ملکی سیاست میں ہلچل
ملکی سیاست میں ہلچل
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
پاکستان کی سیاست کو سمجھنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ یہاں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ پوری حقیقت نہیں ہوتا اور جو حقیقت ہوتا ہے، وہ اکثر دیر سے سامنے آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی تجزیہ صرف واقعات کی فہرست مرتب کرنے کا نام نہیں بلکہ ان واقعات کے درمیان پوشیدہ رشتوں کو سمجھنے کا عمل بھی ہے۔
ایک جلسہ ، ایک تقریر، ایک ملاقات، ایک خاموشی، ایک عدالتی فیصلہ یا ایک معاشی اعلان بظاہر الگ الگ واقعات دکھائی دیتے ہیں، مگر جب انہیں ایک ہی دھاگے میں پرویا جائے تو ملکی سیاست کی ایک نئی تصویر سامنے آتی ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں بظاہر آئینی نظام اپنی جگہ قائم ہے۔ حکومت موجود ہے، پارلیمنٹ کام کر رہی ہے، عدالتیں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لیکن اس ظاہری استحکام کے نیچے ایک ایسی بے چینی بھی محسوس ہوتی ہے جس کا اظہار کبھی مہنگائی کے خلاف عوامی شکایات میں ہوتا ہے، کبھی اپوزیشن کی تقاریر میں، کبھی اتحادی جماعتوں کے تحفظات میں اور کبھی سیاسی راہداریوں میں ہونے والی خاموش ملاقاتوں میں۔
پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر فریق خود کو ملک کا واحد نجات دہندہ سمجھتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جماعت تنہا پاکستان کے پیچیدہ مسائل حل نہیں کر سکتی۔
معیشت، خارجہ پالیسی، دہشت گردی، پانی، توانائی، تعلیم اور گورننس جیسے مسائل کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کی نہیں بلکہ پوری ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومت اور اپوزیشن اکثر ایک دوسرے کو ناکام ثابت کرنے میں اتنی مصروف رہتی ہیں کہ ملک کی کامیابی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
موجودہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپوزیشن نہیں بلکہ عوامی اعتماد ہے۔ حکومت معاشی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی نظم و ضبط اور بعض اقتصادی اشاریوں میں بہتری کی بات کرتی ہے۔ یہ سب اہم ہیں، لیکن سیاست میں اصل پیمانہ وہ نہیں جو وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں لکھا جائے، بلکہ وہ ہے جو بازار میں سبزی خریدنے والا، بجلی کا بل ادا کرنے والا، اپنی فیکٹری چلانے والا یا روزگار کی تلاش میں سرگرداں نوجوان محسوس کرتا ہے۔ اگر معاشی بہتری عوام کی زندگی میں منتقل نہ ہو تو حکومتی بیانیہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں حکومتیں اکثر معاشی کامیابی سے زیادہ معاشی احساس کی بنیاد پر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر عوام کو محسوس ہو کہ ان کی زندگی بہتر ہو رہی ہے تو وہ مشکلات کے باوجود حکومت کا ساتھ دیتے ہیں، لیکن اگر امید کمزور پڑ جائے تو مضبوط اکثریت بھی بے وزن محسوس ہونے لگتی ہے۔ سیاست میں امید کا سرمایہ بعض اوقات پارلیمانی اکثریت سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن بھی کسی غیر معمولی قوت کی حامل نہیں۔ تحریکِ انصاف آج بھی ایک بڑی عوامی حقیقت ہے، خصوصاً نوجوان طبقے میں اس کی حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عوامی مقبولیت اور مثر سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ ایک سیاسی جماعت کو صرف ووٹ نہیں، تنظیم، قیادت، انتخابی تیاری اور قابلِ عمل متبادل پروگرام بھی درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں ہر اپوزیشن جماعت کو مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی، جو آج حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں، ایک طویل سیاسی تاریخ رکھتی ہیں۔ دونوں جماعتیں جانتی ہیں کہ اقتدار جتنا اہم ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اتحادی سیاست ہمیشہ مفاہمت، برداشت اور مسلسل مذاکرات کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی لیے کبھی کبھار اتحادیوں کے سخت بیانات کو حکومت کے خاتمے کا اعلان سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ بیشتر مواقع پر وہ اپنے سیاسی وزن کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ان دنوں مولانا فضل الرحمٰن کی تقاریر بھی خاصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ صرف ان کا سخت لہجہ نہیں بلکہ ان کی طویل سیاسی زندگی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کم ہی ایسے رہنما ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں حکومت، اپوزیشن اور پارلیمانی سیاست کے اتنے مختلف رنگ دیکھے ہوں۔ وہ عموماً الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی ہر تقریر کسی فوری سیاسی تبدیلی کی خبر ہوتی ہے۔ تجربہ کار سیاست دان اکثر اپنی جماعت کو متحرک رکھنے، حکومت پر دبائو بڑھانے اور آئندہ مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے بھی سخت سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیے میں جذبات سے زیادہ توازن ضروری ہے۔ ہر ملاقات کو خفیہ معاہدہ، ہر خاموشی کو سازش اور ہر تقریر کو انقلاب قرار دینا سیاسی بصیرت نہیں بلکہ جلد بازی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں اس وقت آتی ہیں جب کئی عوامل ایک ساتھ ایک ہی سمت میں حرکت کرنے لگتے ہیں؛ صرف ایک بیان یا ایک جلسہ اس کا فیصلہ نہیں کرتا۔
اسی لیے اگر آج کے سیاسی منظرنامے کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام قائم ہے، مگر مسلسل دبا میں ہے؛ حکومت اقتدار میں ہے، مگر آزمائش میں ہے، اپوزیشن متحرک ہے، مگر مکمل طور پر یکسو نہیں، اور عوام خاموش ضرور ہیں، مگر خوش نہیں۔
پاکستان کی سیاست کو صرف اسلام آباد کی سڑکوں یا پارلیمنٹ کی راہداریوں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اصل تصویر ملک کے بازاروں، کھیتوں، فیکٹریوں، یونیورسٹیوں، عدالتوں اور عام آدمی کے چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ سیاست آخرکار عوام کی زندگی سے اپنا جواز حاصل کرتی ہے۔ اگر عوام کو ریلیف ملے تو حکومت مضبوط دکھائی دیتی ہے، اور اگر زندگی مشکل ہو جائے تو اقتدار کی مضبوط دیواروں میں بھی باریک دراڑیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔اسی لیے موجودہ سیاسی منظرنامے میں سب سے اہم کردار معیشت کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے مہنگائی، قرضوں، توانائی کے بحران اور مالیاتی دبائو جیسے مسائل کا سامنا کیا۔ اگرچہ بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن عام آدمی کی نظر اپنے بجلی کے بل، بچوں کی فیس، روزمرہ خریداری اور روزگار کے مواقع پر ہوتی ہے۔ ریاست کی معاشی کامیابی اسی وقت سیاسی کامیابی میں بدلتی ہے جب اس کا اثر عام شہری کی زندگی تک پہنچے۔ ورنہ اعداد و شمار اخبارات کی زینت تو بن سکتے ہیں، عوام کے دلوں کی نہیں۔
اس سارے منظرنامے میں عدلیہ بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں عدالتی فیصلے محض قانونی دستاویزات نہیں ہوتے، بلکہ ان کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ آئینی تشریحات، انتخابی تنازعات اور سیاسی مقدمات کئی مرتبہ پورے سیاسی ماحول کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت عدالتوں کی طرف بھی اسی توجہ سے دیکھتی ہے جس طرح وہ عوامی جلسوں کی طرف دیکھتی ہے۔
