Column

مون سون بارشیں ، مشکلات اور تباہ کاریاں

مون سون بارشیں ، مشکلات اور تباہ کاریاں
حروف بے زباں
مرزا رضوان
قدرتی آفات انسان کی بے بسی اور اس کے نظامِ حکومت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ جب بھی برصغیر میں مون سون کا بادل گرجتا اور برستا ہے، تو یہ اپنے ساتھ خوشحالی کے نغمات کے ساتھ ساتھ تباہی کے ایسے المناک باب بھی لاتا ہے جو برسوں تک دلوں اور زمین پر نقش رہتے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر حالیہ مون سون بارشوں کی زد میں ہے، اور ملک کے طول و عرض سے جو مناظر سامنے آ رہے ہیں، وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ سڑکیں تالاب بن چکی ہیں، گھر پانی میں ڈوب چکے ہیں، اور غریب کی جمع پونجی چند لمحوں میں موجِ بلا کا نذرانہ بن گئی ہے۔ حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر شہری اور دیہی علاقوں کے فرق کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ بڑے شہر ہوں یا پسماندہ قصبات، پانی کی نکاسی کا کوئی مثر نظام نظر نہیں آتا۔ چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش کے بعد بڑے شہروں کی اہم شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ بارش کا پانی لوگوں کے گھروں، دکانوں اور یہاں تک کہ ہسپتالوں تک میں داخل ہو چکا ہے۔ غریب مزدور جو روزانہ کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اس موسم میں کئی کئی دن گھر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتا ہی کیونکہ سڑکوں پر چلنا محال ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی زیادہ ابتر ہے۔ کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں، جو کسان کی سال بھر کی محنت کا صلہ ہوتی ہیں۔ کپاس، چاول اور سبزیوں کی فصلوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اس نے کسانوں کو معاشی طور پر کمر توڑ دینے والے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ہر سال مون سون کا موسم آتا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے ’’ پیشگی اقدامات‘‘ اور’’ الرٹ‘‘ کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق ان دعوئوں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مون سون کا آنا کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ ہے؟ کیا محکمہ موسمیات کو پہلے سے معلوم نہیں ہوتا؟ اگر سب کچھ معلوم تھا، تو پھر ہر سال وہی پرانی کہی ہوئی کہانی کیوں دہرائی جاتی ہے؟ ہمارا شہری نظامِ انخلا (Drainage System) دہائیوں پرانی تنزلی کا شکار ہے۔ شہروں کی توسیع تو بے ہنگم طریقے سے کی گئی، بلند و بالا عمارات اور ہائوسنگ سوسائٹیاں تو بن گئیں لیکن پانی کی نکاسی کے لیے قدرتی گزرگاہوں پر قبضے کر لیے گئے۔ نالوں پر تجاوزات قائم ہوئیں اور کچرے کے ڈھیروں نے نالوں کو بند کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذرا سا پانی بھی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔
ان تباہ کاریوں کا سب سے بڑا المیہ انسانی جانوں کا ضیاع اور بے گھر ہونے والے افراد کی بے بسی ہے۔ غریب کے کچے مکانات اور چھتیں اس طوفانی بارش کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتیں اور منہدم ہو جاتی ہیں۔ سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بچوں اور خواتین کی مشکلات اس دوران دوچند ہو جاتی ہیں۔ پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہیضہ، پیچش اور جلد کی بیماریاں وبائی شکل اختیار کر لیتی ہیں، جس سے معصوم زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔
حکومت اور فلاحی اداروں کی طرف سے امدادی سرگرمیاں شروع تو کی جاتی ہیں، لیکن ان کا دائرہ کار اکثر محدود اور تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔ متاثرہ علاقوں تک خیمے، راشن اور ادویات کی بروقت فراہمی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ متاثرین کی یہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ریاست کی موجودگی کے باوجود عام انسان اس قدر بے یار و مددگار کیوں ہے؟
فصلوں کی تباہی اور سڑکیں ٹوٹنے کا براہ راست اثر ملک کی پہلے سے دبائو کا شکار معیشت پر پڑتا ہے۔ جب سبزیاں اور غذائی اجناس منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتیں، تو رسد میں کمی کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ پہلے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہو جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعطل کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو جاتی ہیں، جس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کا چولہا بجھ جاتا ہے۔
یہ وقت محض دلاسے دینے یا روایتی امدادی پیک کا اعلان کرنے کا نہیں ہے، بلکہ ایک سنجیدہ اور پائیدار قومی حکمت عملی بنانے کا ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change)کی وجہ سے اب بارشوں کے روایتی انداز بدل چکے ہیں۔ کم وقت میں زیادہ بارشیں (Cloudbursts)اب معمول بنتی جا رہی ہیں، اور ہمارا موجودہ انفراسٹرکچر اس بوجھ کو اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہیں، تمام بڑے شہروں میں ڈرینج سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور نالوں کو تجاوزات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ بارش کے اس بیش قیمتی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے چھوٹے ڈیمز اور آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں تاکہ سیلابی ریلوں سے بچائو بھی ہو سکے اور پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے۔ ضلعی سطح پر ایسے فوری رسپانس یونٹس بنائے جائیں جو بارش کی پیشگوئی کے ساتھ ہی متحرک ہو جائیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور نالوں پر قبضوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔
حالیہ مون سون بارشیں محض پانی کے قطرے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی نظام، منصوبہ بندی اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ماضی کی طرح غفلت برتی اور صرف عارضی اقدامات پر اکتفا کیا، تو آنے والے سالوں میں یہ تباہی مزید خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ قدرت ہمیں بار بار تنبیہ کر رہی ہے، اور دانشمندی اسی میں ہے کہ وقت رہتے اس تنبیہ کو سمجھا جائے اور ایک مضبوط، محفوظ اور پائیدار پاکستان کی بنیاد رکھی جائے جہاں بارش رحمت بنے زحمت نہیں۔

جواب دیں

Back to top button