
جگائے گا کون؟
عوام کے لئے، تمنائوں کے سوا کچھ بھی نہیں
تحریر: سی ایم رضوان
عظیم شاعر جون ایلیا کی ایک مشہور نظم کے دو شعر موجودہ قومی صورتحال کے عکاس ہیں کہ
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں۔۔۔
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔
ان سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیسی۔۔۔
جن کی محفل میں تمنائوں کے سوا کچھ بھی نہیں
یعنی پاکستان کے حکمرانوں اور اشرافیہ کی ظاہری تمنا عوام کی زندگی سنوارنے کے خوابوں پر مشتمل ہے لیکن ان سے شکایت بے معنی ہے کہ اس حوالے سے ان کے تمام دعوے اور پروگرام محض تمنائوں اور خوابوں کی حد تک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اب چھوٹے صوبوں کی تشکیل کے شیخ چلی کی طرح کے خواب بیان کر کے عوام کی زندگی میں انقلاب لانے کی تمنا ظاہر کی جا رہی ہے جبکہ عام پاکستانی کی زندگی میں تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پاکستانی سیاست میں جب بھی کوئی حقیقی طور پر سنگین بحران جنم لیتا ہے یا حد سے بڑھ جانے والے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہوتی ہے، تو ایک پرانا اور آزمایا ہوا کارڈ دوبارہ بحث کی میز پر پھینک دیا جاتا ہے یعنی چھوٹے صوبوں کے قیام کا نعرہ، آج کل بھی ملک بھر میں ایک بار پھر یہ شور ہے جس کی ابتدا ایک ایسے وزیر کے بیان سے کی گئی جس کو موجودہ پاور سسٹم کا مین سوئچ سمجھا جاتا ہے تبھی تو جنوبی پنجاب، ہزارہ، کراچی اور بلوچستان کی تقسیم کے چرچے یوں ہیں جیسے نئے صوبے بس بننے ہی والے ہیں۔ سیاستدان جلسوں اور ٹاک شوز میں اس طرح مرے جا رہے ہیں جیسے عوام کا درد انہی کے سینے میں سمو گیا ہو، لیکن اس پورے ڈرامے کا سب سے دلچسپ پہلو وہ بامعنی خاموشی ہے جو طاقتور حلقوں میں ہے۔ حالانکہ اس تمام شور شرابے کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ اس معاملے میں ہونا کچھ بھی نہیں ہے۔ البتہ چھوٹے صوبوں کا یہ بے مقصد شور سیاستدانوں کی ایک ایسی سیاسی دکان ہے جو زوال کے وقت خوب چمکتی ہے۔ جیسا کہ ہر الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب سے ووٹ لینے کا آسان ترین ذریعہ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ اور نعرہ ہے۔ جہاں دہائیوں سے ووٹر کو یہ دلاسہ دیا جا رہا ہے، مگر جب بھی حکومت بن جاتی ہے، یہی جماعتیں اور سیاست دان جنوبی پنجاب سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو طاق پر رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ اسی طرح کراچی اور سندھ میں کھیل کھیلا جاتا ہے۔ کراچی کو الگ صوبہ بنانے یا انتظامی یونٹ میں بدلنے کی باتیں صرف سندھی اور مہاجر کارڈ کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام اہم سیاسی جماعتیں اندرونی طور پر سٹیٹس کو یعنی جمود کی حامی ہیں۔ پنجاب کو تقسیم کرنے سے مرکز میں لاہور کی بادشاہت ختم ہوتی ہے، جبکہ سندھ کو تقسیم کرنے سے سندھ کارڈ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، سیاستدان صرف بیانات کی حد تک ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، عملی پیش رفت کی نیت کسی کی نہیں ہوتی اور عملی پیش رفت ہو بھی نہیں رہی ہوتی۔
اس تمام تر ہنگامے میں سب سے اہم کردار ان طاقتور حلقوں کا ہوتا ہے جو ملک کی سمت متعین کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی موجودہ خاموشی کو دو تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ہو سکتا ہے یہ خاموشی ملک میں انتظامی و سیاسی عدم استحکام کے خوف کی وجہ سے ہو کیونکہ نئے صوبوں کی تشکیل کا مطلب ہے ملک کے آئینی و معاشی ڈھانچے کو نئے سرے سے بنانا۔ وسائل کی تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، سرحدوں کا تعین اور بیوروکریسی کی دوبارہ تقسیم ایک ایسا پنڈورا بکس کھول دے گی جسے سنبھالنا اس وقت کی نڈھال معیشت کے بس میں نہیں۔ خاموشی کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید طاقتور حلقے اس شور کو ایک ’’ پریشر ریلیز والو‘‘ کے طور پر استعمال ہونے میں معاون سمجھ کر خاموش ہوں اور تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہوں کہ جب تک سیاستدان اور عوام صوبوں کے نام پر آپس میں الجھے رہیں گے، تب تک ملک کے حقیقی، انتظامی اور معاشی مسائل پر متفقہ عوامی سوالات قائم نہیں ہو سکیں گے۔ اس کے برعکس بھی غور کر لیتے ہیں کہ فرض کریں اگر تمام سیاسی دھڑے اور سٹیک ہولڈرز نئے صوبے بنانے پر رضامند ہو بھی جائیں، تو کیا یہ ممکن ہے؟ دیانتدارانہ جواب تو یہی ہے کہ ’ نہیں‘۔ کیونکہ اس معاملے میں لاتعداد آئینی پیچیدگیاں ہیں۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے نہ صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری بھی لازمی ہے۔ کیا پنجاب اسمبلی اپنے اختیارات اور وسائل تقسیم کرنے پر کبھی رضامند ہوگی؟ کیا سندھ اسمبلی کراچی یا نواب شاہ کی تقسیم کا بل پاس ہونے دے گی؟ ہرگز نہیں۔
اس وقت جو سب سے خوفناک حقیقت ہے کہ ملک جن معاشی حالات سے گزر رہا ہے، ان میں نئے صوبوں کے لئے نئے گورنر ہائوسز، وزرائے اعلیٰ کی فوج، سیکرٹریٹ اور بیوروکریسی کا خرچہ اٹھانا خودکشی کے مترادف ہے لیکن افسوس کہ ان سیاست دانوں کے تعاون سے ایک ایسا تماشہ جاری ہے جو بالآخر ان کا تماشا بنا دے کیونکہ عوام تو اب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن یہ اشرافیہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں چھوٹے صوبوں کی بحث ایک ایسا دائمی ڈرامہ ہے جس کا کوئی ڈراپ سین نہیں، اس شور کو زندہ رکھ کر اپنی سیاست چمکانے کی ناکام اور عارضی کوشش کر رہے ہیں، صرف اس نیت سے کہ جتنی دیر تک بھی یہ ڈگڈگی بجائی جا سکتی ہے بجا لیتے جب حالات خراب ہوئے تو باہر بھاگ جائیں گے۔ لہٰذا عوام کو اب یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ مسئلہ صوبوں کے چھوٹے یا بڑے ہونے کا نہیں، بلکہ حکمرانی اور نیت کا ہے۔ اگر نیت صاف نہ ہو تو سائز میں چھوٹا صوبہ بھی تباہی کا شکار رہتا ہے، جیسے کہ ہم آزاد کشمیر کو دیکھ رہے ہیں۔
ملک کا عام شہری جب بھی ماضی کی طرف دیکھتا ہے تو اسے یہی احساس ہوتا ہے کہ حکمران طبقے کی ترجیحات میں کبھی بھی عام عوام کی فلاح و بہبود شامل نہیں رہی، اور نہ ہی موجودہ ’’ چھوٹے صوبوں‘‘ کا بیانیہ اس صورتِ حال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی 77سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اختیارات، بجٹ یا وسائل کی بات ہوئی، تو وہ عوامی سطح تک پہنچنے کے بجائے صرف حکمران طبقے کے اپنے مفادات کی نذر ہو گئے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف جیسے بنیادی حقوق دہائیوں سے پسِ پشت ہیں۔ جب بھی ترقیاتی منصوبے بنے، ان کا رخ مخصوص طبقات کی طرف رہا۔ سابقہ تاریخ میں کبھی بھی اگر حکمران طبقہ واقعی عام عوام کو بااختیار بنانا چاہتا، تو وہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کرتا، مگر مرکزی اور صوبائی حکمرانوں نے ہمیشہ اختیارات اور وسائل پر اپنا ہی قبضہ رکھا۔
سوال وہی آ جاتا ہے کہ کیا نیا صوبہ بننے سے مریخ سے نئے حکمران آئیں گے۔ وہی پرانے سیاستدان، خان، وڈیرے اور الیکٹبلز جو پہلے لاہور، کراچی یا پشاور میں بیٹھ کر مقتدرہ سے سودے بازی کرتے تھے، اب نئے صوبائی دارالحکومت میں بیٹھ کر اپنے ذاتی مفادات سمیٹیں گے۔ نڈھال معیشت کے اس دور میں جب عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے، نئے صوبوں کی بیوروکریسی کا شاہانہ خرچہ اٹھانا کس کا کام ہوگا۔ ظاہر ہے اسی غریب عوام کا، جن کے نام پر یہ پورا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ آج ایک حکمران طبقہ عوام کو یہ مغالطہ دے رہا ہے کہ صوبہ بڑا ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں ہو پا رہی۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا ہے۔ کیا وہاں آبادی کم ہونے یا انتظامی سائز کی وجہ سے عام آدمی کو سکول، ہسپتال یا صاف پانی مل گیا۔ سندھ اور پنجاب کے بڑے شہروں کی بات چھوڑیں، کیا چھوٹے اضلاع میں اشرافیہ نے بہترین گڈ گورننس کی مثال قائم کی۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صوبے کے سائز کا نہیں، بلکہ حکمرانی کے ماڈل اور حکمران طبقے کی نیت کا ہے۔ اگر نیت میں کھوٹ ہو تو 4صوبوں کے 40صوبے بھی بنا دیے جائیں، عام آدمی کے حالات بدتر ہی رہیں گے۔ لہٰذا اصل حل نیک نیتی ہے جس کا ہمارے ہاں قحط ہے۔
