ColumnImtiaz Aasi

بلوچستان میں چھٹا آپریشن

بلوچستان میں چھٹا آپریشن
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ایوبی دور کے بعد ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اور قدرتی معدنیات سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں آج کل چھٹا آپریشن ہو رہا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری آپریشن میں ہماری بہادر فورسز کے جوان آئے روز شہید ہورہے ہیں اور ان کے ساتھ دہشت گرد بھی جہنم واصل ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی حکومتوں کے باوجود وہاں کے لوگوں کا مختلف تنظیمیں قائم کرنا اور خصوصا بلوچستان لبریشن الائنس میں شامل لوگوں کا تعلق کیا کسی اور ملک سے ہے یا وہ اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔بدقسمتی سے عشرے گزرنے کے باوجود صوبے کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ایسے لوگوں کو اقتدار میں بٹھایا گیا جو عوام کے حقیقی نمائندے نہیں تھے۔ قارئین کو یاد ہوگا ایوبی دور میں پہاڑوں پر جانے والے افراد کو قرآن پاک پر حلف دے کر واپس بلا کر پھانسی دے دی گئی جس کے بعد وہاں کے لوگوں میں اضطراب کا پیدا ہونا قدرتی امر تھا۔ نواب محمد اکبر خان بگٹی کی موت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور شورش میں اضافہ ہوتا گیا۔ آپ دیکھیں خان آف قلات کے بیٹے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جی وہی خان آف قلات میر احمد یار خان جنہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو خوش آمدید کہا تھا اور ریاست قلات کا الحاق مملکت پاکستان کے ساتھ کیا تھا۔ قائد کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں دفاع، خارجہ امور اور کرنسی وفاق کی ذمہ داری اور دیگر امور صوبے کی ذمہ داری تھی لیکن نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باجود معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا۔ آئین میں دیئے گئے صوبے کے حقوق سے وہاں کے عوام محروم کیوں ہیں؟ یہ بات درست ہے حکومت نے آئین اور قانون کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ بلوچستان کے عوام جو جس صورت حال کا سامنا ہے ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ عوام سڑکوں پر آنے سے گریز کرتے ہیں نہ ہی گھروں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جن سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں بٹھایا گیا انہیں اپنے اقتدار کے سوا کوئی اور مفاد عزیز نہیں تھا جس کے نتیجہ میں آج صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آخر پہاڑوں پر جانے والے لوگ کون ہیں کوئی غیر ملکی ہیں یا اسی صوبے کے رہنے والے ہیں ان سے بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ جیلوں میں ڈالنے اور سزائوں سے حالات درست نہیں ہوتے بلکہ حالات مزید خراب ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ ہم بلوچستان کا ملک کے دیگر صوبوں سے موازنہ کریں تو وہاں کے لوگ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ پینے کا پانی انہیں میسر نہیں تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے ایسے حالات میں ملک دشمن قوتوں کو اور کیا چاہیے۔ اس وقت جس صورت حال کا ریاست کو سامنا ہے کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ہماری بہادر افواج کے لوگ بھی تو شہید ہو رہے ہیں۔ دنیا میں کسی مسئلے کا حل کیوں نہیں ہے۔ پاکستان بنا تو شورش شروع ہو گئی اگر ابتدا میں وہاں کے رہنے والوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور عوام کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار کی باگ دوڑ دی جاتی تو امید کی جا سکتی تھی صوبے کے حالات ایسے نہیں ہوتے جیسے آج کل ہیں۔ بلوچستان کے کئی شہروں میں ناکے لگے ہوئے ہیں عوام سفر کرنے سے گریزاں ہیں گھروں سے باہر نکلنا لوگوں کا محال ہو چکا ہے لیکن ہم سب اچھے کی گردان سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلوچستان کے چند علاقے ایسے ہیں جہاں کے لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں جیسا کہ آواران خاص طور پر اس سلسلے میں مشہور ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے تاہم یہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمیں مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں قبیلوں کے سردار ہوں انہیں آگے لانے کی ضرورت ہے۔ ہائبرڈ نظام کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، لہذا بلوچستان میں اقتدار لوگوں کے حقیقی نمائندوں کو دے کر یہ تجربہ بھی کر لیا جائے تو دہشت گردی کے خاتمی میں مدد مل سکتی ہے۔ آئین میں دیئے گئے صوبوں کے حقوق وہاں کے لوگوں کا حق ہے جس سے ان کا دستبردار ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ آخر آئین میں دیئے گئے حقوق دینے سے کوئی قیامت آجائے گی اسی طرح ناراض لوگوں کو پہاڑوں سے اترنے کے بعد عام معافی کا اعلان کرنے سے حالات بہتری کی طرف جائیں گے یا پہلے سے زیادہ خراب ہوں گے۔ اگر دشمن ملک وہاں کے لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے تو حکومت کو ایسے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے تیزی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایک وقت تھا جب غیر ملکی سیاح زیارت میں صنوبر کے باغات سے لطف اندوز ہونے کے لئے آیا کرتے تھے اور ملک کو اچھا خاصا سرمایہ آتا تھا وہ بھی دہشت گردی کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے قدرتی معدنیات سے بھرا ہوا صوبہ قیام پاکستان سے اب تک شورش کا شکار ہے۔ کئی آپریشن ہو چکے ہیں اور اب بھی جاری ہے وہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لانے کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں مشرقی پاکستان کے سانحہ سے سبق سیکھنا چاہیے ملک دو لخت ہو گیا چند روز آنسو بہانے کے بعد ہم اتنے بڑے سانحہ کو بھول چکے ہیں۔ آج بنگلہ دیش ترقی کے معاملے میں ہم سے کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے ہم مقروض سے مقروض تر ہوتی جا رہے ہیں ملک لوٹنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر مقدمات بنے تو اقتدار میں آنے کے بعد قوانین میں ترمیم کرکے اپنے خلاف مقدمات ختم کرا لئے۔ عوام کے ساتھ یہ مذاق کب تک ہوتا رہے گا۔ آج سیاست دانوں کو جتنی مل بیٹھنے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ اللہ کے لئے اس ملک کو بچائیں اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر ملک کو چلنے دیں۔ ملک کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ کریں تو ان شاء اللہ ایک روز ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن سکتا ہے مگرا س مقصد کے لئے ہمیں اخلاص سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button