ColumnImtiaz Aasi

دو جماعتوں کا امتحان

دو جماعتوں کا امتحان
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی گومگو کی کیفیت میں ہیں، انہیں سمجھ نہیں آرہا وہ نئے صوبوں کے قیام کے مسئلے سے کس طرح عہدہ بَر آ ہوں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے تو کہا ہے ان کی جماعت نئے صوبوں بارے بہت جلد پالیسی بیان جاری کرے گی جب کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے البتہ دو وفاقی وزراء نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کر دیا ہے جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رضا ہراج نے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رضا ہراج کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے لہذا جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی عرصہ دراز سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ جہاں تک سردار محمد یوسف کی بات ہے وہ صوبہ ہزارہ کی جدوجہد میں پہلے سے بہت سرگرم ہیں، لہذا انہوں نے بھی نئے صوبوں کے قیام پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے نئے صوبوں کے قیام کے لئے چند روز قبل جو بیان دیا ہے دراصل وہ سیاسی جماعتوں کا نئے صوبوں کے قیام بارے ردعمل دیکھنا مقصود تھا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئی غلط بات نہیں کی ہے، ان کے کہنے کا مطلب یہی نکلتا ہے موجودہ نظام اب مزید چلنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کا جہاں تک کسی معاملے میں اسٹنڈ لینے کی بات ہے، بقول مولانا فضل الرحمان سیاست دانوں کو جنرل باجوہ نے بلا کر عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کو کہا تو ذرا دیر نہیں کی، اور چند دنوں میں لولی لنگڑی جمہوریت کا پانسہ پلٹ دیا گیا۔ موجودہ حالات میں بھی وہی کچھ ہونا ہے جو جنرل باجوہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے سیاست دانوں نے کیا تھا۔ جنرل باجوہ کے کہنے پر رجیم چینج تو ہوگیا، پھر الیکشن بھی ہوئے، اس میں جو کچھ ہوا اس کا بھانڈا کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے کھول دیا۔ عوام کے مینڈیٹ کے بغیر اقتدار میں آنے والی حکومتوں کا یہی کچھ حال ہوتا ہے جو موجودہ حکومت کا ہے۔ حکومت کی ڈوری کسی اور کے ہاتھوں میں ہے، بس ڈگڈگی کے آگے ناچنے والی بات ہے۔ حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اسی بات سے کیا جا سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان ڈیرہ اسماعیل خان سے میانوالی کارکنوں کے ہمراہ اپنے والد کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے آرہی تھیں کہ پولیس نے انہیں روک لیا۔ پولیس کا یہی کہنا تھا ان کی مجبوری ہے واپس چلے جائیں، جس پر علمیہ باجی نے انہیں کارکنوں کو رہا کرنے کی شرط پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی۔ مجھے نہیں لگتا نئے صوبوں کے قیام میں سندھ اور پنجاب کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا قلعہ سمجھنے والے لیت و لعل کریں گے، بلکہ اسی تنخواہ پر کام جاری رکھیں گے۔ اگر ہم ماضی کی طرف جائیں تو ون یونٹ کے زمانے میں بلوچستان کے لوگوں کو اپنے مسائل کے لئے مغربی پاکستان کے دارالحکومت کراچی جانا پڑتا تھا۔ اب بھی کچھ ایسی صورتحال ہے، روجھان سے کسی کو کوئی کام ہو گا تو اسے لاہور جانا پڑے گا۔ ہم نہیں سمجھتے بڑھتی ہوئی آبادی کے دور میں غریب عوام کو اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے طویل مسافت طے کرنی چاہیے، بلکہ یہ کام قریب سے قریب تر شہروں میں ہونے چاہئیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں کے پی کے اور بلوچستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو انسان سر پکڑ کر بیٹھ جائے، لیکن حکومت اپنی کامیابیوں گن گا رہی ہے۔ شائد حکومت کے نزدیک بڑے بڑے پل اور میٹرو بس چلانا ہی حکومت کی کامیابی ہے، تو اس طرح تو عمران خان نے بھی صحت کارڈ کا اجراء کیا تھا۔ کوئی حکومت اسی وقت کامیاب قرار دی جا سکتی ہے جب اس کی معاشی پالیسیوں کو پذیرائی ملے، مگر یہاں تو باوا آدم نرالا ہے، بس قرض کی مے لینے والی بات رہ گئی ہے۔ چین اور سعودی عرب سے پیسے لے کر متحدہ عرب امارات کو دینے پڑے۔ وفاقی وزیر بجلی کے بیان سے دکھ ہوا ہے، آئی ایم ایف بجلی سستی کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ جو ملک اس حالت میں پہنچ جائیں ان کے معاشی حالات پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ آخر ہمارا ملک کب قرضوں کے چنگل سے آزاد ہوگا۔ ایک زمانے میں بڑے بڑے جاگیردار اور سردار پارلیمنٹ میں پہنچنے کو بڑا اعزاز سمجھتے تھے، لیکن اب پارلیمنٹ میں پہنچنے والے زیادہ سے زیادہ یومیہ الائونس اور مراعات کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوام کی خوش حالی کے لئے کون سی قانون سازی کی ہے، ماسوائے لوگوں کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے کے حکومت نے کیا بھی کیا ہے؟۔ سچ تو یہ ہے موجودہ حکمرانوں نے غریب عوام کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ بعض حکومتی ارکان موقع کو غنیمت جانتے ہوئے رہائشی علاقوں میں بڑے بڑے پلازے اور شاپنگ سینٹر بنوا کر مبینہ طور پر مال پانی جمع کر رہے ہیں، جیسے یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ رہائشی علاقوں میں شاپنگ سینٹروں نے شہریوں کو جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ خواتین اور بزرگ شہریوں کو گزرنے کے لئے راستہ میسر نہیں ہے۔ ایک طرف جہاز خریدے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں سینیٹری ورکرز کو ماہانہ تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ حکومت کے نزدیک شائد اسی کو کامیابی کہا جاتا ہے۔
ہم بات کر رہے تھے دو جماعتوں کے امتحان کی، اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے وہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں تو بوریا بسترا بھی گول کرنا پڑے گا، اور اگر حمایت کرتے ہیں تو ان کے قلعے زمین بوس ہونے کا قومی امکان ہے۔ حالات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے دونوں جماعتیں اسی تنخواہ پر کام جاری رکھیں گی، ورنہ پھر تمہاری داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں والی بات یاد رکھنی چاہیے۔
آخر میں اس ناچیز کے خیال میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ملک اور عوام کے مفاد میں کام کرنا چاہیے۔ دیکھتے ہیں دونوں جماعتیں اس امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button