ColumnImtiaz Aasi

بلوچستان: بے روزگاری ، دہشت گردی ساتھ ساتھ

بلوچستان: بے روزگاری ، دہشت گردی ساتھ ساتھ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ملک کے معرض وجود میں آنے سے اب تک بلوچستان میں جتنی حکومتیں آئیں کسی نے صوبے کے اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔ جو بھی اقتدار میں آیا اس نے فوجی آپریشن پر اکتفا کرکے صوبے کو چلانے کی کوشش کی۔ ہونا تو چاہیے تھا صوبے کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی کوشش کی جاتی تو یہ بات یقینی تھی آج جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اس کی توقع کم تھی۔ بھارت کو دہشت گردوں کی پشت پناہی تب ہی کرنا پڑی جب وہاں کے رہنے والوں کا ذریعہ معاش نہیں ہوگا تو ان کا بے راہ روی کا شکار ہونا قدرتی امر ہے۔ جس صوبے کے رہنے والوں کو روزگار اور پینے کا پانی میسر نہیں ان کا غلط راستے پر چلنا یقینی امر ہے۔ مجھے پہلی بار 1998ء میں بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے جب کہ صوبے میں آٹھ سو سے زیادہ انجینئر بے روز گار ہیں۔ اگر اٹھائیس بر س پہلے صوبے میں بے روزگار کا یہ عالم تھا تو اب کیا ہوگا۔ آج کل بلوچستان اور ایران کا بارڈر بند ہے ورنہ وہاں کے لوگ ایرانی تیل کی کچھ نہ کچھ اسمگلنگ کرکے روٹی پانی کا بندوبست کر لیا کرتے تھے مگر وہ بھی بند ہو چکا ہے۔ ایک اردو معاصر کی خبر نظر سے گزری تو معلوم ہوا ہمارے سیکورٹی اداروں نے جس دہشت گرد کو پکڑا ہے اس نے انکشاف کیا ہے اسے25 ہزار کے عوض دہشت گردی کی تربیت دی گئی۔ وہ بھی جب وہ صوبے کے بہت سے علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں کر چکا تو اسے رقم ادا کی گئی جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اگر اتنی قلیل رقم کے عوض وہاں کے نوجوان زندگی اور موت کی بازی لگا رہے ہیں تو صوبے کے حالات سے آگاہی ہوجاتی ہے۔ صوبے کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے جب تک وہاں کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار میں نہیں لایا جاتا شائد وہا ں کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ کہتے تھے گوادر بنے گا تو وہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا آج تک کتنے لوگوں کو گوادر کی بندرگاہ پر نوکری دی گئی ہے؟، قدرتی خزانوں سے مالا مال یہ صوبہ قیام پاکستان سے شورش کا شکار ہے۔ کہتے ہیں جب کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو وہاں کے لوگ پہاڑوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایوبی دور میں پہاڑوں پر جانے والوں کو قرآن پر حلف دے کر پہاڑوں سے اتار کر پھانسی دے دی گئی۔ خان آف قلات جنہوں نے بانی پاکستان کی درخواست پر ریاست قلات کا پاکستان سے الحاق کیا تھا ان کا خاندان جلا وطن ہے۔ خان آف قلات کا پوتا میر دائود اور اس کا خاندان لند ن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، کجا وہ پوری ریاست ان کی ملکیت تھی۔ بلوچستان میں اقتدار نواب محمد اکبر خان بگٹی کے حریف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مجھے بلوچستان میں ژوب اور کوئٹہ جانے کا بھی اتفاق ہوا ہے، خاص طور پر ژوب کے رہنے والے لوگ بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ماضی کی حکومتوں نے تعلیمی سہولتوں کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جب کہ ایک سابق سنیئر بیورو کریٹ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے کولہو، ژوب، لورالائی، حب، قلعہ سیف اللہ ،مستونگ اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرکے غریب بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ آج انہی اسکولوں کے بچے افواج پاکستان، سول بیوروکریسی اور صحت کے شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان حکومت کے تعاون سے تعلیم فاونڈیشن بے روزگار نوجوان کو فنی تعلیم سے آراستہ کرکے بیرون ملک بھیج رہی ہے حالانکہ تعلیم اور روزگار فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے مگر ایک انسان دوست سابق بیوروکریٹ جنہوں نے اپنی ملازمت کے بیس برس بلوچستان کو دے کر وہاں کے غرب طلبہ اور طالبات کو تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے قدرتی معدنیات سے مالا مال یہ صوبہ دہشت گردوں کے نرغے میں ہے۔ کوئٹہ جیسے شہر میں لوگ شام کو گھروں سے باہر نکلنے سے گریزاں ہیں۔ آخر کیوں ہماری بہادر افواج کب تک شہادتیں دیتی رہیں گی ہمیں بلوچستان کے مسائل کا ادراک کرکے انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہاڑوں پر جانے والوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے جب انہیں روزگار میسر ہوگا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جو پہاڑوں پر جانے والوں کو اعتماد میں لے۔ نواب اکبر بگٹی اور خان آف قلات کے خاندانوں کو راضی کیا جائے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے تو ایک دن ہمارا بلوچستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ ایک وقت تک جب پنجاب کے لوگ بلوچستان جا کر محنت مزدوری کیا کرتے تھے خاص طور پر دکی جہاں کوئلے کی کانیں ہیں، وہاں حصول روزگار کے لئے جایا کرتے تھے لیکن دہشت گردی نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا امن برباد کر دیا ہے۔ ہمیں ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھلا کر نئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے ناراض خاندانوں کو راضی کرکے حکومتی امور میں حصہ دار بننے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے جن جن علاقوں میں شورش ہے وہاں امن کمیٹیاں قائم کرکے لوگوں کو حکومتی امور میں حصہ دار بنایا جائے۔ کبھی غیر ملکی سیاح زیارت میں صنوبر کے باغات سے لطف اندوز ہونے کے لئے آیا کرتے تھے جب سے دہشت گردی نے زور پکڑا ہے غیر ملکی سیاحوں نے بلوچستان سے منہ موڑ لیا ہے، حالانکہ بلوچستان سیاحوں سے اچھا خاصا زرمبادلہ کمایا کرتا تھا۔ ایک صوبائی وزیر بارے خبر سے دلی رنج ہوا وہ دہشت گردوں کو بھتہ دیا کرتے تھے۔ اگرچہ انہیں صوبائی کابینہ سے علیحدہ کر دیا گیا ہے اور موصوف ملک سے باہر ہیں حالانکہ انہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت اور اداروں سے تعاون کرنے کی ضرورت تھی۔ آخر میں وفاقی حکومت سے درخواست ہے آئین میں بلوچستان کو دیئے گئے حقوق پر بھی توجہ دی جائے تاکہ وہاں کے رہنے امن برقرار رکھنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں اگر حکومت یہ کام کر گزرے تو ان شاء اللہ ایک دن ہمارا بلوچستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button