افغانستان، وسط ایشیائی ریاستیں اور پاکستان

افغانستان، وسط ایشیائی ریاستیں اور پاکستان
روشن لعل
کسی کے کہیں پھنسے ہونے کا مطلب ، الجھا ہوا ہونا یا پھر بحرانوں کا شکار ہونا بھی ہوتا ہے۔ یہاں اگر یہ سوال کیا جائے کہ ہم کہاں پھنسے ہوئے ہیں تو ’’ ہم ‘‘ سے مراد ہمارا پاکستان ہے۔ ویسے یہ سوال کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کیونکہ اس کا بہت آسان اور سیدھا جواب یہ ہے کہ کچھ دیگر روایتی مسئلوں کے علاوہ ہم کل بھی افغانستان کے مسئلہ میں الجھے ہوئے تھے اور آج بھی اسی مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری ، افغانستان کے مسئلہ میں الجھنے کی تفصیل کچھ اس قسم کی ہے کہ اسے سننی والے بور ہونے کے علاوہ یہ جان کر حیران بھی ہوتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس مسئلے کی نوعیت تو تبدیل ہوتی رہی لیکن مسئلہ سے جڑی ہماری مشکلات میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ یہ مسئلہ جو ہمارے جسم کے ساتھ چمٹ کر جونک کی طرح ہمارا خون چوس رہا ہے اس کی ہمارے ملک سے جڑے ہونے کی عمر نصف صدی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ جس افغانستان کو ہم نے جونک ہونے کے باوجود خود اپنے جسم کے ساتھ چپکایا ، اس کے متعلق ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ہمارے لیے اس سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں، لیکن ایسا ضرور ہو سکتا ہے کہ اس جونک کی میوٹیشن کر کے اس کا کردار تبدیل کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران اور چین بھی افغانستان کے پرانے ہمسایہ ممالک ہیں۔ اسی طرح ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان وہ ملک ہیں جو سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد آزاد ممالک کے طور پر افغانستان کے ہمسائے بنے۔ اب اگر مسائل کا شکار کسی ملک کی ہمسائیگی کو ہی دوسرے ملک کے مسائل کی وجہ مان لیا جائے تو پھر افغانستان کے دیگر ہمسایہ ملکوں کو بھی ان مسائل میں الجھے ہوئے نظر آنا چاہیے جن میں پاکستان پھنسا ہوا ہے ،مگر ایسا نہیں ہے۔ یہاں خاص طور پر اگر ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک کبھی بھی افغان مسئلہ کے ساتھ اس طرح وابستہ نہیں ہوئے کہ کوئی ان کو اس مسئلہ کی آبیاری کرنے والوں میں شمار کرنا شروع کر دے ۔ ہاں، یہ ممالک ایسی کوششیں کرتے ہوئے ضرو ر نظر آئے جو افغان مسئلہ کو کسی خاص مقصد کے تحت حل کرانے کے لیے بلکہ صرف اور صرف علاقے میں تجارتی روابط بڑھانے اور معاشی ترقی کے لیے کی گئی تھیں۔
عرصہ دراز سے، افغانستان کی کوئی ایسی جائز پیداوار سامنے نہیں آسکی جو اسے تجارت کا مرکز بنا سکے۔ تجارتی مرکز کی بجائے افغانستان کے اہم تجارتی راہداری بننے کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے۔ اس گنجائش سے آگاہ ہونے ی وجہ سے وسط ایشیائی ریاستوں کی ہمیشہ یہ ترجیح رہی کہ افغانستان میں اس حد تک امن قائم ہو کہ اس کا محفوظ تجارتی راہداری کے طور پر استعمال ممکن ہو سکے۔ اس ترجیح کی بنیاد پر وسط ایشیائی ریاستیں نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کو بھی ایسی کانفرنسوں کا حصہ بناتی رہیں جن کا مقصد افغانستان کو محفوظ تجارتی راہداری بنانا تھا۔
ا س سلسلے کی ایک اہم کانفرنس جولائی 2021ء کے دوران ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں ہمارے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان ، افغان صدر اشرف غنی، بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ روس جاپان اور امریکہ کے اعلیٰ ریاستی عہدیداروں نے بھی شرکت کی تھی ۔ اس کانفرنس کے ایک ماہ بعد اگست 2021ء میں طالبان نے اشرف غنی کی حکومت ہٹا کر افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ وسط ایشیائی ریاستیں طویل عرصہ سے یہ کوششیں کر رہی تھیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ نہ صرف ان کے تجارتی سامان کی پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی ممکن ہو بلکہ وہ پاکستان کے زمینی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ دیں۔ کابل میں دوبارہ افغان حکومت قائم ہونے کے بعد اس سلسلے میں مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے دوران، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان اس تجارتی راستے کی تعمیر کا معاہدہ کر چکے تھے جو ازبکستان سے براستہ کابل، مزار شریف، ہمارے پشاور تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ازبکستان اس طرح کے معاہدے کرنے اور ان معاہدوں پر عمل درآمد کی کوششیں کتنے عرصہ سے کرتا چلا آرہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اولین صدر اسلام کریموف نے سب سے پہلے اقوام متحدہ کے 1993ء کے جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران افغانستان میں قیام امن اور وسطی و جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے تجاویز پیش کی تھیں ۔ یہ تجاویز قابل عمل تھیں مگر ان کے سامنے آتے ہی افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔ اس خانہ جنگی کی شدت کسی حد تک کم ہونے کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اسلام کریموف نے تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے رابطے قائم کیے ، بے نظیر کی حکومت کے خاتمے پر اس طرح کے رابطے پہلے میاں نوازشریف اور پھر مشرف سے بھی کیے گئے مگر 9؍11کے بعد جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں کارروائیاں شروع ہوئیں تو اسلام کریموف کو پھر خاموش ہونا پڑا۔ اسلام کریموف تو 2016ء میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے مگر ازبکستان نے ان کی موت سے پہلے اور بعد، جب بھی افغانستان میں حالات بہتر ہوتے دیکھے اپنی کوششیں پھر سے شروع کر دیں۔ اس طرح کی کوششوں کے نتیجے میں ہرات، پشاور تجارتی راستے کی تعمیر جیسے معاہدوں پر دستخط بھی ہوتے رہے مگر افغانستان میں آئے روز تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ایسے معاہدوں پر کبھی بھی خواہشوں کے مطابق عمل نہ ہو سکا
سطور بالا میں تاشقند میں منعقدہ جس کانفرنس کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے انعقاد کے دوران پاکستان کے علاقے چمن سے ملحقہ افغان علاقے سپن بولدک میں طالبان اور اشرف غنی کی فوجوں کے درمیان جنگ جاری تھی۔ اس حوالے سے عجیب بات یہ ہے کہ جب پاکستان کا وزیر اعظم اس وقت کے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے میں مصروف تھا عین اسی وقت ہمارا میڈیا اور مخصوص مذہبی دانشور ، طالبان کے اشرف غنی کی فوجوں پر غلبہ پانے کی خواہشات کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ افغان طالبان جو کبھی پاکستان کے نمک خوار تھے، اب بھارت کے خیر خواہ بن چکے ہیں۔ ایسا ہونے کے باوجود وہ پاکستانی عناصر اب بھی طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں جو کبھی اشرف غنی کو بھارت نواز قرار دے کر اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
تین برس قبل، افغانستان کا صدر اشرف غنی جس قدر بھارت کے قریب تھا ، افغان طالبان کی بھارتی حکام کے ساتھ قربتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ طالبان کے بھارت کے ساتھ قربتوں کی نوعیت کے متعلق بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن اس معاملے میں کچھ کہنے کی بجائے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اشرف غنی کے بھارت کا ہمنوا ہونے کے باوجود وسط ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ساتھ تجارتی مراسم بہتر بنانے کے لیے جو کام ہورہا تھا وہی کام طالبان کے بھارت کے قریب کے بعد کیوں نہیں ہوسکتا۔





