Columnمحمد مبشر انوار

اختلافات یا منصوبہ

محمد مبشر انوار
مشرق وسطیٰ کی صورتحال گو کہ فی الوقت ٹھنڈی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہ سکوت کس طوفان کا پیش خیمہ ہے، اس کے متعلق آثار واضح ہورہے ہیں کہ ایک طرف امریکہ زبردست دھلائی کے بعد بھی، متضاد بیانات جاری کر رہا ہے، اور دوسری طرف جس کی خاطر امریکہ نے اتنی بڑی جنگ لڑی، شکست کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا، اپنے عسکری سازوسامان کا نقصان اٹھایا، اپنی ساکھ برباد کی، وہ پروردہ ریاست ابھی بھی امریکہ کو آنکھیں دکھا رہی ہے اور امریکی معاہدوں سے روگردانی کرنے پر آمادہ ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، اتنی بری طرح مار کھانے کے باوجود، آبنائے ہرمز سے کوسوں دور اپنے بحری جہاز کھڑے کئے ہوئے، یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، آبنائے ہرمز پر امریکہ کا صد فیصد کنٹرول ہے، نجانے یہ کیسا صد فیصد کنٹرول ہے کہ امریکی بحری بیڑے ابھی بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بھی مامور ہیں۔ کیا اپنے کنٹرول میں ہونے والی کسی بھی چیز کی ناکہ بندی کی جاتی ہے؟ یہ کیسا کنٹرول ہے کہ آج بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز، جو ایران کی اجازت کے بغیر، ایران کے متعین کردہ راستے سے ہٹ کر، امریکی یقین دہانی پر متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، انتباہ کے باوجود گزرنے کی کوشش میں ایران کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دیا گیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں ہونے والے اپنے نقصانات کے ہرجانے کا مطالبہ کرنے پر غور کر رہا ہے اور آئندہ مذاکرات میں اس کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران سے ان نقصانات کے ہرجانے کا سنجیدگی سے مطالبہ کیا جائے۔ کیا عجب منطق ہے اور نجانے کس ذہنی کیفیت میں صدر ٹرمپ نے یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ امریکہ بارہ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے، اس خطے میں وارد ہوا ہے اور اپنے ایک حلیف ؍ اتحادی کی خواہش پوری کرنے کے لئے ایران پر جنگ مسلط کی لیکن بدقسمتی سے ایران کی عسکری و دفاعی قوت کا ٹھیک اندازہ نہ لگانے کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ اس تجویز کے بعد درحقیقت صدر ٹرمپ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے جس کا اعتراف اس سے قبل کرنے سے کتراتے رہے، خود کو جھوٹی طفل تسلیاں دیتے رہے کہ انہیں جنگ میں کوئی نقصان نہیں ہوا یا برائے نام اور معمولی سا نقصان ہوا ہے، جس کی امریکہ کو پرواہ نہیں جبکہ حقیقتا امریکہ کو اس جنگ میں بہت بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا اعتراف اب صدر ٹرمپ نے دوسرے انداز میں کر لیا ہے۔ اس اعتراف کے بعد اب اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ ایران نے واقعتا امریکہ کو نہ صرف عسکری سازوسامان میں شدید ترین نقصان پہنچایا ہے بلکہ امریکی برتری و ساکھ کو بھی تقریبا لپیٹ دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی موجودگی، امریکی قدموں کو اکھاڑ دیا ہے کہ امریکہ اس وقت عراق میں اپنے فوجی اڈے کو خالی کر رہا ہے۔ بعد ازاں قوی امید ہے کہ عرب ریاستوں کہ جہاں امریکہ ان عرب ریاستوں کی حفاظت کے لئے دہائیوں تک موجود رہا، اپنے فوجی اڈوں کے تحفظ میں ناکامی کے بعد، ان عرب ریاستوں سے بھی اپنے اڈے، جلد یا بدیر، خالی کر دے گا، زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ پسپائی جو عراق سے شروع ہوئی ہے بغیر کسی تاخیر کے دیگر ممالک سے بھی جاری رہے گی۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کس طرح، ایران سے کسی ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ہرجانے کا دعوی کرنے کا اصولی حق تو ایران کے پاس ہے کہ جس پر جنگ مسلط کی گئی اور ایران نے انتہائی کامیابی کے ساتھ نہ صرف اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے، میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کی، فتح ابھی تک نہیں کہلائی جا سکتی کہ ہنوز صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں، کارروائی کرتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن یہ برتری بھی بہرحال کسی فتح سے کم نہیں، لہذا نقصانات کے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا حق اس وقت تک ایران کو حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو غیر ضروری و غیر قانونی پابندیاں ایران پر لاگو ہیں، ان کو برقرار رکھنے کا بھی کوئی جواز اب باقی نہیں رہتا۔ صدر ٹرمپ کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اس وقت وہ ہر صورت اپنی فیس سیونگ کے لئے، ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے بھی درپردہ دستبردار ہو چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر صورت ایران سے معاہدہ ہو جائے تا کہ وہ اس جنگ سے نکل سکیں، ویسے یہی مشورہ ان کو فوجی ٹیم بھی ان کو دے رہی ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے، طرفین اپنی اپنی تشریح تو کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے، امریکہ اس ایم او یو کی شرائط کے مطابق اسرائیل کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام رہا اور اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر مسلسل اقدامات کرتا رہا، گو کہ ان اقدامات میں اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور نہ صرف لبنان بلکہ شام میں بھی اس کی کارروائیاں، حسب منشا نتائج نہ دے سکی۔ اس دوران اسرائیلی ایماء و خواہش پر امریکہ نے ایک اور کوشش ضرور کی کہ ایران کو دبایا جا سکے یا کم از کم کوئی ایسی واضح کامیابی حاصل کی جاسکے، جس کی بنیاد پر ایران کو جھکایا جا سکے لیکن دوسری کوشش، امریکہ کو مزید مہنگی پڑی اور ایران نے امریکہ کی ٹھیک ٹھاک خاطر تواضع کی ہے البتہ یہاں ایران کی ستائش ضروری ہے کہ ایران کی جانب سے جارحیت یا کسی بھی جنگی جرم کا ارتکاب نہیں ہوا، جیسا امریکہ نے کیا ہے۔ اس وقت بھی ایران صرف اور صرف جوابی کارروائیاں ہی کر رہا ہے یا پھر اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف اکا دکا کارروائیاں جاری ہے، جو امریکی شہ پر ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل ہے، جو ہر صورت خطے میں نہ صرف اپنی توسیع بلکہ ایسی دھاک بٹھانا چاہتا ہے کہ کوئی بھی ملک اس کے سامنے سر اٹھانے کی جرات نہ کرے۔ غزہ میں اس کی درندگی و نسل کشی جنگ بندی کے باوجود جاری رہی ہے تو دوسری طرف ایم او یو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، لبنان میں بھی اس کی جارحیت جاری رہی، جس کا پس پردہ مقصد فقط ایک تھا کہ کسی طرح خطے میں جنگ نہ رکے اور اس کی چیرہ دستیاں جاری رہیں۔ غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کی جانب سے جو غزہ امن بورڈ قائم کیا گیا تھا، اس کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ حماس نہ صرف باقاعدہ طور پر غیر مسلح ہوگی بلکہ وہ انتخابات جیتنے کے باوجود حکومت سے الگ ہو جائیگی، جس کے بعد اسرائیل اپنی فوجوں کو غزہ سے نکال لے گا ۔ اسرائیل کی جانب سے پہلے تو اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزیاں کی گئی، پھر اس کو تسلیم کرنی سے انکار کیا گیا، جس کے متعلق اس وقت ساری دنیا کو علم ہے کہ اتنی جرات کا مظاہرہ صرف ایپسٹین فائلز کی بنیاد پر کی گئی بلیک میلنگ کے باعث ممکن ہوا ہے تو دوسری طرف امریکہ میں موجود طاقتور ترین یہودی لابی ہے، جو امریکہ کے اندرونی حالات کو اتھل پتھل کرنے کے صلاحیت رکھتی ہے۔ اولا حماس کی جانب سے غزہ امن بورڈ کی چند شرائط سے انکار کیا گیا، جو اصولی تھی مگر بعد ازاں ’’ وسیع تر مفاد ‘‘ میں ان ناپسندیدہ و نامعقول شرائط کو بھی تسلیم کیا گیا اور حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت چھوڑنے پر بھی اتفاق کر لیا گیا۔ ان شرائط کے تسلیم ہونے کے بعد، جن کے متعلق ممکنہ طور پر اسرائیل کو تحفظات تھے کہ یہ شرائط ناقابل قبول ہیں اور اسرائیل کے لئے غزہ میں من مانی کرنے کا جواز باقی رہے گا، اسرائیل نے غزہ امن معاہدے کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور غزہ پر مکمل قبضے کے لئے ہر اقدام اٹھانے کو تیار ہے بشرطیکہ ٹرمپ اسے روک نہ لے۔ اس حوالے سے اس وقت سب سے گرم خبر یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات شدید تر ہو چکے ہیں اور اسرائیل کسی بھی صورت امریکہ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر اسرائیل امریکہ کی بات نہیں مانتا اور اپنے زور بازو پر غزہ کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا اسرائیل اس میں کامیاب ہو سکے گا؟ حالیہ جنگ میں جس طرح امریکہ اس سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ ایران کی عسکری برتری کو ظاہر کر رہا ہے اور اگر امریکہ ایران کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تو کیا اسرائیل ٹھہر سکے گا؟ اور کیا امریکہ واقعتا اس صورت میں الگ رہے گا؟ پنجہ یہود کس جائے تو اس سے نکلنا اتنا آسان نہیں بالخصوص جب امریکہ ہر اہم ترین موقع پر اس کی پشت پناہی کے لئے موجود رہا ہے، دوسری بات کسی بھی جنگ میں اترنے سے پہلے، امریکی ہی نہیں ہر قوم بدترین حالات میں نکلنے کے راستے پہلے سوچ کر رکھتی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ اسرائیل کا یہ اختلاف بھی کہیں سوچا سمجھا منصوبہ تو نہیں؟ یا امریکہ اپنی اور خطے کی جان چھڑانے کے لئے اسرائیل کو تنہا ایران اور دیگر ممالک کے سامنے پیش کر رہا ہو؟ بہرحال کچھ بھی ہو میری ذاتی رائے میں یہ اختلافات، منصوبہ کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button