ایک اور حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ریاستی اداروں کا کردار ہے۔ گزشتہ برسوں میں مختلف اداروں نے بارہا اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، لیکن سیاسی جماعتیں اکثر اپنے بیانیے میں ان کا ذکر کرتی رہتی ہیں۔ یہاں ایک ذمہ دار تجزیہ نگار کا فرض ہے کہ وہ سیاسی دعوئوں اور ثابت شدہ حقائق میں فرق قائم رکھے۔ قیاس آرائی وقتی سنسنی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ ثبوت مانگتی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں شور بہت ہوتا ہے، مگر فیصلہ اکثر خاموشی میں ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر تلخ جملے، جلسوں میں بلند نعرے اور سوشل میڈیا پر تیز و تند تبصرے ضرور دکھائی دیتے ہیں، مگر اصل سیاسی پیش رفت اکثر مذاکرات، مفاہمت اور تدبر کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ اسی لیے دانش مند مبصر شور سے زیادہ خاموشی کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔
آنے والے مہینوں میں پاکستان کے سامنے تین بڑے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حکومت اپنی آئینی مدت کی طرف پیش قدمی جاری رکھے، اتحادی اختلافات کے باوجود ساتھ رہیں اور سیاسی نظام معمول کے مطابق چلتا رہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ معاشی دبا یا سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو، اپوزیشن زیادہ منظم ہو جائے اور حکومت کو سخت سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے، مگر تمام معاملات آئینی دائرے میں رہیں۔ تیسرا امکان کسی غیر معمولی بحران کا ہے، لیکن موجودہ دستیاب شواہد اس امکان کی واضح تائید نہیں کرتے۔ اس لیے ذمہ دارانہ تجزیہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ افواہوں کے بجائے حقائق کو بنیاد بنایا جائے۔
پاکستان کی تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔ حکومتیں صرف اپوزیشن سے نہیں گرتیں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب عوام کے دلوں میں ان کی جگہ کم ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن صرف تنقید سے کامیاب نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت مضبوط بنتی ہے جب وہ عوام کو ایک قابلِ عمل متبادل راستہ دکھانے میں کامیاب ہو۔ سیاست میں مخالفت آسان ہے، مگر متبادل پیش کرنا مشکل ترین کام ہے۔
آج اگر ہم پورے سیاسی منظرنامے کا خلاصہ کریں تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے: حکومت کے پاس اقتدار ہے، مگر اسے عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ اپوزیشن کے پاس عوامی ناراضی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، مگر اسے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ مذہبی اور علاقائی جماعتیں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ عام شہری اب نعروں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتا ہے۔
قومیں صرف انتخابات سے نہیں بنتیں، بلکہ اداروں کی مضبوطی، معیشت کی پائیداری، قانون کی بالادستی اور سیاسی برداشت سے آگے بڑھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں وقتی فائدے سے بلند ہو کر ریاستی استحکام کو مقدم رکھیں تو اختلاف بھی طاقت بن سکتا ہے، لیکن اگر ہر فریق صرف اپنی فتح کو قومی کامیابی سمجھتا رہا تو نقصان سب کا ہوگا۔
شاید پاکستان کی موجودہ سیاست کا سب سے درست خلاصہ یہی ہے کہ یہ فیصلہ کن موڑ ضرور ہے، مگر آخری موڑ نہیں۔ یہ دبائو کا زمانہ ہے، مگر مایوسی کا نہیں۔ اختلاف کا دور ہے، مگر تصادم ناگزیر نہیں۔ امکانات بھی موجود ہیں اور خطرات بھی۔ اب یہ سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور سب سے بڑھ کر عوام کی اجتماعی دانش پر منحصر ہے کہ وہ اس راستے کو کس سمت لے جاتے ہیں۔
تاریخ کی کتابیں شور مچانے والوں کے نام ضرور لکھتی ہیں، مگر قوموں کی تقدیر ان لوگوں کے فیصلوں سے بدلتی ہے جو شور کے درمیان بھی عقل، توازن اور قومی مفاد کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ پاکستان کو آج شاید ایسے ہی تدبر کی ضرورت ہے۔





