غزہ کے شعلوں میں ’’ میڈ اِن انڈیا‘‘

غزہ کے شعلوں میں ’’ میڈ اِن انڈیا‘‘
قادر خان یوسف زئی
کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں رہتی، وہ ایک آئینہ بن جاتی ہے۔ اس آئینے میں صرف ریاستوں کے فیصلے نہیں، قوموں کا ضمیر بھی دکھائی دیتا ہے۔ غزہ کے ملبے سے اٹھتی گرد ابھی پوری طرح بیٹھی نہیں، لاشوں کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی، اور دنیا کے بڑے دارالحکومت اب بھی انسانی حقوق کا وعظ اور اسلحے کے کاروبار کو ایک ہی سانس میں نبھانے کی مشق کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی پرزہ جات کی ہزاروں کھیپوں کی خبر سامنے آتی ہے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کیا بھیجا گیا۔ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کب بھیجا گیا، کیوں بھیجا گیا، اور کس کی قیمت پر بھیجا گیا۔
یہ معاملہ اب سادہ تجارتی لین دین کے دائرے سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ اگر ایک طرف غزہ میں انسانی تباہی اپنے عروج پر ہو، بین الاقوامی عدالت انصاف نسل کشی کے ممکنہ خطرے پر تشویش ظاہر کر رہی ہو، اور دوسری طرف ایک بڑی جمہوریت خاموشی سے اسلحہ، بارودی اجزا اور جنگی پرزہ جات اسی ملک کو بھیج رہی ہو جو اس جنگ کا براہِ راست فریق ہے، تو پھر اسے صرف تجارت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اخلاق، قانون، سفارت اور انسانیت کے بیچ کھینچی گئی ایک خطرناک لکیر ہے۔ اور اس لکیر کو اب محض سیاسی بیان نہیں، دستاویزی شہادتوں نے نمایاں کر دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جولائی 2026ء میں اپنی رپورٹ’’ میڈ اِن انڈیا: اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فراہمی‘‘ میں یہ دعویٰ پوری تفصیل کے ساتھ سامنے رکھا۔ رپورٹ کے مطابق 7اکتوبر 2023ء سے 30نومبر 2025ء تک، یعنی غزہ جنگ کے سب سے خون آشام مہینوں اور برسوں میں، بھارت سے اسرائیل کو اسلحے سے متعلق کم از کم 2596الگ الگ کھیپیں بھیجی گئیں۔ یہ تعداد کسی ایک بیان، ایک افواہ یا ایک سیاسی مخالف کے الزام سے نہیں نکلی، یہ کسٹم دستاویزات، تجارتی ریکارڈ اور شپمنٹ سطح کے ڈیٹا کو چھان پھٹک کر سامنے آئی ہے۔ یوں کہیے کہ یہ محض خبر نہیں، ایک حساب ہے اور حساب جب ضمیر کے سامنے کھلتا ہے تو اس کے ہندسے محض ہندسے نہیں رہتے۔
رپورٹ میں درج اعداد و شمار چونکاتے بھی ہیں اور چونکا کر خاموش بھی کر دیتے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق ان کھیپوں میں 3لاکھ 90ہزار 516چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، 5لاکھ 64ہزار 970دھماکہ خیز مواد کے اجزا، جن میں توپ کے گولوں کے خول اور ڈرون وار ہیڈز شامل ہیں، اور 298بکتر بند فوجی گاڑیوں کے پرزے شامل تھے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تخمینہ خود ایمنسٹی کے بقول’’ محتاط‘‘ ہے۔ تنظیم نے ان اندراجات کو الگ رکھا جن پر شہری یا خالصتاً دفاعی استعمال درج تھا، یا جن کی تصدیق مکمل طور پر ممکن نہ تھی۔ یعنی جو کچھ سامنے آیا، وہ شاید پوری تصویر بھی نہیں۔ اصل حجم اس سے زیادہ ہو سکتا ہے، اور یہی پہلو اس پورے معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ کوئی بے نام، گمنام یا اندھیرے گوداموں میں ہونے والا کاروبار نہیں۔ رپورٹ میں ان بھارتی کمپنیوں کے نام بھی دئیے گئے ہیں جو ان ترسیلات میں شامل بتائی گئی ہیں۔ پی ایل آر سسٹمز، انڈو ایم آئی ایم، کلیانی سسٹمز، منیشنز انڈیا لمیٹڈ، اور الفا ایلسیک۔ ان میں سے بعض کمپنیاں اسرائیلی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں بھی کام کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وصول کنندگان میں ایلبٹ، رافیل، اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ یعنی معاملہ محض اتنا نہیں کہ ایک ملک نے دوسرے ملک کو سامان بھیج دیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک مکمل سپلائی چین موجود ہے۔ پرزہ بھارت میں تیار ہوتا ہے، اسرائیل کی دفاعی صنعت تک پہنچتا ہے، وہاں ہتھیار یا اسلحہ جاتی نظام کی شکل اختیار کرتا ہے، اور پھر اس کے استعمال کے سائے غزہ کے ملبے پر پڑتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں بھارت کی اسرائیل کو مجموعی برآمدات 2.28ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں اسلحہ اور گولہ بارود سے متعلق برآمدات قریباً 4کروڑ 84لاکھ ڈالر تھیں۔ یہ رقم شاید مجموعی تجارت کے مقابلے میں بہت بڑی نہ لگے، مگر جنگ کی معیشت میں بعض اوقات ایک چھوٹا سا پرزہ بھی ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ الجزیرہ کی تحقیق نے بھی 2024ء کی 91بھارتی کسٹم دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، جن پر ایچ ایس کوڈ 93069000درج تھا، یعنی بم، گرینیڈ، ٹارپیڈو، بارودی سرنگیں اور راکٹ۔ ان دستاویزات میں وصول کنندگان کے طور پر اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے نام درج تھے۔ یوں ایک رپورٹ کی پشت پر دوسری شہادت کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
اس تمام منظرنامے کو اگر وسیع تر پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ کہانی اچانک شروع ہوتی نظر نہیں آتی۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، یعنی سیپری، کے اعداد و شمار کے مطابق 2020ء سے 2025ء کے درمیان اسرائیل بھارت کے لیے اسلحے کی ایک بڑی منڈی بن چکا تھا۔ دوسری طرف بھارت بھی اسرائیل کے دفاعی اور عسکری تعلقات میں زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا تھا۔ 2025ء کے آخر میں دونوں ملکوں کی درمیان دفاعی تعاون کی نئی یادداشت پر دستخط اس بات کا اشارہ تھے کہ یہ رشتہ وقتی ضرورت یا ہنگامی انتظام نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی بندوبست ہے۔ اس پس منظر میں غزہ جنگ کے دوران سامنے آنے والی ترسیلات کو اگر الگ تھلگ واقعہ سمجھا جائے تو یہ سادگی ہوگی۔
ریاستیں اپنے تزویراتی مفادات کے نام پر ہر وہ سودا جائز قرار دے سکتی ہیں جس کا آخری سرا کسی اسپتال کے ملبے، کسی پناہ گزین کیمپ کی راکھ، یا کسی ماں کی خالی گود سے جا ملے؟ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 2024ء کے اوائل میں غزہ میں نسل کشی کے ممکنہ خطرے پر عبوری اقدامات کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ ایسے حالات میں اسرائیل کو اسلحہ یا اس کے اجزا کی ترسیل آرمز ٹریڈ ٹریٹی اور جنیوا کنونشنز کے تقاضوں سے ٹکرا سکتی ہے۔ ایمنسٹی کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے تو یہاں تک کہا کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل کی دانستہ اجازت دے کر بھارت نسل کشی کی روک تھام کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داری اور جنیوا کنونشنز کے احترام کے اپنے فرض سے انحراف کر رہا ہے۔ الفاظ سخت ہیں، مگر غزہ کی حقیقت ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت ہے۔
کیا کسی ڈرون کے پرزے سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ فوجی ہدف پر گرے گا یا کسی بچے کے کچے گھر پر؟ اسلحے کی تجارت میں ’’ ہمیں معلوم نہیں تھا‘‘ اب معصومانہ عذر نہیں رہا۔ جنگوں میں بعض اوقات ایک چھوٹا سا پرزہ بھی ایک بہت بڑی لاش میں بدل جاتا ہے۔ آج جو کچھ تجارت کے نام پر رجسٹروں میں درج ہو رہا ہے، کل وہی انسانیت کے حساب میں کھڑا ہوگا۔ وہاں نہ منافع کام آئے گا، نہ معاہدہ، نہ سفارتی تاویل۔ وہاں صرف ایک سوال پوچھا جائے گا۔ جب آگ لگی ہوئی تھی، تم پانی لے کر آئے تھے یا تیل؟۔





