صرف چند منٹ میں دنیا ختم

صرف چند منٹ میں دنیا ختم
تحریر : تجمل حسین ہاشمی
اگر زمین سے آکسیجن صرف چند منٹ کے لیے غائب ہو جائے تو کیا ہوگا؟ تیز ترین ٹیکنالوجی ناکام، دنیا ختم۔ یہ عطا کردہ نعمتیں ہمیں اللہ کی وحدانیت کا احساس دلاتی ہیں۔
آکسیجن ایسی نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس کا کنٹرول صرف اللہ پاک کے پاس ہے۔ کرونا کے دوران جب مریض آکسیجن کی کمی کا شکار تھے تو لوگ اس کی بھاری فیس ادا کرنے پر مجبور تھے۔ اگر آکسیجن مکمل طور پر ختم ہو جائے تو ہر ذی روح چند لمحوں میں مردہ ہو جائے گی اور دنیا کا نظام چند گھنٹوں میں درہم برہم ہو جائے گا۔
آکسیجن کے اچانک ختم ہونے سے انسانی جسم میں شدید ہائپوکسیا پیدا ہو جائے گی۔ انسان کو گھبراہٹ، سانس لینے میں دشواری، سر درد، ذہنی الجھن اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی محسوس ہوگی۔ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی رک جانے سے چند لمحوں میں دماغی خلیات متاثر ہونے لگیں گے، لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، جسم کا رنگ نیلا پڑ جائے گا اور پھر اموات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
صرف انسان ہی نہیں، جانور، پرندے، مویشی، جنگلی حیات اور سمندری جاندار بھی شدید بے چینی کے بعد مر جائیں گے۔ سمندروں میں تحلیل شدہ آکسیجن کا توازن بگڑنے سے مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار بھی نہ بچ سکیں گے۔
فضا سے آکسیجن کے ختم ہونے سے فضائی دبائو میں اچانک کمی آ جائے گی۔ اس سے انسانی کانوں کے پردے پھٹ جایئں گے، خون کی نالیاں متاثر ہوں گی اور جسم میں خون جمنے لگے گا۔ آسمان کا رنگ بھی تبدیل ہو جائے گا کیونکہ روشنی کے پھیلائو میں آکسیجن اور دیگر گیسوں کا اہم کردار ہے۔ آگ جلنے کے لیے آکسیجن ضروری ہے، لہٰذا دنیا بھر کی تمام آگیں فوراً بجھ جائیں گی۔ گاڑیاں، طیارے، بحری جہاز، بجلی گھر سب کچھ بند ہو جائے گا۔ ہسپتالوں کے لائف سپورٹ سسٹم بھی کام کرنا چھوڑ دیں گے۔
اس تباہی کے نتیجے میں عمارتیں، پل اور ڈیم بھی متاثر ہوں گے اور دنیا کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو جائے گا۔
آکسیجن کیسے پیدا ہوتی ہے: اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ایک لاجواب نظام بنایا ہے۔ آکسیجن پودوں، درختوں، گھاس اور سب سے زیادہ سمندری خوردبینی پودوں (Phytoplankton)کے ذریعے ضیائی تالیف (Photosynthesis)سے پیدا ہوتی ہے۔ قریباً 50سے 70فیصد آکسیجن سمندروں سے آتی ہے اور باقی جنگلات سے۔ انسان اور جانور آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جبکہ پودے اس کے برعکس کرتے ہیں۔ یہ توازن اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔
زمین پر 71فیصد پانی ہے ( جو زیادہ تر کھارا ہے)، اور صرف 29فیصد خشکی۔ انسانی جسم میں بھی پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اللہ کا یہ نظام کتنا مضبوط اور حکم الٰہی کے تابع ہے۔
قرآنی پیغام: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب بی ہوش ہو جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے‘‘ ( سورہ الزمر: 68)۔
اور فرمایا: ’’ بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں‘‘ ( سورہ الحج: 7)۔
احادیث مبارکہ میں ہے: ’’ پہلے صور کے پھونکے جانے سے تمام مخلوق فنا ہو جائے گی، پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ صور پھونکا جائے گا‘‘۔
اگر ایک نعمت آکسیجن کے چند منٹ غائب ہونے کا تصور ہی دنیا ختم کر دیتا ہے، تو اس قیامت کا اندازہ لگائیے جس کا وعدہ خود خالقِ کائنات نے کیا ہے۔
آج انسان سائنس اور ٹیکنالوجی پر فخر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی عطا کردہ ہوا، پانی اور آکسیجن کا محتاج ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، اطاعت اختیار کریں اور اس دن کی تیاری کریں جب نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، نہ طاقت صرف ایمان اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ ہوں گے۔ انسان کن چکروں میں پڑا ہے ، نظام حکومت سود پر چل رہی ہے اور اللّہ کا نظام خود بول رہا ہے کہ اس کے حکم کے سوا سب کچھ بے سود ہے ، خود کو طاقتور ثابت کرنے کے چکر میں دوسرے کو دبا رہے ہیں، اللّہ کے حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں، حکومت وقت کو اسلامی طرز زندگی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ روز قیامت انسان اپنے رب کے حضور پیش ہو سکے اور عمال نامہ سیدھے ہاتھ میں وصول کر سکے، اللّہ کی ایک نعمت کے ختم ہونے سے پورا نظام ختم ہو سکتا ہے، تو سوچیں اللّہ کتنی بڑی طاقت کا مالک ہے جس کے حکم پر زمین و آسمان اور دنیا چل رہی ہے، اسلحہ کی جنگ جاری ہے، لیکن فیصلوں کا مالک میرا اللّہ ہے، طاقتور کے لیے بھاگ دوڑ جاری ہے، لیکن اللّہ کے دین کی سر بلندی کے لیے سب خاموش ہیں۔ سب غیر اسلامی قوانین بنائے جا رہے ہیں ، غیروں کو خوشی کے لیے اللّہ کو ناراض کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں چلے گا۔





