جنگ اسلحے سے نہیں، عزم سے جیتی جاتی ہے

جنگ اسلحے سے نہیں، عزم سے جیتی جاتی ہے
تحریر: رفیع صحرائی
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف توپوں، میزائلوں، طیاروں اور جدید ترین اسلحے سے نہیں جیتی جاتیں۔ ہتھیار جنگ کا ایک ذریعہ ضرور ہیں، مگر فیصلہ ہمیشہ انسان کے حوصلے، عزم، حکمتِ عملی اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے قربانی دینے کے جذبے سے ہوتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کم وسائل والے تین سو تیرہ بھی آہنی عزم کے ساتھ اپنے سے کئی گنا عددی اور اسلحے کی طاقت رکھنے والوں پر فتح یاب ہوتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کئی مرتبہ کم وسائل رکھنے والی اقوام نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بھی اسی حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کرتی دکھائی دیتی ہے۔
امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے پاس جدید ترین لڑاکا طیارے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، ڈرونز، سیٹلائٹ نظام، بحری بیڑے اور بے پناہ مالی وسائل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل بھی جدید ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کے اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے۔ یوں ایران کو بیک وقت دو ایٹمی طاقتوں کے دبا کا سامنا رہا۔ لیکن تہران نے جس انداز میں مزاحمت کی، اس نے جنگ کے روایتی تصور پر کئی سوالات ضرور کھڑے کر دئیے ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے سامنے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کرنے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت میں یہ تشویش بھی موجود ہے کہ محض فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں، جبکہ طویل جنگ امریکی ہتھیاروں اور خاص طور پر انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر پر دبائو ڈال سکتی ہے۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: اگر کسی ملک کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ ہو لیکن مخالف قوم کے پاس شکست قبول نہ کرنے کا عزم موجود ہو تو کیا صرف طاقت کے بل پر اسے زیر کیا جا سکتا ہے؟
شاید جواب نفی میں ہے۔
جنگ کے میدان میں اصل طاقت محض اسلحہ نہیں بلکہ دلیری، پختہ عزم اور مضبوط ارادہ ہے۔ جس قوم کے دل میں آزادی، خودداری اور اپنے وطن کے دفاع کا جذبہ زندہ ہو، اسے شکست دینا کسی بھی طاقت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ایران نے کم از کم اس جنگ میں یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ وسائل کی کمی اور فوجی طاقت کے غیر مساوی تناسب کے باوجود مزاحمت کی قوت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
آبنائے ہرمز اس جنگ کا ایک اہم باب بن چکی ہے۔ یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو اپنی تزویراتی قوت کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کے لیے جنگ کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہوتا گیا۔ امریکی اور اتحادی حکام پہلے ہی اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرتے رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ معیشت، سفارت کاری، عالمی منڈی اور سیاسی ساکھ بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے۔
ایران نے اگرچہ شدید نقصانات بھی اٹھائے ہوں گے، لیکن اس نے یہ تاثر ضرور پیدا کیا کہ وہ دبا کے سامنے فوری طور پر گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی قیادت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کو ترجیح دے گی۔ یہی موقف جنگ کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن کے لیے اصل چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ ایران کو مزید کتنا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ جنگ سے باہر نکلنے کا ایسا راستہ کیسے تلاش کیا جائے جسے سیاسی شکست نہ سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر سفارتی راستے تلاش کرنے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں امریکی قیادت کی جانب سے جنگ کو مزید بڑھانے کے بجائے ممکنہ سفارتی حل پر غور کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی تو جنگ کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔ جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر اسے باعزت طریقے سے ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی یا کسی نئے معاہدے کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو واشنگٹن یقیناً اسے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ تہران بھی اپنی مزاحمت کو فتح قرار دے گا۔ مگر تاریخ نعروں سے نہیں، نتائج سے فیصلہ کرتی ہے۔ ایران کے بارے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ جنگ کا قطعی فاتح بن چکا ہے، کیونکہ جنگ کے انسانی، معاشی اور تزویراتی نتائج کا مکمل اندازہ وقت گزرنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ تاہم اگر فاتح کا معیار یہ رکھا جائے کہ کس نے طاقتور حریف کے سامنے زیادہ دیر تک اپنے گھٹنے نہیں ٹیکے، کس نے اپنی شرائط منوانے کے لیے مزاحمت جاری رکھی اور کس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ بڑی فوجی طاقت بھی ہر مسئلے کا حل نہیں، تو ایران کی مزاحمت کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔
امریکہ کے لیے اس جنگ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ ہر تنازع کو بموں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بدل چکی ہے۔ اب جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑیں جاتیں؛ معیشت، سائبر ٹیکنالوجی، سفارت کاری، اطلاعات، عوامی حوصلہ اور جغرافیہ بھی جنگ کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایران نے امریکہ کے غرور کو خاک میں ملایا یا نہیں، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی، مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے امریکہ کو ایک بظاہر آسان فتح حاصل کرنے سے روک کر یہ ثابت کیا ہے کہ جنگ صرف اسلحے کے انبار کا نام نہیں۔ اصل جنگ انسان کے اندر لڑی جاتی ہے۔ کسی کے ہاتھ میں جدید ترین میزائل ہو مگر دل میں شکست کا خوف ہو، وہ بڑی طاقت ہونے کے باوجود کمزور ثابت ہو سکتا ہے اور
جس کے وسائل محدود ہوں مگر سینہ عزم سے بھرا ہو، وہ اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کے لیے بھی ناقابلِ تسخیر بن سکتا ہے۔
تاریخ کے بڑے معرکے ہمیں بار بار یہی سبق دیتے ہیں کہ فوج اور اسلحہ کسی کے پاس جتنا بھی ہو، جنگ صرف طاقت سے نہیں جیتی جاتی؛ جنگ دلیری، پختہ عزم، مضبوط ارادے اور اپنے مقصد پر یقین سے جیتی جاتی ہے۔ ایران کی موجودہ مزاحمت اسی حقیقت کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر جنگ کا آخری نتیجہ سفارتی میز پر نکلتا ہے تو شاید اصل فاتح وہی ہوگا جو اپنے قومی مفاد، خودداری اور اصولی موقف کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے گا۔ شاید یہی وہ حقیقت ہے جس نے دنیا کی سپر پاور کو بھی اب یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہر جنگ کا اختتام بمبار طیاروں سے نہیں، کبھی کبھی مذاکرات کی میز پر بھی کرنا پڑتا ہے۔







