روحانیت کے نام پر عصمتوں کا سودا

روحانیت کے نام پر عصمتوں کا سودا
تحریر: رفیع صحرائی
ہمارا معاشرہ اس وقت جن سنجیدہ اور تلخ بحرانوں کی زد میں ہے، ان میں سب سے ہولناک مسئلہ جہالت، توہم پرستی اور معاشرتی رویے ہیں۔ یہ وہ تاریک دالان ہیں جہاں ہر روز کسی نہ کسی معصوم کا مال، سکون اور عزت قربان ہوتی ہے۔ جب تک اس سماج سے توہم پرستی اور عدم شعور کی جڑیں نہیں کاٹی جائیں گی، تب تک چالاک، مکار اور ہوس کے پجاری ’’ پیروں‘‘ اور ’’ عاملوں‘‘ کے روپ میں عوام کو لوٹتے بھی رہیں گے اور ان کی آبروئوں سے کھیلتے بھی رہیں گے۔
اولاد کی تمنا ہر انسان کی فطری خواہش ہے۔ شادی کے بعد ہر میاں بیوی کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ ان کے گھر میں بچوں کی ہنسی گونجے۔ جب کسی جوڑے کے ہاں چند سال تک اولاد نہیں ہوتی تو ہمارے معاشرے میں اس مسئلے کو سمجھنے، سائنسی بنیادوں پر اس کا علاج تلاش کرنے اور متاثرہ میاں بیوی کا حوصلہ بڑھانے کی بجائے طرح طرح کے طعنے، الزام تراشی، توہمات اور جعلی روحانی علاج شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جہالت، کم علمی اور اندھی عقیدت کے سائے میں بیٹھے فراڈیے اپنا کھیل شروع کرتے ہیں۔
حال ہی میں لاہور کے لوئر مال کے علاقے سے سامنے آنے والا ہولناک واقعہ سن کر ہر ذی روح کانپ اٹھا ہے۔ ایک شخص جو چار عشروں سے ایک محراب و منبر سے وابستہ تھا، وہ روحانی علاج اور ’’ جنات نکالنے‘‘ کے پردے میں چار ہزار سے زائد خواتین کے جنسی استحصال کا مرتکب ہوا۔ ہزاروں برہنہ ویڈیوز، بلیک میلنگ اور چالیس سالہ تاریک تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم کس قدر اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کے ذی شعور افراد کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے اندر ایک شخص چالیس سال سے زائد عرصہ روحانیت اعر تقدس کا لبادہ اوڑھ کر درندگی کا مظاہرہ کرتا رہا لیکن انہیں کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں ستر سے زائد خواتین کو حاملہ کرنے والا فراڈیا ہو یا میرپور خاص میں روٹھی ماں کو منانے کے لیے جانے والی دو کمسن بچیوں کے ساتھ پیش آنے والا دلخراش سانحہ، یہ تمام واقعات ایک ہی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خواتین کی مجبوری اور سماجی دبائو کا بے دردی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
ٔبیٹیوں اور بہوئوں پر سب سے بڑا دبائو ’’ بے اولادی‘‘ کی صورت میں ڈالا جاتا ہے۔ اولاد کا ہونا یا نہ ہونا مکمل طور پر اللہ رب العزت کا اختیار ہے؛ کوئی ڈھونگی، پاکھنڈی یا کالا بابا کسی کو اولاد نہیں دے سکتا۔ آج کی دنیا نے سائنس اور طب کے میدان میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔ اگر کسی جوڑے کو اولاد کے حصول میں تاخیر یا دشواری پیش آ رہی ہے تو اس کا مناسب علمی و عملی حل یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں اپنا مکمل میڈیکل چیک اپ کروائیں۔ اس کے اسباب جانیں اور مستند گائنی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اگر وہ ادویات تجویز کریں تو ان ادویات کا استعمال باقاعدگی اور ڈاکٹر کی ہدایات کی روشنی میں کریں۔ اگر پیچیدگی اس نوع کی ہو کہ ادویات سے علاج ممکن نہ ہو تو جدید سائنسی علاج کروائیں۔ آج کے دور میں IUIاور IVFجیسے طریقوں سے اللہ کے حکم سے علاج ممکن ہو چکا ہے۔ نارمل طریقے سے اولاد حاصل نہ کر سکنے والے جوڑے ان طریقوں کو اختیار کر کے اولاد کی نعمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
