ایک کلاس نہیں، ایک پورا دن استاد بن کر دیکھیے

ایک کلاس نہیں، ایک پورا دن استاد بن کر دیکھیے
تحریر: رفیع صحرائی
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کو یہ ہدایت دینا کہ وہ ہفتے میں ایک دن کسی سکول میں جا کر کلاس لیا کریں، بظاہر ایک سادہ مگر اپنے اندر کئی مثبت امکانات رکھنے والا فیصلہ ہے۔ دنیا بھر میں کامیاب انتظامی نظاموں کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ پالیسی ساز افراد زمینی حقائق سے براہِ راست آگاہ رہیں۔ جب فیصلہ کرنے والا شخص خود میدان میں اترتا ہے تو اسے کاغذی رپورٹوں اور عملی صورتحال کے درمیان موجود فاصلے کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
تعلیم چونکہ قوموں کے مستقبل سے جڑا ہوا شعبہ ہے، اس لیے اس میدان میں کام کرنے والے افراد کے مسائل، ضروریات اور چیلنجز کو سمجھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر وزیرِ تعلیم سکولوں میں جا کر طلبہ کے ساتھ بیٹھیں، اساتذہ سے گفتگو کریں اور تدریسی عمل کا حصہ بنیں تو اس سے یقیناً مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا محض ایک کلاس لینے یا چند منٹ کا سبق پڑھا دینے سے ایک استاد کی پوری دنیا کو سمجھا جا سکتا ہے؟
جو لوگ تعلیم کے شعبے سے وابستہ نہیں، ان کی بڑی تعداد آج بھی یہی سمجھتی ہے کہ استاد کا کام صرف کتاب کھول کر سبق پڑھانا اور گھنٹی بجنے پر کلاس سے باہر آ جانا ہے، حالانکہ حقیقت اس تصور سے کہیں زیادہ مختلف اور پیچیدہ ہے۔ اگر وزیرِ تعلیم واقعی سرکاری سکولوں کی اصل تصویر دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ہفتے میں صرف ایک کلاس نہیں بلکہ ایک پورا دن کسی دیہی یا نیم شہری سرکاری پرائمری سکول میں ایک عام استاد کے طور پر گزارنا چاہیے۔ شاید اس دن انہیں پہلی مرتبہ معلوم ہو کہ استاد کی ڈیوٹی گھنٹی بجنے سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور سکول بند ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔
پنجاب کے ہزاروں سرکاری پرائمری سکول ایسے ہیں جہاں درجہ چہارم کا ایک بھی ملازم موجود نہیں۔ چنانچہ سکول کا تالا کھولنے سے لے کر شام کو اسے بند کرنے تک ہر ذمہ داری استاد ہی کے حصے میں آتی ہے۔ صبح سویرے سکول پہنچ کر کمروں کے تالے کھولنا، صحن کی صفائی کا انتظام کرنا، پانی کی موٹر چلانا، چھڑکا کرنا، واش رومز کی صفائی کا جائزہ لینا، بینچوں اور ڈیسکوں کو درست حالت میں رکھنا اور تعلیمی ماحول کو بچوں کے لیے موزوں بنانا اکثر اسی استاد کی ذمہ داری بن جاتا ہے جسے معاشرہ صرف ’’ پڑھانے والا‘‘ سمجھتا ہے۔
اس کے بعد اصل تدریسی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
بہت سے سرکاری پرائمری سکولوں میں صرف دو اساتذہ پانچ جماعتوں کو سنبھال رہے ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں پہلی جماعت کو حروفِ تہجی، دوسری کو املا، تیسری کو ریاضی، چوتھی کو سائنس اور پانچویں کو اردو یا انگریزی پڑھانا معمول کی بات ہے۔ مختلف عمر، مختلف ذہنی استعداد اور مختلف تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کو ایک محدود وقت میں سنبھالنا کسی بھی ماہرِ تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
کلاس روم کے اندر بھی استاد کی ذمہ داریاں محض تدریس تمحدود نہیں ہوتیں۔ کسی بچے کا بستہ گم ہو گیا، دو بچوں میں لڑائی ہو گئی، کوئی طالب علم بیمار ہو گیا، کسی کے والدین کی علیحدگی نے اس کی نفسیات پر اثر ڈالا، کسی بچی کی تعلیم چھڑوانے کی تیاری ہو رہی ہے یا کوئی طالب علم مسلسل غیر حاضر رہنے لگا ہے، یہ تمام مسائل سب سے پہلے استاد کے سامنے آتے ہیں۔ یوں استاد صرف معلم نہیں رہتا بلکہ مشیر، منتظم، سماجی کارکن اور بعض اوقات ثالث کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔
