توانائی میں پاک سعودیہ شراکت داری: روشن مستقبل کی بنیاد

اداریہ۔۔۔
توانائی میں پاک سعودیہ شراکت داری: روشن مستقبل کی بنیاد
دنیا اس وقت توانائی کے ایک نئے دور سے گزر رہی ہے۔ تیل اور گیس کی روایتی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر، اسمارٹ گرڈز، جدید ٹرانسمیشن سسٹمز اور توانائی کی مثر تقسیم اب ترقی یافتہ معیشتوں کی بنیادی ترجیحات بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے لائحہ عمل پر اتفاق نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے بھی ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا تجارتی نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ رشتوں پر استوار ہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، چاہے وہ مالی معاونت ہو، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا ہو یا تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی۔ اسی طرح پاکستان نے بھی ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہی باہمی اعتماد آج اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں نئی جہت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی قیادت میں پاکستانی وفد کی ریاض میں سعودی انرجی ورکنگ گروپ سے ملاقات اور پاور سیکٹر میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اس حقیقت کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک اب روایتی تعلقات سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی طرف گامزن ہیں۔ خاص طور پر اسمارٹ میٹرنگ، ڈیجیٹلائزیشن، ٹرانسمیشن گرڈ کی توسیع اور جدید یوٹیلٹی ٹیکنالوجیز میں تعاون پاکستان کے توانائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کا توانائی کا شعبہ کئی برسوں سے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ بجلی کی پیداوار اور طلب میں عدم توازن، پرانا ٹرانسمیشن نظام، لائن لاسز، بجلی چوری، گردشی قرضے اور تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی ایسے چیلنجز ہیں جنہوں نے ملکی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر بنیادی اصلاحات کا عمل مطلوبہ رفتار سے آگے نہ بڑھ سکا۔ نتیجتاً صنعت، تجارت، زراعت اور گھریلو صارفین سبھی اس بحران کے اثرات بھگتتے رہے۔ ایسے میں اگر سعودی سرمایہ کاری جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ میٹرنگ اور قومی ٹرانسمیشن گرڈ کی بہتری میں استعمال ہوتی ہے تو اس سے صرف بجلی کی فراہمی ہی بہتر نہیں ہوگی بلکہ لائن لاسز میں کمی، محصولات میں اضافہ اور گردشی قرضوں پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ڈیجیٹل توانائی کے نظام کے ذریعے نہ صرف بجلی چوری میں نمایاں کمی کی بلکہ صارفین کو بھی بہتر اور شفاف خدمات فراہم کیں۔ پاکستان بھی اس سمت میں پیش رفت کر سکتا ہے، بشرطیکہ منصوبوں پر عمل درآمد سنجیدگی، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ کیا جائے۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کا شدت سے خواہاں ہے۔ معاشی استحکام کے لیے ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کریں، صنعتی ترقی کا سبب بنیں اور جدید ٹیکنالوجی ملک میں منتقل کریں۔ سعودی عرب کے وژن 2030ء کے تحت دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے وسیع منصوبے جاری ہیں۔ اگر پاکستان اس وعن کا مثر حصہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور قابلِ تجدید توانائی سمیت کئی شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف سرمایہ کاری کے وعدے کافی نہیں ہوتے۔ پاکستان کو اپنی داخلی اصلاحات پر بھی پوری توجہ دینا ہوگی۔ پالیسیوں میں تسلسل، سرمایہ کاروں کے اعتماد کا تحفظ، شفاف قوانین، بروقت فیصلے، بیورو کریسی کی رکاوٹوں کا خاتمہ اور معاہدوں پر موثر عمل درآمد وہ عوامل ہیں جو کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ ماحول فراہم نہ کیا گیا تو بہترین مواقع بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کے متبادل ذرائع کی کوئی کمی نہیں۔ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن ان سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔ سعودی عرب گزشتہ چند برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک اس شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرتے ہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکے گا بلکہ ماحول دوست توانائی کی طرف بھی کامیابی سے پیش قدمی کرے گا۔ وفاقی وزیر توانائی کی جانب سے سعودی انرجی ورکنگ گروپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی مثبت پیش رفت ہے۔ اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے سے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کو زمینی حقائق کا براہِ راست جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ملاقاتوں کے نتائج صرف مشترکہ اعلامیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ جلد از جلد عملی منصوبوں کی صورت اختیار کریں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون دراصل ایک وسیع تر اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا تو نہ صرف پاکستان کے توانائی بحران میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ صنعتی پیداوار، برآمدات، روزگار اور مجموعی اقتصادی ترقی کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور خطے میں اقتصادی استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔ آخرکار یہ کہنا بجا ہوگا کہ توانائی صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی ترقی، صنعتی خودکفالت اور معاشی استحکام کی بنیاد ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کا یہ نیا باب امید افزا ضرور ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار موثر حکمتِ عملی، شفاف طرزِ حکمرانی، بروقت فیصلوں اور عملی اقدامات پر ہوگا۔ اگر دونوں ممالک اپنے عزم کو منصوبوں کی صورت میں ڈھالنے میں کامیاب رہے تو یہ شراکت داری نہ صرف پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرے گی بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی ایک نئی اور روشن تاریخ بھی رقم کرے گی۔
شذرہ۔۔۔
دہشتگردی کیخلاف عزم کی تجدید
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری مشترکہ ’’ آپریشن شعبان‘‘ دہشت گردی کے خلاف ریاست کے غیر متزلزل عزم کا واضح اظہار ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں مزید دہشت گردوں کی ہلاکت اور گزشتہ چند روز کے دوران بڑی تعداد میں شدت پسندوں کا خاتمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست امن دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ دہشت گردی نے برسوں سے بلوچستان کے امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا خمیازہ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک نے بھگتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کے لیے جغرافیائی، معاشی اور دفاعی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، سی پیک اور سرحدی محلِ وقوع نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد اور تخریب کار عناصر اس خطے میں بدامنی پھیلا کر قومی ترقی کے منصوبوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مربوط کارروائیاں نہ صرف دہشت گردوں کے عزائم ناکام بناتی ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی طاقت سے نہیں جیتی جاسکتی۔ اس کے لیے انٹیلی جنس اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صوبائی حکومت، مقامی آبادی اور سیاسی قیادت کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ معلومات کے تبادلے، منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردی کے خلاف نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ دیرپا امن کے لیے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنا اور انہیں شدت پسند عناصر کے اثر سے دور رکھنا قومی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ عوام کا اعتماد ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ثابت ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد رہے اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے۔ امن، استحکام اور ترقی کا سفر اسی وقت کامیاب ہوگا جب ریاستی ادارے، عوام اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر رہ کر قانون کی حکمرانی اور قومی سلامتی کو مقدم رکھیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا تسلسل ہی بلوچستان اور پاکستان کے روشن، پرامن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔







