مولانا، سیاست اور شہداء کا لہو

مولانا، سیاست اور شہداء کا لہو
محمد نورالہدیٰ
مولانا منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ ہمیشہ تول کر بات کرتے ہیں۔ ان کے پارلیمانی اور سیاسی تجربے کا کوئی مقابل بھی نہیں۔ ان کے بیانات واضح سیاسی پیغام بھی رکھتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار وہ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو نہ صرف ان کی شخصیت کو متنازع بنا دیتی ہے بلکہ جس مخصوص ادارے پر وہ بات کرتے ہیں، اس کی حیثیت کو بھی متاثر اور ہمارے اجتماعی احساسات کو زخمی کر دیتے ہیں۔ پاک فوج کے حوالے سے ان کے حالیہ بیان نے کئی دلوں کے زخم ہرے کر دئیے ہیں۔
قصور میں گذشتہ دنوں ہونے والے ایک جلسے میں مولانا کہتے ہیں کہ ’’ فوج کلیم کرتی ہے کہ ہمارے جوان بھی شہید ہو رہے ہیں۔ ان کے جوانوں نے پیٹی اسی لئے باندھی ہے، وہ تنخواہ اسی بات کی لے رہے ہیں، کہ اس نے ملک کی سلامتی کیلئے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کے احسانات ہم پر مت گنوائو۔ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کی تنخواہ لیتے ہو‘‘۔
ہم سیاسیات کے طلباء نے مولانا سے سیاست اور گفتگو کا سلیقہ سیکھا ہے۔ ان کی سیاسی تشریحات اپنا ایک الگ ’’ مقام‘‘ رکھتی ہیں، جو ہماری پولیٹیکل گرومنگ کا بھی باعث بنتی رہتی ہیں۔ لیکن ملکی سرحدوں کے محافظوں کی شہادتوں کو تنخواہ اور ٹیکس کے پیمانے میں تولنا کسی صورت بھی مناسب عمل نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان بہت ذوق و شوق سے فوج کو جوائن کرتے ہیں۔ جب وہ وردی پہنتے ہیں تو وہ صرف ملازم نہیں رہتے بلکہ ایک ایسی ذمہ داری کا حلف اٹھاتے ہیں جس کی قیمت کبھی بھی اپنی جان سے ادا کرنا پڑ سکتی ہی۔ وہ یہ حقیقت بخوبی جانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس شعبے کو اپنے لئے منتخب کرتے ہیں، وگرنہ کس کا دل کرتا ہے کہ اپنی فیملی کو چھوڑ کر ایسی جگہ دن رات گزارے جہاں چاروں اطراف گولی کا خطرہ ہو، کس کا من چاہتا ہے کہ اس کے ماں باپ، بیوی بچے اس کی راہ تکتے رہیں اور وہ میدانِ جنگ میں ڈیوٹی کر رہا ہو، کس کا دل کرتا ہے کہ اپنے سوتے ہوئے بچے کا منہ چوم پر یہ کہہ کر گھر سے نکلے کہ ایمرجنسی کال آ گئی ہے، جلد واپس آئے گا اور بچے کے ساتھ کھانا کھائے گا، اسے کہیں گھمانے لے جانے کا وعدہ وفا کرے گا، لیکن اس کی واپسی سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر ہو۔
یہ درد صرف وہی بچے جان سکتے ہیں جن کے والد دیوار پر لگی صرف ایک تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ بیوائیں، جن کی ایک لمحے میں پوری زندگی کی خوشیاں چھن گئیں ہوں۔ وہ ماں باپ جن کی اپنے شہید بچے کے علاوہ کوئی دوسری اولاد نہیں تھی۔ یہ قربانیاں صرف کتابوں کے الفاظ نہیں بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں۔ آپ سیاسی اختلاف کرتے ہوئے ایل او سی پر موجود اس باپ کے جذبے کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں جس کے بیٹے نے معرکہ حق کے دوران شہادت پائی اور کرنل ظہیر نے اپنے شہید بیٹے کی میت کو درمیان راستے میں چھوڑتے ہوئے یہ کہا کہ ’ یہاں سے آگے پنڈی تک میری اہلیہ اور دوسرا بیٹا جنازہ لے کر جائیں گے، جبکہ میں واپس سرحد پر جا کر اپنا فرض ادا کروں گا‘۔ یہ وہ جذبہ ہے جسے نہ کسی تنخواہ سے ناپا جا سکتا ہے، نہ کسی مالی حساب کتاب سے۔ ایسے خاندانوں کے زخموں پر ’ تنخواہ لینے اور اپنے خون کے احسانات مت گنوانے‘ جیسے الفاظ نمک کا کام کرتے ہیں۔ ایسے بیانات وقتی تالیاں سمیٹ اگلے دن بھلا دئیے جاتے ہیں، لیکن شہداء کے گھروں میں برسوں گونجتے رہتے ہیں۔اگر آپ اسی بنا پر ایک فوجی کی قربانی کو معمولی سمجھتے ہیں تو پھر اس سیاستدان کے بارے میں کیا خیال ہی جو اسمبلی کی تنخواہ بھی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے لیتا ہے، لیکن اس کا حق ادا نہیں کرتا جو، پروٹوکول بھی انہی وسائل سے انجوائے کرتا ہے، فوج پر تنقید کرنے والے سیاستدان بھی تو کئی بار ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ کیا انہوں نے ایوان کی تنخواہ یا مراعات کو ٹھکرایا؟ اگر آپ خود پر یہ دلیل لاگو نہیں کرتے تو میرے اس فوجی جوان کا کیا قصور ہے جس کے بچوں نے اپنا باپ صرف اس لئے کھو دیا کہ ہم محفوظ رہ سکیں۔ یہ تو اپنی عیدیں بھی مورچوں میں گزارتے ہیں۔ بچوں کی سالگرہ چوکیوں میں بیٹھ کر صرف اپنی یادوں اور تصورات میں ہی منا سکتے ہیں۔ ہر دم موت کا خطرہ ان کے گرد منڈلا رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاتے، یہاں تک کہ اپنے بچوں کا خیال بھی ان کے حوصلے متزلزل نہیں کر پاتا، میرا فوجی جوان تو عمومی حالات میں بھی پروٹوکول کے بغیر پھرتا ہے۔ لیکن میرے ملک کا سیاستدان سیکورٹی ساتھ رکھتا ہے۔ عام پبلک کے بھی قریب آنے سے گھبراتا ہے۔ جلسہ کرتا ہے تو عوام سے کئی گز کا فاصلہ رکھ کر اسٹیج بنواتا ہے۔ تو پھر ہمارے بعض سیاسی قائدین کس حیثیت میں ہماری سرحدوں کے محافظوں پر ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ عوامی وسائل سے صرف فوج ہی نہیں، بلکہ پورا ریاستی نظام چلتا ہے۔
آپ نے فوج پر تنقید کرنی ہے کریں، لیکن کم از کم اعتراض تو مضبوط بنائیں۔ دلیل مضبوط نہیں تو ان بچوں کے آنسوں کو سیاسی تقاریر کا حصہ مت بنائیں جنہیں آپ کبھی دکھاوے کیلئے بھی پونجھنے نہیں گئے۔ وہ معصوم جب اپنے شہید باپ کی تصویر سینے سے لگا کر سوتا ہے تو اسے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے باپ کی تنخواہ کہاں سے آتی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ اس کا باپ اس وطن کی خاطر واپس نہیں آیا۔فوج کی قربانیاں کسی سیاسی بیانئے کی محتاج نہیں بلکہ قومی احترام کی مستحق ہیں۔ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہوں اور ٹیکس کی رسیدوں میں تلاش کرنا اور ان کے مقدس لہو کو سیاسی مناظروں کا موضوع بنایا جانا، یہ سیاست کا سب سے نچلا درجہ ہے۔ اختلاف رائے ضرور کیجئے، لیکن یاد رکھئے کہ جو سپاہی اپنے بچوں کے مستقبل کی قیمت پر قوم کا حال محفوظ بناتا ہے، اس کی قربانی کو کسی سیاسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔





