ColumnTajamul Hussain Hashmi

سیاسی حلف نامے

سیاسی حلف نامے
تجمل ہاشمی
شورش کاشمیری پاکستانی تاریخ کے نام وار صحافی ادیب اور خطیب تھے، شورش کشمیری پاکستان کا بڑا نام ہے، شورش صاحب اکتوبر 1957ء میں اس وقت کے صدر سکندر مرزا سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر گئے، ملاقات میں شورش صاحب کو ایسا محسوس ہوا کہ شاید مرزا صاحب وزیر اعظم حسین سہروردی کی حکومت ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ شورش صاحب نے ایوان صدر سے نکلتے ہی وزیر اعظم صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے مل کر منصوبے سے آگاہ کیا۔ اسی شام جناب وزیر اعظم صاحب شورش صاحب کے گھر تشریف لائے، اور کہنے لگے ’’ بڑے بھائی تمہارا خدشہ غلط ہے‘‘۔ شورش صاحب نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے میں ابھی ایوان صدر گیا تھا اور میں نے سکندر مرزا سے اپنی حکومت کے مستقبل کے متعلق پوچھا۔ اس وقت صدر مرزا کی بیگم بھی تشریف فرما تھیں۔ سکندر مرزا اٹھے اور اپنی گھر والی کے سر پر ہاتھ رکھا کر قسم کھانے لگے کہ میں تمہاری حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا اگر میں نے تمہاری حکومت ختم کی تو اللّہ میری بیوی کی جان لے لے۔ وزیر اعظم سہر وردی صاحب نے اس کے بعد شورش صاحب سے کہا کہ میں مطمئن ہو گیا ہوں کیوں کہ اگر صدر صاحب کے دل میں کوئی میل ہوتی تو وہ اپنی بیگم کے سر کی قسم نہ کھاتے۔ شورش صاحب نے قہقہہ لگایا اور وزیر اعظم سے کہنے لگے، وزیر اعظم صاحب میرا خیال ہے صدر سکندر مرزا آپ کے ساتھ ساتھ اپنی بیگم سے بھی تنگ ہیں، لہذا ان کی کوشش ہے آپ کی حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی بیگم بھی اللّہ کو پیاری ہو جائے۔ وزیر اعظم حسین سہر وردی صاحب نے شورش صاحب کی بات نہیں مانی، لیکن بعد میں نتیجہ وہی نکلا۔ سکندر مرزا نے قسم کھانے کے بعد بھی 17اکتوبر 1957ء کو حسین شہید سہروردی کی حکومت ختم کر دی۔ پاکستان میں ایسے کئی سیاسی حلف نامے تاریخ میں موجود ہیں اور گزشتہ چند سالوں میں کئی نامی گرامی لیڈروں نے قرآن کی قسمیں کھا کر خود کے سچے ہونے کا دعوے کئے، اور عوام ان دعوے کو تسلیم کرتے رہے کیوں کہ اللّہ کے سچے ہونے اس کی واحدنیت کا یقین ہمارا ایمان ہے۔ سیاست دانوں کو شرم کرنی چاہے تھی، لیکن ویسے شرم سے ڈوب کر آج تک کوئی نہیں مرا۔ اس لیے ہماری سیاست میں ایسے حلف نامے، قسمیں اٹھانا معمول ہے۔ پہلے وقت میں لال آندھی آ جاتی تھی، جھوٹوں سے لوگ نفرت کرتے تھے، اپنے بچوں کے لئے نیک نامی، شریف خاندان میں رشتے کرتے تھے۔ معتبر انسانوں کو فضیلت دی جاتی تھی، لیکن ابھی سب کچھ بدل گیا ہے۔ جب 1989ئ میں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور مسلم لیگ کی قیادت نے محترمہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ چند غیر جانبدار اسمبلی رہنمائوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ان رہنمائوں میں ہندو کمیونٹی کے رہنما رانا چندر سنگ بھی شامل تھے، مسلم لیگ قیادت نے تحریک لانے سے چند دن پہلے ارکان سے قرآن پر حلف لینے کا فیصلہ کیا۔ تمام ارکان نے قرآن پر ہاتھ کر فیصلہ کیا کہ تحریک والے دن وہ محترمہ کے خلاف ووٹ دیں گے۔ جب رانا چندر سنگ کو گیتا پر ہاتھ رکھنے کا کہا گیا تو اس نے منھ کر دیا اور کہا میری زبان کی کافی ہے۔ آپ تحریک کے دن دیکھ لیجئے گا۔ میں محترمہ کے خلاف سب سے آگے ہوں گا۔ جب عدم اعتماد کے ووٹ کا وقت آیا تو مسلم لیگ دیکھ کر حیران ہو گئی کہ جن ارکان نے قرآن پر حلف دیا تھا وہ سب محترمہ کے حق میں ووٹ ڈال رہے تھے۔ گیتا پر ہاتھ رکھ کر قسم نہ کھانے والے رانا چندر سنگ نے محترمہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس موقع پر رانا چندر سنگ نے ایک خوب صورت بات کہی’’ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے والے منحرف ہو گئے اور زبان دینے والا کھڑا رہا ‘‘۔ کئی بار اسمبلی میں ہندو رہنمائوں نے بد اخلاقی وعدہ خلاف ، شراب نوشی پر کھول کر تنقید کی، لیکن ہمارے رہنمائوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج ہمارے ہاں کتنے سیاسی حلف نامے ردی کی ٹوکری میں پڑے ہیں، بیانے بے وقعت ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر عوام کے ساتھ کتنے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما کو بے زبانی کی پروا نہیں ہے۔ جتنا بڑا خزانہ چور اتنا بڑا پروٹوکول ۔ عوام کے ساتھ کیا گیا کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن سب سے زیادہ اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار رہی، ترقی کے دعوے اور ووٹ کو عزت دو کا بیانہ سب جھوٹے ثابت ہوئے، نیا پاکستان، تبدیلی والی سرکار نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جو اس سے پہلے سیاسی لیڈر کرتے رہے، جب پرانے ساتھیوں کی فرمائش پوری کریں گے تو پھر جیل بھی تو جانا پڑے گا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر قوم پر احسان کرنے والے آج روزانہ کی بنیاد پر پٹرول بم مار رہے، یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہم نے جھوٹا کہا تھا۔ حالات اب جھوٹے وعدوں اور سیاسی حلف ناموں سے زیادہ خراب ہیں، اب شاید وعدوں پر یقین کا وقت نہیں رہا۔ درست سمت کا وقت آن پہنچا ہے۔ یہ نظام مزید نہیں چل سکتا۔

جواب دیں

Back to top button