Column

مٹی دی ڈھیری 

مٹی دی ڈھیری

شہرِ خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری

ویکھ فریدا مٹی کھُلی

مٹی اُتے مٹی ڈُلی

مٹی ہسے مٹی رووے

انت مٹی دا مٹی ہووے

نہ کر بندیا میری میری

نہ تیری نہ اے میری

چار دناں دا میلہ دنیا

فیر مٹی دی ٹھیری

نہ کر ایتھے ہیرا پھیری

مٹی نال نہ دھوکا کر تُو

تُو وی مٹی او وی مٹی

ذات پات دی گل نہ کر تُو

ذات وی مٹی تُو وی مٹی

ذات صِرف خدا دی اُچّی

باقی سب کچھ مٹی مٹی

اس سادہ سے کلام میں ایک وسیع عرفانی نظام پوشیدہ ہے جو انسان کے وجود، سماجی رویوں، ملکیت کے تصور، ذات پات کے غرور، دنیا سے وابستگی اور بالآخر فنا کے مسئلے کو ایک ہی استعارے میں سمیٹ لیتا ہے۔ وہ استعارہ ہے:’’ مٹی۔ مٹی‘‘، یہاں صرف زمین نہیں۔ یہ انسان کی اصل بھی ہے، اس کی حقیقت بھی، اس کی آخری منزل بھی اور اس کے تمام ظاہری تفاخر کی نفی بھی۔

ویکھ فریدا مٹی کھُلی

مٹی اُتے مٹی ڈُلی

یہاں شاعر کوئی فلسفیانہ بحث نہیں چھیڑتا بلکہ ایک منظر دکھاتا ہے۔ مٹی کھلی ہوئی ہے، مٹی کے اوپر مٹی پڑی ہے۔ عام آدمی مٹی کو دیکھتا ہے تو صرف مٹی دیکھتا ہے، مگر عارف مٹی میں انسان کی پوری داستان پڑھ لیتا ہے۔ جو شخص آج اپنے گھر، زمین، دولت، منصب، نام اور خاندان پر نازاں ہے، کل اسی مٹی کا حصہ ہوگا۔ جس جسم کو وہ اپنی شناخت سمجھتا ہے، وہ بھی آخرکار مٹی میں تحلیل ہو جائے گا۔ یوں مٹی انسان کو اس کی آخری حقیقت سے متعارف کراتی ہے۔ موت کو محض خوف نہیں بلکہ حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ موت زندگی کی ضد نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ انسان مٹی سے آتا ہے، مٹی پر چلتا ہے اور آخرکار مٹی میں واپس چلا جاتا ہے۔

مٹی ہسے مٹی رووے

انت مٹی دا مٹی ہووے

مٹی ہنس رہی ہے، مٹی رو رہی ہے۔ یہاں ’’ مٹی‘‘ انسان کا استعارہ بن جاتی ہے۔ کوئی پیدا ہوتا ہے تو خوشی ہوتی ہے، کوئی مرتا ہے تو ماتم؛ مگر عارف جانتا ہے کہ ہنسی اور رونا، کامیابی اور شکست، دولت اور غربت، عروج اور زوال، سب عارضی کھیل ہیں۔ انجام ایک ہے۔ گویا ہم عارضی چیزوں کو مستقل سمجھ لیتے ہیں۔ انسان ’’ میرا‘‘ اور ’’ تیرا‘‘ بناتا ہے۔ گھر میرا، زمین میری، دولت میری، خاندان میرا، منصب میرا، شہرت میری۔ پھر اسی ’’ میرا‘‘ کی حفاظت میں پوری زندگی گزار دیتا ہے۔

غلام فریدؒ اس پورے نفسیاتی نظام پر ایک ہی ضرب لگاتے ہیں: ’’ نہ کر بندیا میری میری۔۔۔ نہ تیری نہ میری‘‘۔۔۔

یہ صرف زہد کی نصیحت نہیں بلکہ ملکیت کے پورے انسانی تصور پر ایک عارفانہ سوال ہے۔ انسان دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ جاتا ہے۔ درمیان کا عرصہ وہ چیزوں کو اپنا سمجھ کر گزارتا ہے۔ یہی ’’ میری میری‘‘ اس کے اندر خوف، لالچ، حسد، مقابلہ اور ظلم پیدا کرتی ہے۔

عارف کہتا ہے: جس چیز پر تم قبضہ جمانا چاہتے ہو، وہ تم سے پہلے بھی موجود تھی اور تمہارے بعد بھی رہے گی۔ تم مالک نہیں، صرف مسافر ہو۔

اسی حقیقت کو اگلی سطر مزید وسیع کر دیتی ہے ’’ چار دناں دا میلہ دنیا۔۔۔ فیر مٹی دی ٹھیری‘‘۔۔۔

دنیا کو میلے سے تشبیہ دینا صوفیانہ روایت میں نہایت معنی خیز ہے۔ میلہ آباد ہوتا ہے، رونق ہوتی ہے، لوگ آتے ہیں، خریدتے، بیچتے، ہنستے، گاتے ہیں: پھر شام ہوتی ہے اور میلہ اجڑ جاتا ہے۔ دنیا بھی ایسا ہی میلہ ہے۔

’’ نہ کر ایتھے ہیرا پھیری۔۔۔ مٹی نال نہ دھوکا کر تُو‘‘۔۔۔ یہاں ’’ ہیرا پھیری‘‘ صرف مالی بد عنوانی نہیں۔ انسان اپنے ضمیر، اپنے اعمال، دوسروں کے حقوق اور اپنی حقیقت کے ساتھ بھی ہیرا پھیری کرتا ہے۔ وہ خود مٹی ہے مگر مٹی کو کمتر سمجھتا ہے۔ وہ فانی ہے مگر فنا کو بھول کر ایسے رہتا ہے جیسے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ وہ محتاج ہے مگر تکبر کرتا ہے۔ یہی اصل دھوکا ہے۔

