معافی: کمزوری نہیں، کردار کی معراج

معافی: کمزوری نہیں، کردار کی معراج
تحریر: یاسر دانیال صابری
زندگی میں انسان کو بہت سے دکھ سہنے پڑتے ہیں، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود پوری طرح نہیں بھرتے۔ شوہر یا بیوی کی بیوفائی، دوست کی غداری، یا کسی اجنبی کا ظلم وقت کے ساتھ دھندلا سکتا ہے، لیکن جب زخم اپنے ہی خون، اپنے ہی بھائی یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے ملے تو اس کی ٹیس عمر بھر دل میں باقی رہتی ہے۔ اعتماد کا ٹوٹ جانا صرف ایک تعلق کا خاتمہ نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے باطن میں ایک ایسی خاموش دراڑ پیدا کر دیتا ہے جو برسوں تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔
حضرت یوسفٌ کی معافی تاریخ کا روشن باب ہے، مگر صبر اور درگزر کی عظیم مثالیں حضرت محمدؐ اور حضرت علیؓ کی زندگیوں میں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔ فتحِ مکہ کے دن، جب رسولؐ اللہ کے پاس اپنے بدترین دشمنوں سے بدلہ لینے کا مکمل اختیار تھا، آپؐ نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ جائو، تم سب آزاد ہو‘‘۔ اسی طرح طائف میں سنگ باری کے باوجود آپؐ نے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی، نہ کہ ہلاکت کی۔ حضرت علیؓ نے بھی ہمیشہ عفو و درگزر، عدل اور تحمل کا راستہ اختیار کیا۔ جنگِ جمل اور دیگر فتنوں کے بعد انہوں نے مخالفین کے ساتھ انتقام کے بجائے عدل و رحم کا برتائو کیا اور اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے، بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے اور کسی کے مال و عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ حقیقی طاقت تلوار اٹھانے میں نہیں بلکہ غصے پر قابو پا کر معاف کر دینے میں ہے، کیونکہ معافی صرف ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ انبیاء اور صالحین کی سنت اور اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت یوسفٌ کا واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، صبر، امید اور معافی کا عظیم ترین درس ہے۔ بھائیوں نے حسد کی آگ میں انہیں کنویں میں پھینک دیا، والد کی محبت سے جدا کر دیا، غلامی کی زندگی میں دھکیل دیا اور برسوں کی جدائی کا سبب بنے۔ یہ صرف ایک سازش نہیں تھی بلکہ اعتماد، رشتے اور محبت پر کاری ضرب تھی۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفٌ کو عزت، اقتدار اور اختیار عطا کیا۔ وہ مصر کے بلند ترین منصب پر فائز ہوئے۔ ایک وقت آیا جب وہی بھائی ان کے سامنے محتاج بن کر کھڑے تھے۔ اگر وہ چاہتے تو انتقام لے سکتے تھے، سزا دے سکتے تھے یا انہیں رسوا کر سکتے تھے، مگر انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو صرف عظیم کردار والے انسانوں کا راستہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: ’’ آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے‘‘۔ یہی وہ جملہ ہے جس نے معافی کو انتقام پر ہمیشہ کے لیے برتری دے دی۔ معافی ظلم کو بھلانا نہیں تھی، نہ ہی ناانصافی کو درست قرار دینا تھا۔ یہ اپنے دل کو نفرت، کینہ اور انتقام کی زنجیروں سے آزاد کرنے کا اعلان تھا۔ حضرت یوسفٌ نے اپنے ماضی کو اپنی شخصیت پر مسلط نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے دکھ کو اپنی شناخت نہیں بنایا بلکہ اپنے کردار کو اپنی پہچان بنایا۔
آج ہمارا معاشرہ انتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔ بھائی بھائی سے، رشتہ دار رشتہ دار سے، دوست دوست سے اور پڑوسی پڑوسی سے معمولی اختلافات پر برسوں کی دشمنی پال لیتے ہیں۔ عدالتوں میں چلنے والے بے شمار خاندانی مقدمات، جائیداد کے جھگڑے اور ٹوٹتے ہوئے رشتے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم معاف کرنے کا حوصلہ کھو چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینے سے دل کو سکون مل جائے گا، حالانکہ نفرت سب سے پہلے نفرت پالنے والے کو ہی جلاتی ہے۔
معافی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ظلم کو قبول کر لیا جائے یا ظالم کو دوبارہ ظلم کا موقع دیا جائے۔ اسلام انصاف کا بھی حکم دیتا ہے، مگر اگر انسان دل میں نفرت کا بوجھ اٹھائے رکھے تو وہ خود اپنی روح کو قید کر لیتا ہے۔ معافی انسان کے دل کو ہلکا کرتی ہے، سکون دیتی ہے اور اللہ کی رضا کے قریب لے جاتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر رشتہ پہلے جیسا نہیں بن سکتا۔ بعض اوقات فاصلے رکھنا دانشمندی ہوتی ہے، مگر دل میں کینہ رکھنا کبھی دانشمندی نہیں ہوتا۔ حضرت یوسفٌ نے بھائیوں کو معاف کیا، مگر ان کی معافی کا اصل مقصد اپنے دل کو آزاد کرنا تھا، نہ کہ ماضی میں واپس جانا۔
آج اگر ہم اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں امن چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت یوسفٌ کے کردار سے سبق لینا ہوگا۔ طاقت کا اصل امتحان بدلہ لینی میں نہیں بلکہ معاف کر دینے میں ہے۔ عزت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اختیار ہونے کے باوجود انسان انصاف، رحم اور اعلیٰ اخلاق کا دامن نہ چھوڑے۔
معاف کرنا آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو دل کو سکون، رشتوں کو وقار اور انسان کو اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ بعض معافیاں دوسروں کے لیے نہیں ہوتیں، وہ ہماری اپنی روح کی آزادی ہوتی ہیں۔ اور یہی آزادی انسان کو حقیقی معنوں میں کامیاب بناتی ہے۔
آج کا معاشرہ عدم برداشت، جلد بازی اور انتقام کے رجحان کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلافات برسوں کی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں، خاندانی رشتے جائیداد اور انا کی نذر ہو رہے ہیں، دوستیاں مفادات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں اور سوشل میڈیا نے غصے، نفرت اور کردار کشی کو مزید ہوا دی ہے۔ ایسے ماحول میں صبر اور معافی کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صبر انسان کو جذبات پر قابو رکھنا سکھاتا ہے، جبکہ معافی دل کو نفرت اور انتقام کی قید سے آزاد کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں محبت، امن اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں انبیائے کرامٌ اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا، کیونکہ مضبوط وہ نہیں جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہو، بلکہ حقیقی مضبوط وہ ہے جو غصے کے باوجود صبر کرے اور معاف کرنے کا حوصلہ رکھے۔





