Columnمحمد مبشر انوار

مرحلہ وار جنگ

مرحلہ وار جنگ
محمد مبشر انوار
جنگ میں اترنے کے لئے صرف ساکھ اور اعتماد کافی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلحہ کے بڑے ذخائر بشرطیکہ وہ واقعتا وقت کے مطابق نہ ہوں بلکہ مخالف کی حیثیت و عسکری استعداد کی مستند معلومات سب سے زیادہ ضروری اور اہم ہوتی ہے، ان میں کسی قسم کی غلطی کا گنجائش کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑتا ہے جبکہ آنے والی نسلیں بھی اس کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ جارحیت کا یہ اصول مسلمہ ہے البتہ اس میں ایک استثنیٰ ہمیشہ سے رہا ہے کہ جنگیں اسلحہ سے نہیں بلکہ جذبہ سے جیتی جاتی ہیں اور اگر جذبہ موجود ہو تو عددی یا اسلحہ کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، انسانی تاریخ میں اس کا بارہا مشاہدہ کیا گیا ہے بالخصوص بعد از اسلام، مسلمان بالعموم عددی کمی کا شکار رہے ہیں لیکن میدان جنگ میں جذبہ ایمانی سے کامیاب و کامران رہے ہیں۔ انقلاب ایران کے بعد، امریکہ نے ایران پر مسلسل دباؤ رکھا ہے اور اس دوران ایران مختلف پابندیوں کا شکار رہا ہے لیکن اس کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں سے اعراض نہیں برتا بلکہ بہت حد تک مسلمانوں کی حمایت میں بھی بروئے کار آتا رہا ہے، جسے عالمی برادری یا خطے کے دیگر مسلم ممالک پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ اعتراض یہ رہا کہ ایران نے خطے میں اپنی پراکسیز بنا کر دیگر ممالک میں مسلک کی بنیاد پر ،اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کی ہے،بہرحال اس اعتراض و اختلاف میں بھی کسی حد تک غیر مسلم ممالک کا ہاتھ رہا ہے اور اب بھی ہے ،جو نہیں چاہتے کہ مسلمان ایک ہو ں اور ان کے درمیان مسلکی اختلافات کی خلیج حائل نہ رہے۔ جب تک یہ خلیج حائل ہے،مسلم ایک دوسرے سے ہی برسرپیکاررہیں گے اور متحد نہ ہونے کے باعث غیر مسلم ممالک نہ صرف ان کے وسائل کو بآسانی ہڑپ کرتے رہیں گے بلکہ خود کو محفوظ بھی تصور کریں گے۔ یہ الگ بات کہ ایسی ریشہ دوانیاں ہمیشہ کے لئے کام نہیں کرتی اور کسی نہ کسی موڑ پر ،بہرحال ختم ہو جاتی ہیں ، ایسے فروعی مسائل پس پردہ چلے جاتے ہیں اور بھائی بھائی دوبارہ مل جاتے ہیں۔ ایران پر حالیہ جارحیت کو اس تناظر میں بھی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے گو کہ ایران کے خطے میں دیگر ممالک کے ساتھ معاملات بہتر ہونا شروع ہو چکے تھے اور ان کو روکنے کے لئے جو دہشت گردانہ کارروائیاں کی گئی تھی،وہ اس جارحیت میں بارآور ہوتی دکھائی نہیں دی بلکہ مشرق وسطی کے مسلم ممالک پر کئے گئے فالس فلیگ آپریشن کے باوجود،مشرق وسطیٰ کے ممالک نی ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں الجھنے سے گریز کیا ماسوائے متحدہ عرب امارات۔ علاوہ ازیں ! اہم ترین پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ مشرق وسطیٰ کی ان ریاستوں نے،ان تمام تر اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے، انتہائی صائب فیصلہ کیا اور امریکہ کو ایران پر حملوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے منع کر دیا بالخصوص سعودی عرب کا موقف انتہائی واضح رہا جبکہ دیگر ریاستیں چاہنے کے باوجود امریکہ کو روک نہیں سکی اور جوابا ایران ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا رہا۔ ایران کے خلاف باقاعدہ جارحیت کی ابتداء اسرائیل نے کی جبکہ اس سے قبل بھی بے قاعدہ انداز میں ایران کو مختلف کارروائیوں کے ذریعہ اکسایا گیا مگر ایران نے اول روز سے ایک اصول قائم رکھا کہ جتنا اس پر وار کیا جائے گا، اس کا اتنا ہی جواب دیا جائیگا اور اسی ریاست یا ذمہ دار کو دیا جائیگا، اس سے زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولا اسرائیلی جارحیت کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا جبکہ بعد میں ہونے والی تمام جارحیت کی ذمہ داری امریکی رہی لہذا ایرانی جوابی کارروائی بھی خطے میں موجود امریکی اڈوں تک محدود رہی البتہ یہ ضرور ہے کہ ایران کی ان جوابی کارروائیوں سے امریکی اثاثوں کی خوب خوب تباہی ہوئی اور امریکہ کو اپنا سازو سامان سمیٹ کر اردن لے جانا پڑا۔ امریکہ اس وقت عالمی طاقت تو ہے مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ ایران پر جارحیت سے قبل، ایران کی عسکری و دفاعی صلاحیت کا مکمل ادراک نہیں کر سکا، اس کو ملنے والی معلومات ناقص دکھائی دے رہی ہیں کہ ایک طرف امریکہ ایرانی جوہری صلاحیت کے درپے ہے تو دوسری طرف امریکہ کو یہ بھی علم نہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت کس حد تک ہے؟ امریکہ اپنے تئیں یہی سمجھتا رہا ہے کہ ایران دہائیوں سے پابندیوں کا شکار ہے،اس لئے ایران کی عسکری و دفاعی صلاحیتیں امریکی ٹیکنالوجی کا کسی بھی طور مقابلہ نہیں کر سکتی اور امریکہ ،ایران کو چند روز میں ہی زیر کر لے گامگر تاحال یہ امریکہ کی خام خیالی ہی ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ کو اپنی جس ٹیکنالوجی پر ناز تھا، زعم تھا، ایران نے اس ٹیکنالوجی کا بری طرح بھرکس نکال دیا ہے ،بالخصوص امریکی دفاعی نظام کی بری طرح دھجیاں بکھیری ہیں جس کے بل بوتے پر اسرائیل کی اکڑ بھی نکل چکی ہے اور پہلے حملے کے بعد اسرائیل براہ راست ایران کے ساتھ سینگ پھنسانے سے گریزاں ہے یا اسے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کو دہائیوں سے اپنی فضائیہ کی کمی کا سامنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث،ایران جدید ترین لڑاکا طیارے حاصل نہیں کر سکا البتہ اس کو میسر پرانے طیارے ہی کسی حد تک کام میں لائے جارہے ہیں ،اسی طرح نیوی میں بھی ایران کسی بھی صورت امریکہ کے ہم پلہ قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود ،ابتدائی چالیس روزہ جنگ میں ایران نے نہ صرف اپنی سرزمین کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ خطے میں موجود امریکی اڈوں ،ان پر موجود امریکی اسلحہ و سازوسامان کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بناکر امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ دورجدید میں جنگ کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل چکا ہے اور بالعموم دشمن پر حملوں کا زیادہ تر انحصار فضائی حملوں پر کیا جاتا ہے،امریکہ کی فضائیہ اس حوالے سے جدید ترین تصور کی جاتی ہے کہ اس کے پاس جو فضائیہ ہے،وہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین ہے اور امریکہ کو اس پر بہت ناز بھی ہے کہ ایران کے پاس فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے، لہذا امریکہ غالبا سمجھتا تھا کہ وہ بآسانی ایران پر بمباری کرکے،اسے ملیا میٹ کر دے گا،گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا مگر امریکہ کو ایران کی تبدیل شدہ دفاعی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑ،جس نے ایرانی فضائیہ کی عدم موجودگی کو بھرپور طریقے سے پورا کیا ہے۔ ایران کی جوابی حکمت عملی میں سستے مگر موثر ڈرونز نے امریکہ کے بیش قیمت دفاعی نظام کے حصار کا ذخیرہ دفاع میں استعمال کروا کے،اس وقت امریکی جنرلز کو ہاتھ اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ اسرائیل کی بجائے،امریکہ پہلے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے اپنے انتہائی موثردفاعی نظام کے ساتھ،امریکی فضائیہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے جو پرزے ہواؤں میں اڑائے ہیں،اس نے امریکی زعم کو پاش پاش کر رکھا ہے،ایرانی حملوں نے کئی امریکی اڈوں پر کھڑے جدید ترین جنگی طیاروں کو ناکام کردیا ہے حتی کہ جاسوسی کرنے والے اواکس طیارے بھی ایران کے حملوں میں محفوظ نہیں رہے،جنگی طیاروں میں ایف پندرہ،ایف اٹھارہ،ایف پینتیس( بری طرح سے برباد ہوئے ہیں)،تھاڈ ،پیٹریاٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور سب سے بڑھ کر جس پر امریکہ کو سب سے زیادہ ناز رہا ہے ایم کیو 9ریپر ڈرون،جو انتہائی بلندی پر پرواز کرنے کے قابل سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ڈرون ،اس جنگ میں سب سے زیادہ تبا ہ ہوا ہے،جس کی تعداد تقریبا چالیس کے قریب بتائی جارہی ہے،امریکی غرور کو پاش پاش کرچکا ہے۔ نیوی کی بات کی جائے تو وہاں بھی ایران کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کہ امریکی بحری بیڑے،آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے کترا رہے ہیں اور سینٹ کام اپنی عزت بچانے کی خاطر ،آبنائے ہرمز سے باہر ناکہ بندی کئے بیٹھی ہے،جبکہ اصل ناکہ بندی ایران آبنائے ہرمز میں کئے بیٹھا ہے کہ جہاں امریکی جہاز تو دور کی بات،کسی بھی ملک کا کوئی بھی جہاز ایران کی اجازت کے بغیر،ایران کے طے کردہ راستے کے علاوہ آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا۔
اس وقت بھی جنگ ،دوسرے مرحلے کے بعد،تادم تحریر موقوف ہے اور ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ایران کو سخت وارننگ دے کر، اسے ایک ایسے معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو ایران میدان میں حاصل کامیابی کو مذاکرات کی میز پر گنوانے کے لئے تیار نہیں البتہ اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے اور امن کو موقع دینے کے لئے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ ،پہلی جنگ بندی کے بعد غالبا چوتھی مرتبہ ایران کو یہ وارننگ دے چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ، یہ باور کروانا بھی نہیں بھولتے کہ ہر مرتبہ مذاکرات کی درخواست ایران کی جانب سے کی جاتی ہے جبکہ حقیقت کیا ہے، وہ پہلی جنگ بندی کی خاطر شہباز شریف کے پہلے ایکس پیغام سے واضح ہو چکی ہے اور بعد ازاں بھی گمان یہی ہے کہ ہر مرتبہ جنگ سے گریز کے لئے صدر ٹرمپ کسی نہ کسی کا کندھا استعمال کر رہے ہیں۔ بہرحال اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تمام تر امریکی ناکامیوں کے باوجود، ابھی بھی صدر ٹرمپ بین السطور جس تباہ کن کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں، وہ ایران کے توانائی یا انفراسٹرکچر کی تباہی تک محدود نہیں بلکہ ٹرمپ آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے لیکن اس کا انجام بھی ضروری نہیں کہ امریکی خواہشات کے مطابق ہو، بہرحال مرحلہ وار جاری یہ جنگ بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ کسی منطقی انجام تک پہنچے بغیر ٹلتی دکھائی نہیں دیتی ۔

جواب دیں

Back to top button