پھر کلام اپنی بڑی سماجی حقیقت کی طرف آتا ہے: ’’ تُو وی مٹی او وی مٹی۔۔۔ ذات پات دی گل نہ کر تُو ۔۔۔ ذات وی مٹی تُو وی مٹی‘‘۔۔۔

یہاں غلام فریدؒ کی صوفیانہ فکر براہِ راست معاشرتی نظام سے ٹکراتی ہے۔

انسان نے انسان کو ذات، برادری، خاندان، طبقے، دولت، نسل اور منصب کے خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ کسی کو اونچا کہا گیا، کسی کو نیچا؛ کسی کے خون کو معزز سمجھا گیا، کسی کے وجود کو کمتر۔ عارف کی نگاہ میں یہ تقسیم اس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان اپنی آخری حقیقت کو پہچان لیتا ہے۔ جس جسم کو تم اونچی ذات کہتے ہو، وہ بھی مٹی ہے۔ جس جسم کو تم نیچی ذات کہتے ہو، وہ بھی مٹی ہے۔ جس کے لباس پر تمہیں فخر ہے، وہ بھی فنا ہوگا، اور جس کے لباس کو تم حقارت سے دیکھتے ہو، وہ بھی فنا ہوگا۔ اس میں سماجی انقلاب کا محض نعرہ نہیں لگاتے؛ وہ اس سے بھی گہری جگہ پر ضرب لگاتے ہیں۔ وہ انسان کے اندر موجود طبقاتی شعور کی بنیاد ہلا دیتے ہیں۔ اگر انسان حقیقتاً سمجھ لے کہ وہ مٹی ہے تو پھر اس کا تکبر کس بنیاد پر قائم رہے؟

یہی عرفان کا بنیادی اصول ہے: حقیقت کی پہچان غرور کو ختم کرتی ہے۔

کلام کا اختتامی حصہ اسی عرفانی نظام کا مرکز بن جاتا ہے: ’’ ذات صِرف خدا دی اُچّی۔۔۔ باقی سب کچھ مٹی مٹی‘‘۔۔۔ یہاں ’’ ذات‘‘ کا مفہوم انسانی ذات سے بلند ہو کر خدا کی ذات تک پہنچتا ہے۔ تمام انسانی عظمتیں عارضی ہیں۔ اصل عظمت اس ہستی کی ہے جو فنا سے پاک ہے۔

انسان فانی ہے، خدا باقی ہے۔

انسان محتاج ہے، خدا بے نیاز ہے۔

انسان مٹی ہے، خدا خالق ہے۔

یہ فرق سمجھ لینا ہی عرفان کا آغاز ہے۔

جب انسان جان لے کہ سب کچھ فنا ہونا ہے تو اسے دوسروں پر ظلم کیوں کرنا چاہیے؟ جب معلوم ہو کہ دولت ساتھ نہیں جائے گی تو اس کے لیے انسانوں کے حقوق کیوں پامال کیے جائیں؟ جب معلوم ہو کہ ذات پات مٹی میں برابر ہو جاتی ہے تو انسان کو انسان سے کمتر کیوں سمجھا جائے؟ اور جب معلوم ہو کہ دنیا میلہ ہے تو میلے کی چیزوں پر اتنا غرور کیوں کیا جائے؟۔

اس کلام کی معنویت آج کے عہد میں شاید پہلے سے زیادہ ہے۔ جدید انسان نے ترقی تو بہت کر لی، مگر ’’ میری میری‘‘ کا مرض بھی بڑھا لیا ہے۔ زمین زیادہ چاہیے، دولت زیادہ چاہیے، شہرت زیادہ چاہیے، اختیار زیادہ چاہیے۔ انسان نے دنیا کو فتح کرنے کی کوشش میں خود کو کھو دیا ہے۔

یہ مٹی انسان کو ذلت نہیں دیتی، اسے اس کی اصل برابری یاد دلاتی ہے۔ یہ امیر اور غریب، بادشاہ اور فقیر کے درمیان آخری فرق مٹا دیتی ہے۔ یہ ذات پات کی دیواریں گرا دیتی ہے اور ملکیت کے غرور کو توڑ دیتی ہے۔

یہی اس کلام کی عارفانہ عظمت ہے کہ شاعر انسان کو مٹی دکھا کر خدا تک پہنچاتا ہے۔

یہ نظم ہمیں دنیا چھوڑنے کا نہیں، دنیا کے فریب کو چھوڑنے کا درس دیتے ہیں۔ وہ ملکیت سے زیادہ امانت کا شعور دیتے ہیں، ذات سے زیادہ انسانیت کا، ظاہری مرتبے سے زیادہ باطنی حقیقت کا اور فنا کے احساس سے بقا کی تلاش کا راستہ دکھاتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں رہتا کہ ہمارے پاس کتنا تھا، سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مٹی ہونے سے پہلے ہم انسان کتنے تھے؟یہی اس کلام کی اصل عرفانی ضرب ہے۔

مٹی آنا ہے، مٹی جانا ہے، مگر مٹی بننے سے پہلے انسان بن جانا ہی اصل معرفت ہے۔

جاتے جاتے ایک قرآنی منظر یاد آیا

منکر کہے گا : یَا لَیْتَنِی کُنتُ تُرَابًا

’’ کاش! میں مٹی ہوتا‘‘۔

بھئی تم مٹی ہی تھے، تم نے خود کو کوئی توپ چیز سمجھ لیا تھا۔

جواب دیں

Back to top button