نئے چھوٹے صوبوں کے شور میں الجھنے کی بجائے عوام کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ نعرہ صرف ایک سیاسی پریشر ریلیز والو ہے جو عوام کی توجہ حقیقی سوالات یعنی بدعنوانی، اشرافیہ کی مراعات اور بے اختیار بلدیہ سے ہٹانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ہونہار صحافی کم سیاستدانوں کو اگر واقعی اس ملک اور عوام کی تقدیر بدلنا ہے تو آئین کی ترمیم کے ذریعے نئے گورنر ہائوسز بنانے کے بجائے آئین کے آرٹیکل 140۔Aپر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے بااختیار، خودمختار اور مالی طور پر مضبوط بلدیاتی نظام قائم کریں۔
بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے موجودہ شور کو صوبوں کے وسائل میں کمی کے لئے راستہ ہموار کئے جانے کا ایک حربہ کہا جا رہا ہے حالانکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 160(3A)کے تحت یہ طے شدہ ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ گزشتہ ( ساتویں) ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا این ایف سی کو بالکل ختم کرنے یا صوبائی حصوں کو یکطرفہ طور پر گھٹانے کے لئے آئین میں ترمیم درکار ہو گی، جس کے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور صوبوں کی منظوری لازمی ہے جو فی الوقت کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ چھوٹے صوبے ( خاص طور پر سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا) نیز وفاق پسند اور علاقائی جماعتیں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں ترمیم کو صوبائی خود مختاری کا ضامن سمجھتی ہیں۔ پی پی پی اور دیگر علاقائی قیادتیں کھلم کھلا کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتی رہی ہیں جو صوبائی مالیاتی اختیارات پر اثر انداز ہو۔ اس لئے پس پردہ کامل اتفاقِ رائے کی بات سیاسی اور عملداری کے لحاظ سے حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہے۔ البتہ اصل تنازع مالیاتی عدم توازن ہے این ایف سی کا مکمل خاتمہ نہیں، لیکن وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم پر سنگین بحث اور دبائو ضرور موجود ہے۔ قابلِ تقسیم پول سے قریباً 57.5فیصد صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد وفاق کے پاس قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات پورا کرنے کے لئے کافی رقم نہیں بچتی۔ وفاقی حکام کے مطابق آئینی طور پر صوبوں کے مجموعی حصے ( عمودی تقسیم) کو چیلنج نہیں کیا جا رہا، بلکہ افقی تقسیم ( صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے فارمولے) اور ترقیاتی منصوبوں میں مالیاتی شراکت داری پر نظرِ ثانی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وفاق کا موقف ہے کہ صوبے اپنے ٹیکس نیٹ ( زرعی انکم ٹیکس اور پراپرٹی) کو نہیں بڑھا رہے، جبکہ صوبوں کا کہنا ہے کہ وفاق اپنے اخراجات میں کمی لانے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم وفاق کی جانب سے مالیاتی ذمہ داریوں کی دوبارہ تقسیم کے لئے دبا اور مذاکرات کا سلسلہ ضرور جاری ہے۔ این ایف سی کو یکسر ختم کرنا نہ صرف آئینی طور پر مشکل ہے بلکہ وفاق کی یکجہتی کے لئے بھی پرخطر ہو سکتا ہے لہٰذا موجودہ مالیاتی بحران کا حل صوبوں کے این ایف سی حصے میں ترمیم نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں دونوں کو اپنے ٹیکس وصولی کے نظام اور اخراجات پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔




