Column

گاڑی ٹھیک ہے مکینک بدلو

سیدہ عنبرین
گاڑی ٹھیک ہے مکینک بدلو
ملک کے طول و عرض میں ہا ہا کار مچی ہے، سسٹم فیل ہو گیا، ناکارہ ہو گیا، نظام گل سڑ گیا ہے، سب مل کر بیٹھیں اور نئے نظام پر رضامند ہوں ورنہ ورنہ۔۔۔۔۔ جی بالکل وہی جو پیغام بر نے بین السطور کہا ہے یا بین الخطاب فرمایا ہے یعنی نئے صوبے اور نئی ترامیم۔ براہ کرم اختلاف کی اجازت دیجئے، لیکن بنا تیوری چڑھائے، بغیر آنکھیں لال کئے، اور منہ میں بنتے ہوئے جھاگ کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے۔ چین ہو یا جاپان ، زمانے، وقت اور صارفین کی ضرورت کے مطابق ایک گاڑی تیار کرتا ہے، اور دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بھیجتا ہے، گاڑی کے ساتھ دیئے گئے ہدایت نامہ میں بتایا جاتا ہے کہ اتنے ہزار کلومیٹر کے بعد آپ نے انجن آئل تبدیل کرنا ہے، اتنے کلومیٹر کے بعد آئل فلٹر اور ایئر فلٹر بدلنا ہے، انجن میں کولنٹ ڈالنا ہے، اور ٹائروں میں ہوا کتنی رکھنی ہے۔ ہم ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے، اور شکایت کرتے ہیں کہ انجن گرم ہو جاتا ہے، گاڑی کی پک نہیں ہے، ہم گاڑی کا تیل، پانی اور ٹائروں کی ہوا چیک نہیں کرتے، کوئی پرزہ درست کام نہ کر رہا ہو تو اسے بروقت تبدیل نہیں کرتے، بلکہ اسے وقت دیتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ خود بخود ٹھیک ہوجائے، تو جناب خود بخود کچھ ٹھیک نہیں ہوتا ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ پس دنیا میں اپنی پرفارمنس کے جھنڈے گاڑتی ہوئی گاڑ ی کو اپنی نالائقیوں کے ہاتھوں برباد کر کے کہنا کہ گاڑی ہی بے کار ہے، اسے پرے پھینکو، اور نئی لائو، یہ رویہ، یہ سوچ درست نہیں، ہم نصف درجن گاڑیاں بدل چکے ہیں۔ گاڑی سرکار کے پیسے سے نہیں آئی، اور رشوت کی کمائی سے نہیں خریدی گئی، رزق حلال سے خریدی گئی ہے، تو آپ اس کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتے ہیں، اسے کسی خرابی کی صورت اناڑی مستری، میکینک کے پاس نہیں لے جاتے، گاڑی ٹھیک کرانے کے لیے ترکھان یا درزی کے پاس بھی نہیں جاتے، اسے اچھے انجینئر، اچھے میکینک کے پاس ہی لے جاتے ہیں، وہ گاڑی کا نقص ٹھیک کر دیتا ہے۔ گاڑی چلتی رہتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی کل آبادی سات کروڑ کے قریب تھی۔1965ء میں یہ دس کروڑ ہو گئی۔1970ء میں بارہ کروڑ ہو گئی۔ پاکستان کے دو صوبے تھے، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان ہر صوبے کا ایک گورنر تھا، عمل داری کا علاقہ کراچی سے پشاور تک تھا۔ گورنر ملک امیر محمد خان اور بعد میں آنے والے گورنر جنرل موسیٰ آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے، ہفتے میں تین روز صوبائی دارالحکومت میں بیٹھتے اور تین روز صوبے کے مختلف علاقوں کے دورے پر نظر آتے، جہاں جاتے وہاں کی انتظامیہ پنجوں کے بل بھاگتی دوڑتی اور حساب دیتی نظر آتی۔ لا اینڈ آرڈر مثال تھا، رشوت نہ ہونے کے برابر تھی۔ راشی اور مرتشی کانپتے نظر آتے تھے، جب پکڑے جاتے تو صرف معطل نہ کئے جاتے نشان عبرت بنا دئیے جاتے۔1960ء سے لیکر1970ء تک کا دور جنہوں نے دیکھا ہے، ان سے پوچھئے، وہ بتائیں گے یہ ریاضت شرافت کا زمانہ تھا۔ اہل پاکستان کی عزتیں اور امانتیں محفوظ تھیں۔ پھر زوال شروع ہوتا ہے، اور آئندہ پندرہ برس میں یہ زوال اپنے نکتہ کمال تک جا پہنچتا ہے۔ عیاشی، بدمعاشی، فحاشی، بددیانتی اپنی جڑیں مضبوط کرتی گئی، جنہوں نے اسے روکنا تھا وہ ان درختوں کی آبپاری کرنے لگے، اور ان کی چھائوں میں بیٹھ کر ان کے پھل کھانے لگے۔ زیادہ پرانی بات نہیں، وکی لیکس آئیں، سیکڑوں تاجروں، کاروباری افراد، سیاستدانوں، کالے کوٹوں، کالے کیمروں اور کالے جوتوں والوں کے نام تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا یہ اربوں ڈالر، یہ جائیدادیں کہاں سے آئیں۔ پھر دبئی لیکس آئیں، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا، نظام میں سزا موجود تھی، نظام رکاوٹ نہیں تھا، نظام کو چلانے والے کل پرزے راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔
بوریوالہ بائی پاس پر ایک کار میں سفر کے دوران انہیں ڈاکو سمجھ کر ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ کار میں سوار خاندان بچوں سمیت مار اگیا۔ سب بے گناہ تھے، لیکن انہیں ڈاکو ثابت کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، خون ناحق چھپایا نہ جا سکا، وہ بول اٹھا، نظام میں قاتلوں کی سزا موجود تھی، نظام مزاحم نہ تھا، نظام کے کل پرزے مظلوم کو انصاف دلانے کی بجائے انصاف کے راستے میں حائل ہو گئے۔ ریمنڈ ڈیوس نامی دہشت گرد تین افراد کو قتل کرنے کے بعد پکڑا گیا، ہم نے دیکھا نظام میں اسے سزائے موت ہو سکتی تھی، نظام کے کل پرزے اسے بچا لے گئے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد سے لاہور تک سب نے کردار ادا کیا۔ عافیہ صدیقی نہ بچ سکی۔ چند روز کی قید میں ریمنڈ ڈیوس نے کہا قریبی مسجد سے فجر کے وقت ہونے والی اذان میری نیند خراب کرتی ہے۔ نظام کے کل پرزوں نے اس کے آرام کی خاطر لائوڈ سپیکر بند کرا دیئے۔ جاری زمانے کا مشہور واقعہ، سولر پینلز کی امپورٹ میں سات سو ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی، ملک کے تین بڑے بینک اور درجن بھر فرضی کمپنیاں ملوث نکلیں۔ بینکوں کے صدور قائمہ کمیٹی میں طلب کئے گئے۔ تین بینکوں کو صرف نو کروڑ جرمانہ کرنے کے بعد مزید وارداتوں کیلئے موقع دے دیا گیا۔ یہ نظام نے نہیں کیا، نظام کے کل پرزوں نے کیا۔ اس ملک کو جن چار طبقات نے جی بھر کے لوٹا اور تباہ کیا ہے، ان میں کاروباری طبقہ سر فہرست ہے۔ اندازہ کیجئے پاکستان کے کل ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ان آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی جاتی رہی ہیں، جنہوں نے نہ بجلی بنائی، نہ عوام نے خریدی، لیکن برسوں سے کی جانے والی ادائیگیاں کئی ہزار ارب روپے کی ہو چکی ہیں، سلسلہ تاحال جاری ہے۔
پاکستانیوں کا لہو یو اے ای کے بینکوں میں پہنچ گیا۔ محتاط اندازے کے مطابق یہ بائیس ارب ڈالر ہیں۔ نظام کے کل پرزے انہیں بارہ ارب ڈالر بتاتے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے سینئر ترین افسروں سے ایک شخص 26ارب ڈالر لوٹ کر پرتگال چلا گیا، سب جانتے ہیں اس حمام میں کون کون ننگا ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کہاں سے آئے تھے، یہ جھمکے کون لایا تھا یہ جھمکے، کس کس کی ملکیت ہیں یہ جھمکے۔ عام آدمی اپنی تنخواہ میں پانچ مرلے کا ایک پلاٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ سرکار کے یہاں سینئر افسروں کیلئے پلاٹوں کی لوٹ سیل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ پندرہ لاکھ تنخواہ پانے والا دس برس بعد ریٹائر ہو کر تنخواہ کے برابر پنشن اور مراعات لے رہا ہے، جبکہ بیوائوں کی پنشن بند کرنے میں روحانی سکون تلاش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں رائج نظام دنیا بھر میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ گاڑی ٹھیک ہے میکینک بدلو۔ گاڑی بدل کر پھر انہی میکینکوں کے حوالے کرنا ہے تو پھر انجام نوشتہ دیوار ہے ۔

جواب دیں

Back to top button