج کیا گیا جو بعد میں عدالتوں میں ثابت نہ ہو سکا)۔ عمرانی دور میں تنقیدی صحافیوں کے پروگرامز کی بندش، چینلز کا آف ایئر ہونا اور بعض سینئر صحافیوں ( جیسے طلعت حسین، مطیع اللہ جان اور دیگر) پر بندشیں یا دبائو دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا اور صحافیوں کے خلاف پیکا قانون کے تحت سخت کارروائیوں کی کوششیں بھی کی گئیں۔ عدلیہ اور دیگر آزاد اداروں پر تنقید اور بعض ججز کے خلاف صدارتی ریفرنسز ( مثلاً قاضی فائز عیسیٰ کیس) بھی اسی دور کی مثالوں میں شامل ہیں، جس کا اعتراف بعد میں خود بانی پی ٹی آئی نے بھی کیا۔ مکافات عمل کہ اقتدار ختم ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو انہی قوانین، اداروں اور نظام کی سختیاں اب جائز اور درست طور پر برداشت کرنا پڑ رہی ہیں جنہیں انہوں نے اپنے دور میں فعال رکھا یا جن کی اصلاح نہیں کی۔ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں انہی نیب قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا جن کے دائرہ کار اور اختیارات کو انہوں نے اپنے دور میں برقرار رکھا تھا۔ اسی طرح سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور 9مئی کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں طویل قید اور قانونی معرکوں کا سامنا ہے۔ ان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو پسِ دیوار دھکیلنے کی جو حکمتِ عملی اپنائی گئی، عدم اعتماد کی تحریک کے بعد وہی نظام ان کے خلاف صف آرا ہوا، جسے اکثر سیاسی تجزیہ کار کرنی کی بھرنی سے تعبیر کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ جب سیاسی قیادت اقتدار میں آ کر آئینی و قانونی اصلاحات، انتقامی سیاست کے خاتمے اور اداروں کو غیر جانبدار بنانے پر توجہ نہیں دیتی، تو وہی نظام اور قوانین اقتدار سے باہر آنے پر ان کے اپنے لئے مشکلات کا سبب بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر ان سیاسی عناصر کے لئے تو گلے کا پھندا بن جاتے ہیں جنہوں نے عمران خان کی طرح سچ مچ کرپشن کی ہو۔
وقت گزاری کے لئے ان دنوں پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا بھی بڑا شور ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹی رہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کا نعرہ سیاسی حد تک تو دلکش ہو سکتا ہے، جیسا کہ کچھ سیاسی جماعتیں اس نان ایشو کی مخالفت کر کے اسے سیاسی جہاد ثابت کرنے پر مصر ہیں حالانکہ ان جہادی سیاست کاروں کو بھی پاکستان کی موجودہ انتظامی اور بالخصوص معاشی صورتحال میں 25یا اس سے زائد نئے صوبے بنانا عملًا ناممکن نظر آ رہا ہے لیکن وہ اس ڈگڈگی کو بجانے میں مصروف ہو گئے ہیں کہ اس سے اصل مسائل ڈھکے رہیں گے۔ یہاں ایک انتہائی اہم اور منطقی سوال ہے کہ جو انتظامی ڈھانچہ اور وفاقی مشینری موجودہ نظام کو سنبھالنے یا چلانے میں ناکام ہو چکی ہے اور جس کا ایک وفاقی وزیر اعتراف کر چکا ہے کہ موجودہ نظام تباہ ہو چکا ہے اور ساتھ ہی وہ غیر منطقی طور پر یہ بھی کہہ رہا ہے کہ یہ مرا ہوا نظام بھی پچیس نئے صوبے قائم کر لے گا۔ بھلا بجلی کے بلوں پر چلنے والی یہ معیشت نئے انتظامی یونٹس بنانے کی پیچیدہ، بھاری اور نازک مشق کو کس طرح کامیابی سے سر انجام دے سکتی ہے کیونکہ 25نئے صوبے بنانے کے لئے صرف ایک جغرافیائی لکیر کھینچنا کافی نہیں ہوتا، اس کے برعکس، نئے صوبے بنانے کے حامیوں کا استدلال یہ ہے کہ موجودہ نظام کی تباہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبے ضرورت سے زیادہ بڑے ہیں ( جیسے پنجاب کی آبادی دس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے)۔ ان کا ماننا ہے کہ اتنے بڑے علاقوں کو ایک ہی مرکز سے کنٹرول کرنا ناممکن ہو چکا ہے، چھوٹے انتظامی یونٹس میں گورننس بہتر اور آسان ہو سکتی ہے لیکن یہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ سردست عملی اور منطقی حل یہی نظر آتا ہے کہ انتہائی مہنگے انتظامی تجربات کرنے کی بجائے موجودہ نظام کی اصلاح کی جائے، آئین کے مطابق طاقتور اور بااختیار مقامی حکومتوں ( بلدیاتی نظام) کو بحال کیا جائے، اور وسائل کو ڈسٹرکٹ لیول تک منتقل کیا جائے۔
وہ ملک جس میں پیچیدہ کیسز کی تفتیش کے لئے فرانزک لیبارٹری صرف ایک ہے جو لاہور میں ہے اور باقی پورا ملک یہیں سے فرانزک کرواتا ہے یہاں رش اتنا ہے کہ کسی بھی حساس کیس کی رپورٹ آنے تک مجرم بھاگ جاتے ہیں۔ جس ملک میں بنیادی صحت عامہ کی صورتحال یہ ہو کہ کتے کے کاٹے کی ویکسین اور لازمی ادویات کی شدید قلت رہتی ہو، وہاں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لئے اربوں ڈالر کے اخراجات کہاں سے آئیں گے۔ نئے انتظامی سیٹ اپ کے دیوہیکل اخراجات ہوتے ہیں، ہر نئے صوبے کے لئے نئے انفراسٹرکچر پر اربوں روپے کے ابتدائی اور سالانہ جاریہ اخراجات آتے ہیں۔ نئی صوبائی اسمبلیوں کی عمارتیں، سیکرٹریٹ اور گورنر، وزیر اعلیٰ ہائوسز۔ نئے بیوروکریٹک سیٹ اپ، بشمول چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور محکموں کی الگ الگ بیوروکریسی۔ ہر صوبے کا علیحدہ پبلک سروس کمیشن، محتسب اور ہائی کورٹ کے بینچز۔ اسی طرح آئینی و سیاسی پیچیدگیاں بھی لاتعداد ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کے لئے دو دہائیوں سے زیادہ کی سیاسی رضامندی، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اور قومی اسمبلی و سینیٹ سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار اور جغرافیائی، لسانی تحفظات کے باعث اس سطح کا قومی اتفاقِ رائے پیدا ہونا انتہائی دشوار ہے۔ حالانکہ اس وقت ملک کا حقیقی مسئلہ مزید صوبے بنانا نہیں، بلکہ موجودہ انتظامی نظام کی بہتری، بنیادی انسانی ضروریات اور صحت و تعلیم کے شعبوں کی اصلاح ہے۔ واضح رہے کہ معاشی بحران کے اس دور میں نئے صوبوں کا قیام عملی سے زیادہ ایک غیر حقیقی نعرہ اور وقت گزاری کا ذریعہ ہی رہے گا۔