یہاں ساسوں، نندوں اور سسرالی خاندانوں کو بھی اپنے رویّوں پر شدید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اولاد نہ ہونے پر گھر کی بہو کو طعنے دینا، بانجھ کا طوق پہنانا یا بیٹے کی دوسری شادی کی دھمکیاں دینا ایک غیر انسانی اور غیر اسلامی رویہ ہے۔ بے اولادی کا دکھ سہنے والی عورت پہلے ہی ذہنی دبا کا شکار ہوتی ہے۔ جب ساس نندیں ، رشتہ دار اور پڑوسی اسے طعنے دہتے ہیں، جب اسے بانجھ یا منحوس کہا جاتا ہے، جب دوسری شادی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تو وہ اپنے گھر کو بچانے کے لیے کسی بھی سہارے کی تلاش میں نکل سکتی ہے۔ جب عورت پر گھر بچانے کا شدید نفسیاتی دبا ہوتا ہے تو وہ مجبوراً اور سراسیمگی کے عالم میں ان جعلی پیروں اور عاملوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں اعتماد اور تحفظ کی فضا قائم کرنا ہوگی۔ سب سے بڑی ذمہ داری شوہر کی ہے اسے اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اسے طعن و تشنیع اور چبھتی ہوئی نظروں کا شکار مظلوم بیوی کو تحفظ دینا چاہیے۔ اس کا ہاتھ تھام کر اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ صرف اولاد پیدا کرنے کا ذریعہ یا مشین نہیں ہے بلکہ وہ ایک مکمل انسان ہے، اس کی زندگی بھر کی ساتھی اور عزت و احترام کی حق دار ہے۔ اگر شوہر اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر اپنی بیوی کو اعتماد دے تو کوئی بھی عورت کبھی کسی جعلی بابے یا تعویذ دھاگے والے کے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اپنے گھر کی خواتین کو تحفظ اور شعور دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی عزّت و مال محفوظ رہ سکے۔
ساسوں اور نندوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کسی بہو کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تو اس پر طعنے کس بات کے دیئے جا رہے ہیں؟۔ یہ طبی مسئلہ ہے، اس کا علاج کروایا جائے۔ اگر علاج ممکن نہیں تو صبر سے کام لیا جائے۔ اگر نصیب میں اولاد نہیں تو اس فیصلے کو اللہ کی حکمت سمجھ کر قبول کیا جائے یا کوشش کی جائے کہ IUIیا IVFکے ذریعے اولاد مل جائے۔ بیٹے یا بھائی کی دوسری شادی کی دھمکیاں دینا، عورت کو گھر سے نکالنے کی باتیں کرنا یا اسے ہر وقت ذہنی اذیّت دینا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ رویّہ بعض اوقات عورت کو ایسے خطرناک لوگوں کے پاس پہنچا دیتا ہے جو اس کی مجبوری، تنہائی اور خوف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر مذہبی عالم یا روحانی رہنما کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں، دستار کی عزت کا پاس رکھنے والے صاحبانِ دستار لائقِ تکریم ہیں۔ لیکن کسی شخص کا مذہبی حلیہ، عمامہ، داڑھی یا کسی مسجد سے وابستگی اسے قانون سے بالاتر نہیں بنا دیتی۔ جعلی عاملین، تعویذ دھاگے کے نام پر کاروبار کرنے والوں اور روحانیت کا برقع اوڑھنے والے حوا کے لٹیروں کا قلع قمع کرنا نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ بحیثیت معاشرہ ہمیں بھی بیدار ہونا پڑے گا۔ جب تک ہم توہم پرستی کے جال ایک طرف پھینک کر عقل، سائنس، اور حقیقی دینی تعلیمات کو نہیں اپنائیں گے، تب تک یہ بھیڑیے یونہی ہماری عزتوں کا شکار کرتے رہیں گے۔
حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ ایسے تمام جعلی آستانوں، تعویذ دھاگے کے مراکز اور نام نہاد عاملوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے اور انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کسی کو محراب یا روحانیت کا نام بدنام کرنے اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے کی جرات نہ ہو سکے۔



