نئے صوبوں کا فارمولا: سیاسی نقشہ بدلے گا یا معاشی تقدیر؟

نئے صوبوں کا فارمولا: سیاسی نقشہ بدلے گا یا معاشی تقدیر؟
تحریر: سرفراز اسلم
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے قیام کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف ادوار میں ملک کے انتظامی ڈھانچے کو ازسرِنو تشکیل دینے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی صوبوں کی تعداد بڑھانے کی بات ہوئی، کبھی نئے صوبے بنانے کی، کبھی ڈویژنوں کو صوبائی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی گئی اور کبھی موجودہ صوبوں کو لسانی، انتظامی یا جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا تصور زیرِ بحث آیا۔
آج ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مزید صوبوں کے قیام کی تجویز، مختلف سیاسی حلقوں میں موجود بے چینی، بعض طاقتور سیاسی خاندانوں کی گرفت اور ریاستی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے ہونے والی گفتگو نے اس سوال کو دوبارہ قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ بنیادی طور پر معاشی سوال بھی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں انتظامی تجربات ضرور کیے۔ ایوب خان کے دور میں ون یونٹ قائم کیا گیا، بعد ازاں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ون یونٹ ختم کرکے مغربی پاکستان کے صوبوں کو بحال کیا گیا۔ تاہم انتظامی نقشے میں تبدیلیاں ہمیشہ مسائل کا مستقل حل ثابت نہیں ہوئیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کسی علاقے کی پسماندگی صرف اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ اسے صوبے کا درجہ دے دیا جائے۔ اصل مسئلہ گورننس، وسائل کی تقسیم، روزگار، تعلیم، صحت، انفرا سٹرکچر اور سرمایہ کاری کا ہے۔
سندھ کے شہری علاقوں میں احساسِ محرومی نے ماضی میں ایک بڑی سیاسی تحریک کو جنم دیا۔ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں الگ صوبے کا مطالبہ بھی سیاسی اور سماجی سطح پر سامنے آتا رہا۔ بلوچستان میں پشتون علاقوں کے حوالے سے الگ انتظامی شناخت کی آوازیں موجود رہی ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب بھی طویل عرصے سے الگ صوبے کے مطالبے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی تقسیم کا سوال محض نقشے پر لکیریں کھینچنے کا معاملہ نہیں۔ اس کے پیچھے شناخت، وسائل، اقتدار اور ترقی میں شراکت کے گہرے سوالات موجود ہیں۔
نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل انتظامی سہولت کی دی جاتی ہے۔ یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ یقیناً بہتر ہوگا کہ اسے بنیادی خدمات کے حصول کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔ چھوٹے انتظامی یونٹ اگر موثر انداز میں قائم کیے جائیں تو سرکاری اداروں تک رسائی بہتر ہوسکتی ہے، عدالتی نظام عوام کے قریب آسکتا ہے، صحت اور تعلیم کی سہولتیں بہتر انداز میں تقسیم کی جاسکتی ہیں اور مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا صوبوں کی تعداد بڑھانے سے معیشت بھی مضبوط ہوگی؟
اگر نئے صوبے صرف نئے گورنر ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس، سیکرٹریٹ، اسمبلی، محکموں اور سرکاری گاڑیوں کا اضافہ بن گئے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ ریاستی اخراجات میں ایک اور بڑا اضافہ ہوگا۔
پاکستان پہلے ہی مالی دبائو کا شکار ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، پنشن، سرکاری اداروں کے نقصانات اور توانائی کے شعبے کے مسائل قومی بجٹ پر بھاری بوجھ ہیں۔ ایسے میں نئے صوبوں کے قیام کا ہر منصوبہ اس سوال کا جواب بھی مانگے گا کہ اس کی مالی قیمت کون ادا کرے گا؟
نقشہ بدلنے سے معیشت نہیں بدلتی، سوشل میڈیا پر پاکستان کا ایک مجوزہ نقشہ بھی زیرِ گردش ہے جس میں پنجاب کو چھ، سندھ کو تین، بلوچستان کو پانچ اور خیبر پختونخوا کو چار انتظامی حصوں میں تقسیم کرنے کا تصور دکھایا جا رہا ہے۔ تاہم اس نقشے کی کوئی باضابطہ سرکاری حیثیت سامنے نہیں آئی اور اسے حتمی منصوبہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
لیکن اس تصور نے ایک اہم بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان کو زیادہ انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے تو اس کا معیار سیاسی مفادات نہیں بلکہ معاشی viabilityہونا چاہیے۔
ہر نئے صوبے کے بارے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی اپنی آمدنی کتنی ہے؟ اس کا ٹیکس بیس کیا ہے؟ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبے میں اس کی صلاحیت کتنی ہے؟ روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں؟ انفرا سٹرکچر کی موجودہ حالت کیا ہے؟ اور وفاقی محاصل میں اس کا حصہ کتنا ہوگا؟ صرف آبادی اور جغرافیہ کی بنیاد پر صوبہ بنانا کافی نہیں۔
نئے صوبوں کے حق میں ایک سیاسی دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ موجودہ بڑے صوبے طاقتور سیاسی خاندانوں کے زیرِ اثر ہیں اور چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹ اس سیاسی اجارہ داری کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ دلیل بھی مکمل طور پر درست نہیں۔