پھر حاضری کا مرحلہ آتا ہے۔ محکمانہ ہدایات کے مطابق طلبہ کی حاضری کا ایک مخصوص تناسب برقرار رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ جو بچے سکول نہیں آتے، ان کے والدین سے رابطہ کرنا، گھروں تک پیغام پہنچانا اور انہیں بچوں کو سکول بھیجنے پر آمادہ کرنا بھی اساتذہ کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں یہ کام مزید مشکل ہو جاتا ہے جہاں غربت، بچوں سے مزدوری لینا، انہیں اپنے ساتھ کھیتوں میں لے جانا اور والدین کی تعلیمی بے خبری مستقل رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔
یہی نہیں، اساتذہ کو تدریس کے ساتھ ساتھ متعدد انتظامی اور سرکاری سرگرمیوں میں بھی مصروف رہنا پڑتا ہے۔ کبھی ڈینگی سرویلنس کی تصاویر اپ لوڈ کرنا ضروری ہوتا ہے، کبھی آن لائن پورٹلز پر ڈیٹا انٹری کرنی ہوتی ہے، کبھی داخلہ مہم چلانی ہوتی ہے، کبھی مردم شماری یا انتخابی عمل میں حصہ لینا پڑتا ہے اور کبھی مختلف سرویز اور حکومتی مہمات کے لیے اضافی ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استاد کا قیمتی وقت، جو بچوں کی تعلیمی بہتری پر صرف ہونا چاہیے، کاغذی کارروائیوں اور غیر تدریسی امور کی نذر ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری ہاں اساتذہ کے ساتھ احتساب کا نظام تو بہت سخت ہے مگر سہولتوں کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ کئی سکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، کہیں چار دیواری نامکمل ہے، کہیں واش روم ناکافی ہیں اور کہیں بچوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب فرنیچر تک موجود نہیں۔ بعض سکولوں میں گرمیوں میں پنکھے اور سردیوں میں ہیٹر تو درکنار، بجلی کی فراہمی بھی ایک مسئلہ بنی رہتی ہے۔ اس کے باوجود امتحانات کے نتائج اور کارکردگی کے تمام تر بوجھ کا مرکز صرف استاد کو بنا دیا جاتا ہے۔
اگر کسی دن سکول کی صفائی میں معمولی کمی رہ جائے، کسی کمرے میں گرد نظر آ جائے یا کسی رپورٹ کی بروقت اپ لوڈنگ نہ ہو سکے تو متعلقہ استاد وضاحتوں، شوکاز نوٹسوں اور محکمانہ کارروائیوں کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں خوف کبھی بھی تخلیق اور بہتری پیدا نہیں کرتا۔ دنیا کے کامیاب تعلیمی نظاموں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک نے اپنے اساتذہ کو قومی اثاثہ سمجھا، انہیں عزت دی، اعتماد دیا اور غیر ضروری انتظامی بوجھ سے آزاد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں استاد کا زیادہ تر وقت تدریس، تحقیق اور طلبہ کی ذہنی نشوونما پر صرف ہوتا ہے۔
پاکستان میں بھی اگر تعلیمی انقلاب برپا کرنا ہے تو سب سے پہلے استاد کو دوبارہ استاد بنانا ہوگا۔
اسی طرح مانیٹرنگ کا نظام سزا اور خوف کے بجائے رہنمائی اور معاونت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں استاد خود کو مشتبہ فرد نہیں بلکہ تعلیمی شراکت دار محسوس کرے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی یہ تجویز اگر صرف ایک علامتی سرگرمی کے بجائے ایک وسیع تعلیمی اصلاحی پروگرام کی بنیاد بن جائے تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر وزیرِ تعلیم خود کسی دیہی سکول میں ایک دن گزاریں، صبح تالہ کھولنے سے شام کو تالہ لگانے تک تمام فرائض سرانجام دیں، مختلف جماعتوں کو پڑھائیں، والدین سے ملیں، حاضری کا جائزہ لیں اور آن لائن پورٹلز پر رپورٹس اپ لوڈ کریں تو شاید انہیں اندازہ ہو جائے کہ سرکاری سکول کا استاد کن حالات میں قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قوموں کے مستقبل ایوانوں میں نہیں بلکہ کلاس رومز میں تشکیل پاتے ہیں، اور کلاس روم کا محور استاد ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیمی انقلاب چاہتے ہیں تو ہمیں استاد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامنا ہوگا، اس کے مساءل سننے ہوں گے اور اسے وہ عزت، اعتماد اور سہولتیں دینی ہوں گی جن کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ایک مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے مضبوط عمارتیں نہیں بلکہ مضبوط اساتذہ درکار ہوتے ہیں۔ تعلیمی اصلاحات کا آغاز اساتذہ، ان کی مشکلات، ضروریات اور درپیش زمینی حقائق کو سمجھنے سے ہی ممکن ہے۔





