بہتر معاشی اشاریے، روشن مستقبل

اداریہ۔۔۔
بہتر معاشی اشاریے، روشن مستقبل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی میں پالیسی ریٹ کو 11.50فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اور متوازن اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت بے یقینی صورت حال، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور بین الاقوامی تجارتی دبا کا سامنا کررہی ہے، پاکستان کی معاشی سمت میں استحکام کے آثار نمایاں ہونا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ حکومت کی معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور برآمدات و ترسیلاتِ زر کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی مثبت نتائج دینا شروع ہوگئی ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت کی مضبوطی کا اندازہ صرف شرح سود سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کے ساتھ مہنگائی، کرنٹ اکائونٹ، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظم و ضبط جیسے کئی عوامل کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ امر نہایت اطمینان بخش ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مہنگائی کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے۔ جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی کا 5.5فیصد تک آجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی مربوط پالیسیوں نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ عام آدمی اب بھی مہنگائی کے اثرات محسوس کر رہا ہے، تاہم اقتصادی اشاریے یہ بتا رہے ہیں کہ حالات بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی اسی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر شرح سود میں غیر ضروری اضافہ کیا جاتا تو صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے، جبکہ قبل از وقت کمی افراطِ زر کے دوبارہ بڑھنے کا سبب بن سکتی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے دونوں پہلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن فیصلہ کیا ہے، جس سے کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور مالیاتی منڈیوں کو استحکام کا واضح پیغام ملا ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کا بھی مظہر ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک معیشت کو جذبات کے بجائے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارے میں نمایاں بہتری بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاس ہے۔ مالی سال 2026ء میں خسارے کو انتہائی محدود سطح پر رکھنا اور آئندہ مالی سال میں اسے مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رکھنے کا ہدف ظاہر کرتا ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ماضی میں کرنٹ اکانٹ خسارہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا بڑھتا اور بیرونی قرضوں کی ضرورت میں اضافہ ہوتا تھا۔ موجودہ معاشی نظم و ضبط اس مسئلے پر قابو پانے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔ ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ بھی پاکستان کی معیشت کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ قومی معیشت کا مضبوط سہارا رہے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے دسمبر 2026ء تک ترسیلاتِ زر کے 20.20ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع اس اعتماد کا اظہار ہے کہ سمندر پار پاکستانی اپنے وطن پر اعتماد رکھتے ہیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس جیسے اقدامات نے بھی اس اعتماد کو مزید تقویت دی ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران ان اکائونٹس میں 30کروڑ ڈالر کی آمد اس منصوبے کی کامیابی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ برآمدات میں اضافے کی توقع بھی نہایت اہم پیش رفت ہے۔ موجودہ حکومت نے برآمدی شعبے کی حوصلہ افزائی، صنعتوں کی بحالی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اگر یہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا، بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، صنعتی پیداوار بڑھے گی اور قومی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ ایک مضبوط برآمدی شعبہ ہی کسی بھی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم بنا سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ اطمینان ہے کہ بڑھتی ہوئی درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کے باوجود پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالی وسائل کے مثر استعمال اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں 21.5ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ضرور ہے، تاہم اگر موجودہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا، برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوتا رہا اور سرمایہ کاری کے مواقع بہتر بنائے گئے تو اس چیلنج سے بھی کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ حکومت کو ایک ایسے وقت میں معیشت سنبھالنا پڑی جب ملک شدید مالی دبا، بلند مہنگائی، کمزور زرمبادلہ ذخائر اور بے یقینی معاشی حالات کا شکار تھا۔ ایسے ماحول میں معاشی استحکام کی جانب پیش رفت آسان نہیں تھی۔ تاہم حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری کے بہتر ماحول اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ موثر رابطوں کے ذریعے معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کی، جس کے مثبت نتائج اب مختلف معاشی اشاریوں میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ابھی بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، جن میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں مزید توسیع، پیداواری لاگت میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معیشت کی بحالی ایک تدریجی عمل ہوتا ہے۔ مضبوط اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی اور اداروں کے درمیان مثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی موجودہ معاشی حکمت عملی کو اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے، کاروباری برادری کا اعتماد مزید مضبوط کرے، برآمدی شعبے کو سہولتیں فراہم کرے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو مزید بہتر بنائے۔ اسی طرح عوامی فلاح، روزگار کی فراہمی اور مہنگائی میں مزید کمی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ معاشی استحکام کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچ سکیں۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی اور اس کے ساتھ سامنے آنے والے معاشی اشاریے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت اپنی اصلاحاتی پالیسیوں کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھتی ہے، مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہتا ہے اور قومی معیشت کے بنیادی شعبوں کو مزید مضبوط بنایا جاتا ہے تو بلاشبہ پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ آئندہ برسوں میں پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور خوش حالی کے ایک نئے دور میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
گندم بحران: شفاف تحقیقات ناگزیر
پنجاب سے مبینہ طور پر 45لاکھ ٹن اور سندھ سے 6لاکھ ٹن گندم کے ریکارڈ سے غائب ہونے کا انکشاف ایک نہایت تشویش ناک معاملہ ہے، جس نے نہ صرف ملکی غذائی تحفظ بلکہ زرعی پالیسی، ذخیرہ اندوزی اور انتظامی شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ قومی معیشت اور عوامی مفاد سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ناگزیر ہیں۔ پاکستان زرعی ملک ہے اور گندم یہاں کی بنیادی غذائی ضرورت ہے۔ اس کی پیداوار، ذخیرہ اور تقسیم کے نظام میں معمولی سی بے ضابطگی بھی ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں لاکھوں ٹن گندم کے غائب ہونے کی اطلاعات عوام میں تشویش پیدا کرنا فطری امر ہے۔ اگر واقعی گندم ذخیرہ اندوزی کی نذر ہوئی ہے تو اس کے ذمے دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ذرائع کے مطابق سرکاری امدادی قیمت مقرر ہونے کے باوجود نجی شعبے نے مطلوبہ سطح پر گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی جب کہ بعدازاں قیمتوں میں اضافے اور غیر قانونی خریداری کے خدشات بھی سامنے آئے۔ یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اپنی گندم خریداری اور مارکیٹ ریگولیشن کی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ کسان، صارف اور قومی مفاد تینوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اگر اس معاملے کی بروقت اور شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملک کو گندم درآمد کرنے پر ایک ارب ڈالر تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں اتنی بڑی درآمد نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو ڈالے گی، بلکہ عوام کے لیے آٹے اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائیں، جدید ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور نگرانی کے نظام کو موثر بنائیں، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں اور گندم کی خریداری، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے پورے نظام میں شفافیت پیدا کریں۔ قومی غذائی تحفظ کسی بھی ملک کی اولین ترجیح ہوتا ہے، اس لیے گندم جیسے حساس معاملے پر غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ عوام بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ حقائق سامنے لائے جائیں، ذمے داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے دیرپا اصلاحات نافذ کی جائیں۔