پاکستان کے قریباً ہر علاقے میں طاقتور سیاسی خاندان موجود ہیں۔ جنوبی پنجاب سے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک مقامی سیاسی اشرافیہ کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ اگر موجودہ صوبے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ طاقتور خاندان ختم ہوجائیں؛ ممکن ہے ان کے لیے اقتدار تک رسائی مزید آسان ہوجائے۔ ایک بڑے صوبے کا وزیر بننے کے بجائے کوئی بااثر خاندان چھوٹے صوبے کا وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔ اس لیے اصل اصلاح انتظامی نقشے کی نہیں، سیاسی و ادارہ جاتی نظام کی ہونی چاہیے۔
اگر صوبوں کی ازسرِنو تشکیل موجودہ سیاسی نظام کے تحت ممکن نہ ہو تو ریفرنڈم کی بات بھی سامنے آسکتی ہے۔ پاکستان میں ریفرنڈم کا تجربہ نیا نہیں، تاہم کسی بھی ایسے عمل کی کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز اس کی آئینی، قانونی اور سیاسی حیثیت کا واضح ہونا ہے۔ اگر واقعی مستقبل میں صوبائی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا منصوبہ بنتا ہے تو سیاسی جماعتوں، پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں، ماہرینِ معیشت، آئینی ماہرین اور سول سوسائٹی کو اس بحث میں شامل کرنا ہوگا. محض انتظامی فیصلے سے قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوسکتا۔
پاکستان اس وقت جس بحران کا سب سے زیادہ شکار ہے، وہ صرف سیاسی بحران نہیں۔ بجلی کا بحران، توانائی کی بلند قیمتیں، صنعتی پیداوار میں رکاوٹ، بے روزگاری، مہنگائی، کمزور برآمدات، ٹیکس کا محدود دائرہ اور سرکاری اداروں کا خسارہ ملکی معیشت کے بنیادی مسائل ہیں۔
اگر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی بھی موجود ہے تو یہ بحث قابلِ غور ہے۔ مثلاً نئے انتظامی یونٹوں کو مخصوص صنعتی کوریڈورز دئیے جائیں، مقامی وسائل کی بنیاد پر صنعتیں قائم کی جائیں، زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈیشن سے جوڑا جائے، توانائی کی پیداوار کو مقامی صنعتی ضرورتوں سے منسلک کیا جائے اور ہر انتظامی یونٹ کے لیے واضح معاشی اہداف مقرر کیے جائیں تو صوبائی تقسیم معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لیکن اگر صرف نئے دفاتر، نئی اسمبلیاں اور نئی سیاسی اشرافیہ پیدا کرنی ہی تو قومی معیشت اس تجربے کا بوجھ زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکے گی۔
پاکستان کی نئی نسل اس بحث کا سب سے اہم فریق ہے۔ نوجوان یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ اسے روزگار کہاں سے ملے گا؟ معیاری تعلیم کیسے حاصل ہوگی؟ صحت کی سہولت کہاں سے آئے گی؟ کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے ملے گا؟
ریاست کو نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنر، تعلیم، صحت، کاروبار اور سرمایہ کاری کا ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں وہ ملک چھوڑنے کے بجائے ملک میں اپنے مستقبل کی تعمیر کو ترجیح دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث کو معاشی اصلاحات سے جوڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔
آخر میں سب سے اہم سوال سرمایہ کار کا ہے۔ سرمایہ کار کے لیے صوبے کی تعداد سے زیادہ اہم چیز سیاسی استحکام، پالیسی کا تسلسل، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی، ٹیکس نظام کی سادگی، قانون کی حکمرانی اور سرمایہ کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اگر انتظامی تقسیم کے نتیجے میں حکومت شہریوں کے قریب آتی ہے، بجلی اور گیس کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، صنعتی زون قائم ہوتے ہیں، ٹیکس نظام آسان ہوتا ہے اور کاروباری فیصلے تیزی سے ہونے لگتے ہیں تو سرمایہ کار اسے مثبت تبدیلی سمجھے گا۔ لیکن اگر صوبوں کی تقسیم سیاسی کشمکش، آئینی تنازع، ادارہ جاتی عدم استحکام اور نئے اخراجات کا باعث بنتی ہے تو سرمایہ کار اسے خطرے کی علامت سمجھے گا۔
پاکستان کو اس وقت ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو شہری کو ریاست کے قریب لے آئے، وسائل کو منصفانہ انداز میں تقسیم کرے اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مراکز پیدا کرے۔ لیکن نئے صوبے بذاتِ خود کوئی معاشی معجزہ نہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نئے صوبے بنا رہے ہیں یا نئی معیشت؟ اگر نئے صوبوں کے ساتھ نئے صنعتی مراکز، بہتر تعلیم، جدید صحت، سستی توانائی، روزگار کے مواقع، مضبوط مقامی حکومتیں اور موثر احتساب آتا ہے تو یہ تجربہ پاکستان کی معاشی سمت بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر صرف سیاسی نقشہ تبدیل ہوا، اقتدار کے مراکز کی تعداد بڑھی اور سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوا تو عام آدمی کے لیے کچھ نہیں بدلے گا۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نقشے پر کتنے صوبے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کے وسائل کتنے لوگوں تک پہنچتے ہیں، معیشت کتنے روزگار پیدا کرتی ہے اور حکومت عام شہری کو کتنی موثر سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی نعروں سے نکال کر معاشی feasibility، آئینی تقاضوں، مالی خود کفالت اور عوامی فلاح کی بنیاد پر پرکھنا ہوگا۔ آخرکار نئے صوبوں کا فیصلہ نقشہ نہیں کرے گا، معیشت کرے گی۔




