CM RizwanColumn

مولانا کی کمائی، شیدا کی ہرزہ سرائی؟

جگائے گا کون؟
مولانا کی کمائی، شیدا کی ہرزہ سرائی؟
تحریر: سی ایم رضوان
پاک فوج کے شہداء کی ہرزہ سرائی کر کے مولانا فضل الرحمان نے نہ صرف اپنا بلکہ اپنی سیاسی جماعت کا قد بھی چھوٹا کر لیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے جو کچھ ان دنوں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے وہ واقعی سو فیصد درست، کسی سیاسی ڈیل سے مبرا اور وطن عزیز کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز ( پاک فوج، ایف سی اور پولیس) کے جاری مشترکہ ’’ آپریشن شعبان‘‘ اور اس میں حاصل ہونے والی بڑی عسکری کامیابیوں پر ہی جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے سربراہ نے سیخ پا ہو کر حالیہ فوج مخالف بیان دیا ہے یا مولانا اور مقتدرہ کے درمیان موجودہ کھینچا تانی اور فوجی آپریشنز پر ان کا روایتی موقف آپریشن شعبان سے ہٹ کر اور پہلے کا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے فوجی آپریشنز پر جے یو آئی ( ف) کا دیرینہ روایتی موقف ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مولانا اور ان کی جماعت نے تاریخی طور پر قبائلی علاقوں اور اب بلوچستان یا پختونخوا میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فوجی آپریشنز ( جیسے ماضی کے آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور حالیہ عزمِ استحکام یا مقامی آپریشنز) پر ہمیشہ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا بنیادی سیاسی موقف بظاہر یہ رہا ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ مولانا کا موقف ہے کہ عسکریت پسندی کا مستقل حل گولی نہیں بلکہ مقامی سطح پر سیاسی مذاکرات ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مولانا یا اس ذہنیت کی حامل پی ٹی آئی وغیرہ دہشت گردوں کے لئے اپنے دل اور پالیسیوں میں واضح طور پر نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ اکثر یہ کمزور نکتہ اٹھاتے ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مقامی آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے اور سویلین کاروبار، معیشت تباہ ہو جاتی ہے، مقامی لوگوں میں ریاست کے خلاف دوریاں مزید بڑھ جاتی ہیں حالانکہ کیا اس سوال کا جواب ان کے پاس ہے کہ جب دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں تو تب بھی اسی نوعیت کے نقصانات اور خدشات کیوں سر اٹھاتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے مولانا فضل الرحمان کا مقتدرہ کے ساتھ رویہ انتہائی جارحانہ ہو گیا ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ 2022ء کے انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی موجودہ سویلین حکومت کو مقتدرہ کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت قرار دیتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ پر الیکشن میں دھاندلی کا کھلا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب مقتدرہ اپنی کامیابیوں ( جیسے آپریشن شعبان جس میں اب تک درجنوں ملک دشمن دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے) کو نمایاں کرتی ہے، تو مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدان سکیورٹی پالیسیوں کی سویلین بالادستی کے تناظر میں مخالفت کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے اس سیاسی ’’ مروڑ‘‘ کی ایک اصل وجہ ان کی سیاسی تنہائی بھی ہے اور دوسرا یہ بھی کہ جب بھی ریاست اور فوج دہشت گردی کے خلاف بڑے اور کامیاب فیصلے یکسوئی سے کرتے ہیں، تو سویلین سیاسی منظرنامے میں ’’ مصلحت پسند مڈل مین‘‘ ( بیک ڈور چینل سے ڈیلیں کرنے والے مہروں) کا کردار کمزور پڑ جاتا ہے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان مقتدرہ اور مذہبی یا عسکریت پسند حلقوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ریاست کی غیر لچکدار سکیورٹی پالیسی اور یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ان کی سیاسی سودے بازی کی طاقت کم ہو رہی ہے، جس کے باعث وہ عسکری پالیسیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے سنائی دے رہے ہیں۔ مقتدرہ کی بڑھتی ہوئی یکسوئی اور حالیہ آپریشنز کی کامیابی نے ان کی سیاسی بلیک میلنگ اور سودے بازی کے آپشنز کو ختم کر دیا ہے، جس کی تپش ان کے بیانات میں صاف دیکھی جا سکتی ہے کہ وہ پاک فوج کے شہداء تک کی بیحرمتی کرنے پر آ گئے ہیں حالانکہ ایک شہید کا جو مقام ایک عالم دین کو پتہ ہوتا ہے کسی اور کو نہیں مگر ان کے حسد اور محرومی نے انہیں جہالت کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے موصوف سربراہ اپنے اعمال کی روشنی میں ملکی سیاست کے ان چند چنیدہ کار سازوں میں شمار ہوتے ہیں جو ’’ مصلحت پسندی کی سیاست‘‘ اور ہر دورِ حکومت میں اقتدار کا حصہ بننے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان پر فوجی آمروں کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرنے اور اس کے بدلے میں سیاسی طاقت اور مالی فوائد حاصل کرنے کے شدید اور مضبوط الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ماضی قریب و بعید کے سیاسی منظر نامے پر ان کے کردار اور ان سے وابستہ چند اہم ترین واقعات کا احاطہ کریں تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ پرویز مشرف کے دورِ آمریت میں مولانا اور ان کے سیاسی اتحاد کا کردار سب سے زیادہ متنازع رہا۔ جب متحدہ مجلس عمل اور مشرف کی ڈیل ہوئی تھی۔ 2002ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’’ متحدہ مجلس عمل‘‘ نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جس کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان تھے۔ جہاں ایک طرف وہ مشرف کی مخالفت کا نعرہ لگا رہے تھے، وہیں پسِ پردہ انہوں نے مشرف حکومت کو اہم سیاسی سہارا بھی دیا اور مولانا کی قیادت میں ایم ایم اے نے مشرف کے ایل ایف او کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے لئے ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں آئین میں اٹھارہویں ترمیم ہوئی۔ اسی ترمیم کے تحت مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو دستوری تحفظ حاصل ہوا۔ انہیں وردی سمیت صدر رہنے کی اجازت ملی ( اگرچہ بعد میں انہوں نے وعدہ خلافی کی)۔ اس ترمیم کے طفیل صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی ملا۔ یوں مشرف کی سیاسی ضرورت بننے کے صلے میں مولانا فضل الرحمان کو 2004ء سے 2008ء تک قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا باوقار عہدہ ملا، جس نے انہیں ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر قائم کیا اور خوب نوازا۔ اس سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں ایم ایم اے کو اس وقت کے صوبہ سرحد ( خیبر پختونخوا) میں حکومت بنانے کا موقع ملا جہاں اکرم خان درانی وزیرِ اعلیٰ بنے اور وہ بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ بنے۔
یاد رہے کہ جنرل ضیاء الحق کے ( ماضی بعید) کے دورِ آمریت میں مولانا کا سیاسی آغاز ہوا تھا۔ اگرچہ وہ سیاسی طور پر ضیاء الحق کے خلاف قائم ہونے والے الائنس ایم آر ڈی کا حصہ تھے اور قید و بند کی صعوبتیں بھی کاٹیں، تاہم ان کی جماعت پر چند سنگین الزامات بھی لگتے ہیں کہ ضیاء دور میں امریکی فنڈنگ سے شروع ہونے والے افغان جہاد اور ملک بھر میں بننے والے نئے مدارس کے نیٹ ورک سے جے یو آئی کو زمینی سطح پر بے پناہ افرادی قوت اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہوا۔ مولانا کی جماعت نے اس ریاستی پالیسی کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس نے مستقبل میں ان کی سیاسی بقا کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ میں آمروں اور سویلین حکومتوں، دونوں سے مفادات حاصل کرنے کا ذکر اکثر ملتا ہے۔ یہ ’’ مولانا ڈیزل‘‘ کا لقب انہیں یوں ملا تھا کہ 1990ء کی دہائی میں دوسری بینظیر حکومت ( جس کا مقتدرہ کے ساتھ ایک خاص توازن تھا) کی حمایت کرنے پر مولانا فضل الرحمان کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا چیئرمین بنایا گیا۔ اسی دور میں ان پر مبینہ طور پر الزام لگا کہ انہوں نے وزارتِ پٹرولیم سے ڈیزل کی درآمد کے کمرشل پرمٹس حاصل کیے اور انہیں مبینہ طور پر مارکیٹ میں فروخت کر کے بھاری مالی فوائد حاصل کیے۔ اگرچہ مولانا اس کی تردید کرتے ہیں جس پر ہم تو یقین کرتے ہیں، لیکن ان کے سیاسی مخالفین ( خصوصاً تحریکِ انصاف اور دیگر جماعتیں) آج تک انہیں اسی لقب سے پکارتی ہیں۔ علاوہ ازیں وہ طویل عرصے تک قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، انہیں وفاقی وزیر کا درجہ، مراعات، سرکاری رہائش گاہ اور بھاری بجٹ حاصل رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقتدر حلقوں اور حکومتوں کے ساتھ مسلسل سمجھوتوں کے عوض اس عہدے کو اپنے سیاسی اور مالیاتی اثر و رسوخ کے لئے استعمال کیا۔ ان تمام حالات و واقعات کی وجہ سے یہ کہنا بجا ہو گا کہ مولانا فضل الرحمان کا سیاسی نظریہ ایک واضح اور کھرے نظریاتی جمود کے بجائے انتخابی اور پارلیمانی مصلحت پسندی کے گرد گھومتا ہے۔ انہوں نے جب بھی ضرورت پڑی، مقتدرہ یا فوجی آمروں کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے ’’ بیک ڈور چینل‘‘ کا کام کیا اور بدلے میں ہمیشہ اپنی جماعت کے لئے اقتدار کا حصہ، اہم سرکاری کمیٹیوں کے عہدے اور ترقیاتی فنڈز حاصل کیے۔ یہ بھی اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ان کے سیاسی مقاصد میں کمی یا رکاوٹ آتی ہے تو وہ ایسے بیانات دے دیتے ہیں جو ان کی اصل سیاسی شخصیت اور مقاصد سے پردہ اٹھا دیتے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں سیاست دانوں کے بیانات، نظریات اور سیاسی اقدامات کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، دشمن ممالک کی حمایت یا ملک کے اندرونی سرمایہ داروں ( جیسے ملک ریاض وغیرہ) سے مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات بھی اکثر عائد کیے جاتے ہیں۔ تاہم، مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج کے خلاف حالیہ بیانات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ اور غیر جانبدارانہ صورتحال یہ ہے کہ اب تک کسی ملکی ادارے، عدالت یا باضابطہ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ایسے کوئی دستاویزی یا قانونی ثبوت پیش نہیں کیے گئے جو یہ ثابت کریں کہ مولانا نے کسی دشمن ملک یا ملک ریاض جیسے بزنس ٹائیکون سے مالی مفادات لے کر فوج کے خلاف بیانات دئیے ہیں۔ پاکستان کی پولرائزیشن ( سیاسی نظریاتی تصادم) میں سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر بیرونی فنڈنگ، کرپشن اور حب الوطنی پر شکوک و شبہات کے الزامات عام طور پر لگاتے رہتے ہیں۔ یہ الزامات زیادہ تر بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود رہتے ہیں اور قانونی طور پر ثابت نہیں ہو پاتے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا یہ موقف ہے کہ ان کی تنقید یا سیاسی بیانات کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ آئین کی بالادستی، سویلین بالادستی اور پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کے کردار پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے بیانات کو ملک اور آئین کے دفاع کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ انہوں نے کسی مخصوص سرمایہ دار یا ملک دشمن قوت سے پیسے لے کر یہ بیانات دئیے ہیں، محض ایک سیاسی الزام ہے جس کی تائید میں تاحال کوئی دستاویزی یا قانونی ثبوت موجود نہیں ہے۔

جواب دیں

Back to top button