Column

دہشت گردی کیخلاف قومی عزم کی نئی آزمائش

اداریہ۔۔۔
دہشت گردی کیخلاف قومی عزم کی نئی آزمائش
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والا خودکُش حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ اگرچہ کافی حد تک کمزور ہوچکا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس الم ناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، پولیس اہلکاروں کی شہادت اور متعدد افراد کا زخمی ہونا پوری قوم کے لیے باعثِ افسوس ہے۔ ایسے حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی اداروں کا حوصلہ توڑنا اور امن و استحکام کے ماحول کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دہشت گرد اپنے ان مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی آئندہ کامیاب ہوں گے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکُش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ اسی مزاحمت کے باعث حملہ آور نے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہوسکتا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ مستعد رہتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہیں گی اور ان کے اہلِ خانہ کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں، ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی موثر کارروائیاں جاری ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، باجوڑ، کرم، بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں مسلسل آپریشنز نے دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی مختلف کارروائیوں میں کئی دہشت گرد مارے گئے، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست اپنی ذمے داری پوری قوت اور عزم کے ساتھ نبھا رہی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اس سے قبل دہشت گردی کے ایک نہایت سنگین دور سے گزر چکا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز خودکُش حملے، دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے۔ بازار، مساجد، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات دہشت گردوں کا نشانہ بنتے تھے۔ اس کٹھن دور میں قوم نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں، لیکن سیکیورٹی فورسز، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور عوام کے مشترکہ عزم نے دہشت گردی کے اس عفریت کو بڑی حد تک شکست دی۔ یہی ماضی اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ چیلنج بھی مستقل مزاجی اور قومی اتحاد کے ذریعے شکست سے دوچار ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی طاقت سے نہیں جیتی جاتی بلکہ اس کے لیے موثر انٹیلی جنس، عوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط عدالتی نظام، سرحدی نگرانی اور قومی یکجہتی بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان نے ان تمام شعبوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، جدید نگرانی کے نظام اور بروقت کارروائیوں نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گرد کھلے عام کارروائیاں کرنے کے بجائے چھپ کر حملے کرنے پر مجبور ہیں، جو ان کی کمزوری کی علامت ہے، طاقت کی نہیں۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دہشت گرد عناصر وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے بزدلانہ حملوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے حملوں سے وقتی نقصان ضرور ہوتا ہے، مگر یہ ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ہر چیلنج کا پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا ہے اور آج بھی وہ پوری مستعدی کے ساتھ ملک دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی مسلسل کامیاب کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ اس موقع پر سیاسی قیادت، مذہبی رہنمائوں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور تمام قومی اداروں کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جدوجہد میں ہر شہری اپنا مثبت کردار ادا کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔ کبل کا افسوسناک سانحہ یقیناً قوم کے دلوں کو غم زدہ کر گیا ہے، مگر یہ سانحہ ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کے بدترین طوفان کا مقابلہ کرکے امن کی راہ ہموار کر چکا ہے۔ آج سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کامیابیاں، دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں اور قوم کا غیر متزلزل عزم اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دہشت گردی کے باقی ماندہ عناصر بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان شاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب پاکستان ایک بار پھر مکمل امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر پوری قوت کے ساتھ گامزن ہوگا اور دہشت گردی صرف تاریخ کے ایک تاریک باب کے طور پر یاد کی جائے گی۔

شذرہ۔۔۔
مون سون بارشیں: موثر اقدامات ناگزیر
مون سون بارشیں پاکستان کے لیے زندگی، زراعت اور آبی وسائل کی بحالی کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن جب یہی بارشیں مناسب منصوبہ بندی اور حفاظتی انتظامات کے بغیر برستی ہیں تو قیمتی انسانی جانوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) کی حالیہ رپورٹ اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ 26جون سے یکم اگست تک بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 126افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 404افراد زخمی ہوئے۔ یہ اعدادوشمار محض اعداد نہیں بلکہ درجنوں خاندانوں کے ایسے المیے ہیں جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں 55افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 26بچے بھی شامل ہیں۔ پنجاب میں 47افراد جان سے گئے، جن میں 19بچے شامل تھے، جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ رہی۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی جانی نقصان ہوا، جو اس امر کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پورا ملک ان کے اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں، ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں کی جانب سے امدادی سرگرمیاں قابلِ تحسین ہیں۔ پنجاب میں ریلیف کیمپوں کا قیام، ہیٹ ویو کیمپس میں طبی سہولتوں کی فراہمی اور مختلف صوبوں میں ریسکیو آپریشنز کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے اپنی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں کافی ہیں، یا ہمیں آفات سے قبل تیاری کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان شدید موسمی واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے ندی نالوں کی بروقت صفائی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، غیر محفوظ تعمیرات کی نگرانی، عوامی آگاہی، جدید پیشگی انتباہی نظام اور مقامی سطح پر ہنگامی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ وقت صرف نقصانات گننے کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنے کا ہے۔ اگر وفاق، صوبے، مقامی ادارے اور عوام مشترکہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں تو قدرتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انسانی جان کا تحفظ ہر ریاست کی اولین ذمے داری ہے اور اسی اصول کو ہر منصوبہ بندی کا محور بنایا جانا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button